اسلام ٹائمز 25 Sep 2019 گھنٹہ 13:50 https://www.islamtimes.org/ur/article/818323/بھارت-میں-توہین-ا-میز-فلم-کی-تیاری -------------------------------------------------- ٹائٹل : بھارت میں توہین آمیز فلم کی تیاری -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: وسیم رضوی مودی کا ایسا عاشق زار ہے، جس نے اعلان کیا تھا کہ اگر انتخابات میں مودی کامیاب نہ ہوا تو وہ خودکشی کر لے گا، ہماری رائے یہ ہے کہ اس نے یہ فلم بنا کر دراصل خودکشی ہی کی ہے۔ اس نے اپنی انسانیت کو مار دیا ہے۔ اس نے اپنی آدمیت کا قتل کیا ہے اور وہ اسی قتل کے جرم میں پروردگار کے حضور مجرم کی حیثیت سے پیش کیا جائیگا۔ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرتؐ کی توہین سے بڑا کائنات میں کوئی جرم نہیں ہوسکتا اور کسی انسان کی تباہی اور بربادی اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ وہ کوئی ایسا کام کرے، جسکی بازگشت محبوب خدا ؐ کی "معاذ اللہ" توہین کیطرف ہوتی ہے۔ متن : تحریر: ثاقب اکبر خبر غمناک ہے اور درد انگیز بھی، لیکن حیرت انگیز نہیں، اس لیے کہ نریندر مودی کے کسی یار سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ خبر ایک توہین آمیز فلم کے بارے میں ہے، جس کا فلم ساز وسیم رضوی نامی بھارتی باشندہ ہے، جس کا دین گریز ہونا طشت ازبام ہوچکا ہے۔ یہ وہی شخص ہے جسے بی جے پی کی حکومت نے اتر پردیش کے شیعہ وقف بورڈ کا چیئرمین بنا رکھا ہے اور جو سمجھتا ہے کہ اس بورڈ کے تحت اوقاف کا اب وہ مالک و مختار ہے، جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عطا کر دے۔ اس کی ایسی حرکات کو شیعہ مراجع پہلے ہی غلط اور خلاف شریعت قرار دے چکے ہیں۔ اس نے ایک مسجد کی زمین کو کسی اور مصرف کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تو اس کے خلاف معروف بھارتی عالم، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر سید کلب جواد اور دیگر علماء نے اس کے اس اقدام کو خلاف شریعت قرار دیا۔ یہ وہ ہی شخص ہے جس پر کرپشن کے کئی مقدمات درج ہوچکے ہیں۔ اس پر اربوں روپے کی وقف املاک کے غبن کا انکشاف ہونے پر بھارت کے مختلف شہروں میں پندرہ مختلف ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں۔ وہ ان مقدمات سے بچنے کے لیے بی جے پی اور نریندر مودی سے اپنی قربت کو سہارا بنا رہا ہے۔ اس کی حالیہ شنیع حرکت نے اس کی شیطانی ماہیت کو مزید آشکار کر دیا ہے۔ اس نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کے نام پر اپنی فلم کا انتہائی فحش اور اشتعال انگیز ٹریلر جاری کیا ہے، جسے ایک عام شریف آدمی بھی نہیں دیکھ سکتا۔ یقیناً اس حرکت کا مقصد مسلمانوں کے مابین اختلاف اور افتراق پیدا کرنا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآن و سنت پر ایمان رکھنے والا ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد کی فکر میں رہتا ہے اور افتراق ہمیشہ شیطان اور شیطانی قوتوں کا ہدف رہا ہے۔ وسیم رضوی وہی بدباطن شخص ہے، جو پہلے بھی ایک ایسی فلم بنا چکا ہے، جس کا مقصد شیعہ سنی اور ہندو مسلم فساد کی آگ کو بھڑکانا تھا۔ اس حوالے سے اللہ کا کرم ہوا کہ وہ فلم بری طرح سے ناکام ہوگئی۔ ہندوئوں اور مسلمانوں دونوں نے اسے مسترد کر دیا، ہمیں یقین ہے کہ اس کی تازہ مذموم کوشش بھی اسی طرح سے ناکام ہو جائے گی۔ اس کے ایسے کاموں کی وجہ بھارت کے شیعہ سنی علماء اسے منافق اور بے دین قرار دے چکے ہیں۔ وسیم رضوی کی دین دشمنی کے کئی مظاہر پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، یہی وہ شخص ہے کہ جس نے تمام دینی مدارس پر پابندی کا مطالبہ کیا اور انہیں دہشت گردی کے اڈے قرار دیا۔ یہ وہی نقطہ نظر ہے، جو مغربی استعمار اور برہمن سامراج کے ہاں مقبول ہے۔ اس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بے جی پی کی حکومت سکولوں اور کالجوں میں اسلام سکھانے کے لیے خود سے کوئی نصاب مرتب کرے۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں کس طرح کا اسلام مسلمان بچوں کو سکھایا جاسکتا ہے! اس کی یہ حرکت بھی ان کے ہاں مقبول ہونے کی ایک کوشش ہی قرار دی جاسکتی ہے۔ وسیم رضوی ہی وہ شخص ہے کہ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ رام جی اس کے خواب میں آئے ہیں اور انھوں نے اسے بتایا ہے کہ بابری مسجد ان کی جنم بھومی پر بنائی گئی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس کے خواب میں رام جی بہت گریہ کر رہے تھے۔ یہ وہ خواب ہے جو نریندر مودی کو بھی نہیں سوجھا اور کسی انتہا پسند ہندو کو بھی نہیں آیا، لیکن ہندوتوا کے اس مسلمان نما عاشق نامراد کو یہ شرف حاصل ہوا کہ رام جی نے بابری مسجد کی ساری رام کہانی ان کے خواب میں آکر رو رو کر کہہ ڈالی۔ اپنی ایسی ہی تمام رسوا کن حرکتوں کی وجہ سے یہ شخص تمام مسلمانوں میں منفور قرار پایا ہے اور کوئی مسلمان بھی اسے منہ لگانے کے لیے تیار نہیں۔ شاید اس کی دنیا و آخرت میں رسوائی کا آخری شاخسانہ یہی فلم قرار پائے کہ جو وہ نبی کریمؐ کی زوجہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے نام پر بنا رہا ہے۔ اسی فلم کی خبر پہنچنے کے بعد پاکستان میں سب سے پہلا ردعمل جامعۃ الکوثر اسلام آباد کے سربراہ مفسر قرآن جناب شیخ محسن علی نجفی کی طرف سے بلایا گیا علمائے کرام کا وہ ایمان افروز اجلاس تھا، جو جامعہ کے المصطفیؐ آڈیٹوریم میں 24 ستمبر 2019ء کو منعقد ہوا۔ اجلاس سے استاذ الاساتذہ جناب شیخ محسن علی نجفی کے علاوہ شیعہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی، علامہ شیخ محمد انور نجفی، استاد جامعہ انتصار جعفری، علامہ انیس الحسنین خان اور راقم نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر ندیم عباس نے جہاں نظامت کے فرائض انجام دیئے، وہاں موضوع کی مناسبت سے وسیم رضوی کے کالے کرتوتوں سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ علمائے کرام نے اس مذمتی اجلاس کے اختتام پر ایک اعلامیہ کی اتفاق رائے سے منظوری دی، جس کے نکات مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ ہم بھارت میں ام المومنین حضرت عائشہؓ پر بنائی جانے والی فلم کو درحقیقت شانِ رسالتؐ میں گستاخی سمجھتے ہیں، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور فلم بنانے والے سے برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ 2۔ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فلم کے کسی بھی حصے کی پاکستان میں نشر ہونے پر پابندی لگائی جائے، میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔ فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب کی انتظامیہ سے رابطہ کرکے اس فلم پر پابندی لگوائی جائے۔ جو لوگ اس فلم کو پھیلا کر معاشرے میں انتشار پیدا کریں، انہیں مودی کی سازش کا سہولت کار قرار دیا جائے۔ 3۔ ہم اہل پاکستان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ مودی کی اس سازش کو اپنے اتحاد و وحدت سے ناکام بنا دیں اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں، جو افتراق پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ 4۔ ایسے وقت میں جب دنیا بھر کی مسلم دشمن قوتیں مسلمانوں کے خلاف متحد ہوچکی ہیں، ہمیں ان سازشوں کو سمجھ کر انھیں ناکام بنانا ہوگا۔ 5۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ امت میں انتشار کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا کوئی مسلک نہیں، وہ فقط اور فقط مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ ہم اپنی اس تحریر کو یہ امر یاد دلانے پر ختم کرتے ہیں کہ وسیم رضوی مودی کا ایسا عاشق زار ہے، جس نے اعلان کیا تھا کہ اگر انتخابات میں مودی کامیاب نہ ہوا تو وہ خودکشی کر لے گا، ہماری رائے یہ ہے کہ اس نے یہ فلم بنا کر دراصل خودکشی ہی کی ہے۔ اس نے اپنی انسانیت کو مار دیا ہے۔ اس نے اپنی آدمیت کا قتل کیا ہے اور وہ اسی قتل کے جرم میں پروردگار کے حضور مجرم کی حیثیت سے پیش کیا جائے گا۔ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرتؐ کی توہین سے بڑا کائنات میں کوئی جرم نہیں ہوسکتا اور کسی انسان کی تباہی اور بربادی اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ وہ کوئی ایسا کام کرے، جس کی بازگشت محبوب خدا ؐ کی "معاذ اللہ" توہین کی طرف ہوتی ہے۔