اسلام ٹائمز 28 Nov 2022 گھنٹہ 22:49 https://www.islamtimes.org/ur/news/1027377/فلسفہ-علوم-کا-خزینہ-اور-کائنات-تجزیہ-ہے-علامہ-ساجد-نقوی -------------------------------------------------- ٹائٹل : فلسفہ علوم کا خزینہ اور کائنات کا تجزیہ ہے، علامہ ساجد نقوی -------------------------------------------------- ایس یو سی کے سربراہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ فلسفہ کو ”ام العلوم“ کہا جاتا ہے کہ اسی کے بطن سے ریاضی، علم طبیعات، علم کیمیا، علم منطق، علم نفسیات اور دیگر معاشرتی علوم نے جنم لیا۔ متن : اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ فلسفہ علوم کا خزینہ، کائنات کا تجزیہ اور اسے معاشروں کی تہذیب میں کردار کا حامل رہا ہے، سائنس کی ترقی کی دوڑ کے باوجود آج بھی فلسفہ اپنی آب و تاب کے ساتھ تمام مسائل کا حل اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم فلسفہ پر تبصرہ اور مختلف علمی شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ کائنات کو سمجھنے، پرکھنے اور جانچنے کے لئے کوئی علوم کا خزینہ ہے تو وہ فلسفہ ہے، فلسفہ 100 سے زائد علوم پر مشتمل تھا جو سکڑ کر چند علوم تک محدود ہوگیا، دیگر علوم سائنس نے ہتھیالئے۔ عظیم فلسفیوں کے مشاہدات کے مطابق فلسفہ کبھی سیدھی لکیر کی طرح نہیں رہا بلکہ ہر دور میں اس کے تقاضے، زاویے تبدیل ہوتے رہے البتہ کچھ نکات جو فلسفے کو تمام علوم سے ممتاز اور الگ پہچان دیتے ہیں وہ کائنات کا تجزیہ، جانداروں کی نفسیات، انسانی شعور اور بیدار مغزی کو بڑھانا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر جس دنیا میں ہم رہتے ہیں اس کے بہت سارے متضاد مسائل کا حل اگر پیش کیا ہے تو فلسفہ نے کیا ہے، انسانیت کے ماضی میں فلسفے کی اسی طرح حکمرانی رہی جس طرح آج سائنس اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے البتہ فلسفہ کو ”ام العلوم “ کہا جاتا ہے کہ اسی کے بطن سے ریاضی، علم طبیعات، علم کیمیا، علم منطق، علم نفسیات اور دیگر معاشرتی علوم نے جنم لیا۔ علم فلسفہ کی اہمیت و افادیت ہر دور کی طرح آج بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ علم کا یہ اہم ترین حصہ اب سکڑتا جارہا ہے البتہ سائنس کی ترقی اور تیز رفتاری کے باوجود انسان کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھے ہیں اور جیسے جیسے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے اس کا حل صرف سائنس سے نہیں نکالا جاسکتا جبکہ اس کے لئے پھر رجوع فلسفہ کی جانب کرنا پڑتا ہے۔ یہ علم فلسفہ ہی ہے کہ جو معاشروں کو نہ صرف بدل دیتا ہے بلکہ دنیا میں بین الثقافتی مکالمے کو بھی تحرک دیتا ہے۔ علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ذہنوں کو سوچنے کی مشق کے ساتھ ساتھ ایک معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے، فلسفہ یونان سے عرب دنیا میں منتقل ہوا، مسلمانوں میں بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوئے، ہمارے زمانہ طالب علمی میں فلسفہ نصابی کتب میں شامل تھا جسے پڑھایا گیا۔ فلسفہ کے پیدا کردہ مسائل اور اٹھنے والے سوالات کے لئے علم الکلام ایجاد ہوا، مسلمان متقلمین نے زبردست کام کیا جو آج تک جاری ہے۔ فلسفہ قدیم اور فلسفہ جدید الگ الگ ہیں جن کے بارے میں معلومات ضروری ہیں، اس سلسلے میں معروف فلیسوف اور عالم آیت اللہ شہید صدر کی کتاب فلسفتنا سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔