اسلام ٹائمز 6 Sep 2019 گھنٹہ 16:14 https://www.islamtimes.org/ur/article/814823/پاراچنار-میں-محرم-سکیورٹی -------------------------------------------------- ٹائٹل : پاراچنار میں محرم سکیورٹی -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: محرم سے دو دن قبل کور کمانڈر نے علاقے کا دورہ کرکے گورنر ہاوس میں شیعہ سنی مشران اور تنظیمی رہنماؤں پر مشتمل افراد کے جرگے سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے علاقے میں امن کی برقراری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ آپکا ہے، لہذا آپ ہی نے اسے دہشتگردی اور دہشتگردوں سے پاک رکھنا ہے۔ انہوں نے عمائدین سے گزارش کی کہ اس حوالے سے پاک فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کیساتھ خصوصی تعاون کیا جائے۔ جرگہ ممبران، عمائدین اور دیگر شرکاء نے انہیں ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ متن : رپورٹ: روح اللہ طوری محرم الحرام کا مہینہ ویسے تو پورے ملک میں حساس ہوتا ہے، تاہم ملک کے طول و عرض میں کچھ علاقے ایسے ہیں کہ وہاں دیگر خطوں کی نسبت کچھ زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے۔ جن میں پاراچنار، ہنگو، کوہاٹ، ڈی آئی خان، کوئٹہ، کراچی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ چنانچہ افغان سرحد کے قریب ہونے کے ناطے پاراچنار میں یہ مہینہ کچھ زیادہ ہی حساس ہوا کرتا ہے۔ ہر سال محرم سے کچھ دن پہلے ہی شیعہ سنی امن جرگہ تشکیل دیا جاتا ہے، جسے حکومت کچھ ذمہ داریاں تفویض کرتی ہے اور پھر حکومت کے ساتھ ملکر یہ جرگہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی محرم سے دو دن قبل کور کمانڈر نے علاقے کا دورہ کرکے گورنر ہاوس میں شیعہ سنی مشران اور تنظیمی رہنماؤں پر مشتمل افراد کے جرگے سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے علاقے میں امن کی برقراری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ آپکا ہے، لہذا آپ ہی نے اسے دہشتگردی اور دہشتگردوں سے پاک رکھنا ہے۔ انہوں نے عمائدین سے گزارش کی کہ اس حوالے سے پاک فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ خصوصی تعاون کیا جائے۔ جرگہ ممبران، عمائدین اور دیگر شرکاء نے انہیں ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر شیعہ عمائدین خصوصاً انجمن حسینیہ اور تحریک حسینی کے رہنماؤں نے علاقے میں طالبان اور داعش کی نقل و حرکت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اداروں سے استفسار کیا کہ ان پر واضح کیا جائے کہ پہاڑی اور سرحدی علاقوں میں نقل و حرکت کرنے والے افراد کون ہیں؟ تاہم فوجی حکام نے اس حوالے سے مکمل طور پر بے فکر رہنے کی تلقین کی۔ عمائدین نے اداروں کو یہ پیشکش کی کہ اگر علاقائی سطح پر انہیں یا ملکی سطح پر کہیں بھی، خصوصاً پاراچنار میں افراد کی ضرورت ہو تو ان کے ساتھ رابطہ کیا جائے، وہ ہر طرح سے تعاون کے لئے تیار ہیں۔ فورس بھرتی کرنا ہو یا رضاکار، انہی سے افراد لے کر ضرورت پوری کی جائے۔ طالبان، حقانی نیٹ ورک یا کسی بھی نان لوکل تنظیم، خواہ وہ حکومت کی خیر خواہ کیوں نہ ہو، ان کے لئے قابل بھروسہ نہیں۔ لہذا حکومت کو چاہیئے کہ پہاڑوں اور سرحدوں کو ان لوگوں سے پاک کروائیں۔ آج محرم الحرام کا چھٹا دن ہے، آج 12 بجے کے بعد پاراچنار میں بغیر انٹری پاس کے گاڑیوں کا داخلہ بند کیا جا چکا ہے۔ پاراچنار میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے، گاڑیوں میں سوار تمام افراد کو اتار کر ان کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ خود گاڑیوں کی بھی سخت چیکنگ کی جاتی ہے۔ دوسری طرف پاراچنار میں نان لوکل افراد کا داخلہ بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ حتیٰ مجالس پڑھنے کی غرض سے باہر سے آنے والے علماء، ذاکرین وغیرہ تک کو لوکل افراد کی معیت کے بغیر شہر میں داخل ہونے نہیں دیا جاتا۔ نان لوکل افراد کے لئے لازمی ہے کہ وہ پاراچنار میں داخل ہوتے وقت مالی چیک پوسٹ کے ساتھ واقع مین پھاٹک پر اپنا شناختی کارڈ جمع کروا کر اس کے بدلے آرمی کا سپیشل انٹری پاس حاصل کرے۔ اس کے بعد پاراچنار داخل ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی اپنے شناختی کارڈ کے ساتھ بازار کے اطراف میں پکڑا گیا تو اسے یا تو مقامی کسی فرد کی سفارش سے خصوصی پاس حاصل کرنے واپس مین پھاٹک بھیجا جائے گا یا اسے انہی کی حراست میں رہنا پڑے گا۔ دوسری جانب کچھ عرصہ قبل اداروں نے یہ پیشیں گوئی بھی کی ہے کہ محرم الحرام کے دوران کسی اہم شخصیت کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی کی جاچکی ہے۔ جس سے علاقے کے حالات خراب ہونے کا شدید اندیشہ ہے۔ چنانچہ اسی خطرے کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے آجکل پاراچنار اور گرد و نواح میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جاچکے ہیں۔ آج چھے محرم کا دن ہے، آنے والی رات ساتویں محرم کی شب ہے، چنانچہ آج رات مرکزی امام بارگاہ سے جلوس برآمد ہوگا۔ جو سینہ کوبی کرکے اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا رات دو بجے کے قریب واپس امام بارگاہ پہنچے گا اور آج کے بعد دسویں محرم تک روزانہ جلوس برآمد ہوکر مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا آدھی رات کے بعد امام بارگاہ میں داخل ہوا کرے گا۔