اسلام ٹائمز 12 May 2019 گھنٹہ 22:07 https://www.islamtimes.org/ur/interview/793629/بلیک-اکانومی-ختم-ہو-جائے-3-ہزار-ارب-سرکاری-خزانے-میں-آئینگے-مخدوم-خسرو-بختیار -------------------------------------------------- ٹائٹل : بلیک اکانومی ختم ہو جائے تو 3 ہزار ارب سرکاری خزانے میں آئینگے، مخدوم خسرو بختیار -------------------------------------------------- وفاقی وزیر کا اسلام ٹائمز کیساتھ انٹرویو میں کہنا تھا کہ عالمی ادارے قرضہ بھی دیتے ہیں اور تجاویز بھی، اب جب مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو اسکا مقابلہ حکومت اور عوام نے ملکر کرنا ہوتا ہے، مارک اپ ریٹ جب بڑھے گا تو صنعتی ترقی بھی متاثر ہوگی، یہ معاملہ بھی حکومت اور صنعتی گروپوں نے ملکر دیکھنا ہوتا ہے، اکانومی کو ٹھیک کرنا ہمارا اپنا کام ہے، آئی ایم ایف یا کسی بھی عالمی ادارے کا نہیں۔ متن : مخدوم خسرو بختیار 1969ء میں پیدا ہوئے، 1990ء میں گریجوایشن مکمل کی اور 1994ء میں لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس سے ایل ایل بی اور 1995ء میں برطانیہ سے بار ایٹ لاء مکمل کیا۔ 1997ء میں صوبائی اسمبلی کے رکن بنے، 2002ء میں مسلم لیگ قاف کے پلیٹ فارم سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور 2004ء میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ بنے۔ 2013ء میں آزاد حیثیت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے، اسی سال مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کی۔ بعدازاں 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور رکن قومی اسمنلی منتخب ہوئے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات کا آئی ایم ایف کیساتھ پاکستان کی ڈیل، اسکے اثرات اور معیشت کیلئے بہترین آپشنز سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ) اسلام ٹائمز: آئی ایم ایف کا وفد پاکستان آیا ہے، معاہدے ہو رہے ہیں، کیا پاکستانی عوام کے دن تبدیل ہو پائینگے، یا صورتحال بدتر ہوجائیگی۔؟ مخدوم خسرو بختیار: صورتحال کو یقینی بنانے میں وقت لگے لگا، آئی ایم ایف کے پروگرام مکمل کرنے میں پہلے پاکستان 75 فیصد کامیاب رہا ہے، جسکا مطلب یہ بنتا ہے کہ پاکستان کو اب آئی ایم ایف کے سہارے کی ضرورت نہیں رہنی چاہیئے تھی، اس کے باوجود مرض ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے، پھر بھی ہمیں بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ رہا ہے، اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ جو پروگرام ہم لیتے ہیں یا ہمیں دیا جاتا ہے، اس میں کوئی کمزوری ہے، جس کی وجہ سے معیشت اپنے پیروں پہ کھڑی ہی نہیں ہو رہی۔ 2008ء اور پھر 2013ء اس کے بعد پھر ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی پڑا، ہم تو یہی سوچ رہے تھے کہ کوئی اور راستہ نکالیں گے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہوا۔ اب ہمیں جو پروگرام دیا جا رہا ہے یہ مصر والا ہے، جہاں افراط زر 33 فیصد تک پہنچ گیا تھا، وہاں اس کے بڑے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ معیشت صرف سوچنے والی چیز نہیں بلکہ ایک کام ہے، جس کیلئے آرٹ کو اپنانا پڑتا ہے، آئی ایم ایف کا نسخہ کوئی اتنا تیر باہدف نہیں ہے، دنیا کے جو ممالک بھی جاتے ہیں آئی ایم ایف کے پاس، انہیں ہر بار جانا پڑتا ہے۔ اسلام ٹائمز: سوال یہ ہے ابھی جو مذاکرات ہوئے ہیں، اسکے بعد پاکستانی معیشت کا مستقبل کیا ہوگا۔؟ مخدوم خسرو بختیار: یہ ہمارے لیے بڑا اہم ہے کہ ہم اس کا حل نکالیں، ہمیں بار بار آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے، ہمارے چند بڑے مسئلے ہیں، ان کا حل ہمیں خود نکالنا ہے، خسارے میں جانے والے ادارے ہیں، محنت کشوں اور ملازمت پیشہ لوگوں کی زندگی میں بہتری لانے کیلئے آئی ایم ایف کی تجاویز میں کوئی چیز نہیں ہوتی۔ یہ ہمارا بنیادی مسئلہ جس کا حل ہم نے خود تلاش کرنا ہے، مستقبل ہم نے خود بنانا ہے، اگر ہم یہ نہیں کرسکے تو کوئی توقع رکھنا درست نہیں ہوگا۔ میرے خیال میں شبر زیدی نے بہت اچھی بات کی ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کی بجائے پاکستان کی بات کرنی چاہیئے۔ اسلام ٹائمز: حکومت اسکا حل نکالے گی یا اس نتیجے پہ پہنچ چکے ہیں کہ جیسے چل رہا ہے، اسی طرح چلتا رہے گا۔؟ مخدوم خسرو بختیار: پہلے ہی عوام پر بہت زیادہ بوجھ پڑ چکا ہے، گیس، تیل سمیت قیمتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں، ہوسکتا ہے کچھ عرصہ مزید یہ بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑے، اصل میں ہماری مشکل جڑی ہے ایف بی آر سے، اگر حکومت کی بات کریں تو۔ اگر اصلاحات پر عمل درآمد نہیں کر پاتے تو حالات خراب ہونگے اور پاکستان قرضوں میں پھنستا چلا جائیگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکس اکٹھا کرنیوالے اداروں میں جو لوگ بیٹھے ہیں، وہ زیادہ تر اپنی منفعت اور ذاتی خزانہ بھر رہے ہیں، وہ اپنے اختیارات کو درست استعمال کرنے کی بجائے غلط استعمال میں لاتے ہیں۔ اب جب آئی ایم ایف آتا ہے تو بالواسطہ طور پر ٹیکس بڑھ جاتے ہیں، اس بار بھی اضافہ ہوگا، لیکن ٹیکسوں میں اضافے کے باوجود ریاست کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا، ریاست کی آمدنی میں اس وقت اضافہ ہوگا، جب بلیک معیشت اور گرے معیشت کو ریگولیٹ کر دینگے، یہ بلیک اور گرے اکانومی ختم ہو جائے تو ایک ہزار ارب کی جگہ تین ہزار ارب سرکاری خزانے میں آئیں گے، مجھے خدشہ ہے کہ یہ اصلاحات اگر نہیں ہوتیں تو پاکستان کی تقدیر ہم نہیں بدل پائیں گے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ صرف وزراء کی تبدیلی سے اتنا اثر نہیں پڑیگا، اگر اصلاحات نہ ہوں تو۔ اسلام ٹائمز: کیا آئی ایم ایف ہمیشہ یکطرفہ طور پر پاکستان پہ اپنی پالیسیاں مسلط کرتا ہے، یہ ہم خود چل کر جاتے ہیں۔؟ مخدوم خسرو بختیار: ہمیشہ آئی ایم ایف کو ہی ولن قرار نہیں دیا جا سکتا، ہماری کمزوری ہے، یہ کمزوری مجبوری بن جاتی ہے، ہماری ضرورت ہمیں لے جاتی ہے، آئی ایم ایف کے پاس، 88ء سے اب تک بارہ دفعہ تو جا چکے ہیں آئی ایم ایف کے پاس، فرق کیا پڑا، وہ تو ہمیشہ ہمیں دوائی ہی دیتے ہیں، جو کڑوی ہوتی ہے، اسکے اثرات بھی کڑوے ہوتے ہیں، میں انہیں الزام بھی نہیں دیتا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کی معیشت بالکل ٹھیک ہو جائے اور ترقی کی راہ پہ گامزن ہو جائے۔ اپنی معیشت ہم خود ہی ٹھیک کرسکتے ہین، خرچے کم کرسکتے ہیں، آمدن بڑھا سکتے ہیں۔ اسی ملک میں دیکھیں وزیراعظم ہاوس چھ سو ملازمین تھے، یہ دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں بھی نہیں ہوتا، کس ملک کے وزراء اعلیٰ چالیس لگژری کاروں میں پھرتے ہیں، ہماری صورتحال یہ ہے کہ اگر عالمی ادارے اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھ کر بھی ہمارے ساتھ ڈیل کر لیں، تب بھی ہم اپنی کمزوریوں کو ختم کیے بغیر مشکلات سے نہیں نکل سکتے۔ ابھی بھی یہ ضروری ہے کہ قرضہ لیکر اسے اپنی عیاشیوں پہ خرچ نہ کریں، ملک کی بہتری اور عوام کی خوشحالی کیلئے خرچ کریں، اس مخلصانہ کوشش سے ہی تبدیلی آسکتی ہے، ہم آئی ایم ایف کو مجبور کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اسلام ٹائمز: جب آئی ایم ایف ہمیں اکانومی ٹھیک کرنے کیلئے پیسہ نہیں دیتا، پھر وہ دیتے کیوں ہیں اور ہم لیتے کیوں ہیں۔؟ مخدوم خسرو بختیار: وہ اکانومی کو ٹھیک کرنے کی بجائے فسکل ڈیفیسٹ اور ادائیگیوں کے توازن کو ٹھیک کرنے کیلئے پیسہ دیتے ہیں، ہمارے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ اس کے بغیر کام چلانا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن انہوں نے پیسہ واپس بھی لینا ہوتا ہے، وہ جو شرائط لاتے ہیں، انکا مقصد اپنے پیسے کی وصولی کرنا ہوتا ہے، اکانومی کی بہتر کرنیکی اس کے علاوہ وہ کوئی تجاویز نہیں دیتے، اسی لیے تین پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، ایک مارک اپ ریٹ میں اضافہ، دوسرا سبسٹڈیز کا خاتمہ، جس کی وجہ سے ہر استعمال کی چیز مہنگی ہوتی ہے، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ عوام یہ برداشت کرسکتے ہیں یا نہیں۔ بلکہ اسٹیٹ کا بزنس چلانے کیلئے وہ قرضہ بھی دیتے ہیں اور تجاویز بھی، اب جب مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا مقابلہ حکومت اور عوام نے مل کر کرنا ہوتا ہے، کیونکہ ملک تو ہم نے چلانا ہے، اسی طرح اور بھی اثرات ہوتے ہیں۔ صرف مہنگائی نہیں ہوتی، مارک اپ ریٹ جب بڑھے گا تو صنعتی ترقی بھی متاثر ہوگی، کیونکہ اس سے انویسٹ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کاروبار لوگ آگے نہیں بڑھا پائیں گے، یہ معاملہ بھی حکومت اور صنعتی گروپوں نے مل کر دیکھنا ہوتا ہے، اکانومی کو ٹھیک کرنا ہمارا اپنا کام ہے، آئی ایم ایف یا کسی بھی عالمی ادارے کا نہیں، یہ ادارے جہاں بھی جاتے ہیں، ملک بالآخر ان سے جان چھڑاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز: عالمی مالیاتی فنڈ کے علاوہ دوسرے عالمی اداروں سے پاکستان کس حد تک استفادہ کرسکتا ہے، یہ پاکستان کو کسی ادارے کے پاس نہیں جانا چاہیئے۔؟ مخدوم خسرو بختیار: وہ تو آپ جہاں بھی جائیں گے، بات ایک ہی ہے، اب ورلڈ بینک کو دیکھ لیں، وہ پاکستان اگر گرانٹس دینگے تو وہ پروجیکٹس کیلئے ہوگی، پھر یہ پروجیکٹس ایسے ہوں، جن سے ایکسپورٹ بڑھیں، جو کہ فوری طور پر نہیں بڑھ سکتیں، لیکن ہم اپنی اخراجات کی شرح کم کرسکتے ہیں، اس سے معیشت کو بہتر بنانے میں آسانی ہوگی، کچھ عرصے کیلئے نئی کاریں، نئے ٹیلی فون، کاسمیٹکس اور بہت ساری کھانے پینے کی چیزیں ہیں، وہ کچھ عرصے کیلئے روک سکتے ہیں۔ پھر آپشنز اس طرح کے ہیں، برآمدات اور درآمدات کا فرق زیادہ سے زیادہ کم کرنا ہوگا۔ پھر ایک بار کہوں گا کہ وہ ادارے جو سفید ہاتھی بن چکے ہیں، ان پر کام کرنے کی بھی ضرورت ہے، ریاست اور حکومت کی آمدن بڑھانے کیلئے۔ آمدن کی بجائے خسارے میں جانے والے اداروں کو ٹھیک کرنا ہوگا یا ان کی نجی کاری کرنا ہوگی۔ تکلیف دہ چیز یہ ہے 95 بلین ڈالر کا پچھلا قرضہ تھا اور آج اسکی قسط ادا کرنیکے لیے پیسے نہیں ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے یہی قرضہ جب 105 بلین بن جائیگا تو اسکی قسط ادا کرنے کیلئے پیسے کہاں سے آئیں گے۔