اسلام ٹائمز 27 Nov 2022 گھنٹہ 16:43 https://www.islamtimes.org/ur/article/1026964/بی-جے-پی-کا-بھارت-میں-یکساں-سول-کوڈ-نافذ-کرنے-شوشہ -------------------------------------------------- ٹائٹل : بی جے پی کا بھارت میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا شوشہ -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ اگر لوگوں کو انکے مذہبی اور قومی تشخص سے محروم کر دیا جائے تو اس سے اتحاد اور بھائی چارہ متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ دستور کے بھی خلاف ہے اور ہندوستانی معاشرے کے بھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فائدہ بھی نہیں ہے بلکہ اسکے برعکس نقصان کا ہی اندیشہ ہے۔ متن : تحریر: جاوید عباس رضوی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھارت میں یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کا متنازعہ معاملہ ایک بار پھر ایسے وقت میں چھیڑ دیا ہے، جب کئی صوبوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بعد سب سے زیادہ قد آور سمجھے جانے والے بی جے پی کے لیڈر اور بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے اپنی سابقہ پارٹی بھارتیہ جن سنگھ کے دور سے ہی ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیکولر ملک میں قوانین مذہب کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک اور ریاستیں سیکولر ہیں تو قوانین مذہب کی بنیاد پر کیسے بنائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کے لئے پارلیمان یا ریاستی اسمبلیوں کے ذریعہ منظور شدہ ایک ہی قانون ہونا چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف بی جے پی ہی نہیں بلکہ بھارت کی آئین ساز اسمبلی نے بھی پارلیمان اور ریاستوں کو مناسب موقع پر یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ یکساں سول کوڈ ایک مفروضہ ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ سننے میں دلکش لگنے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ بھارت جسے کثیر لسانی، کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک میں سب کے لئے یکساں قانون ایک مفروضہ ہے۔ ماہر قانون اور نیشنل لاء یونیورسٹی حیدرآباد کے سابق وائس چانسلر فیضان مصطفٰی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے ہر طرح کا عدم مساوات ایک جھٹکے میں ختم ہوجائے گا اور صنفی انصاف پر مبنی سماج وجود میں آجائے گا۔ لیکن یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ’’رسمی مساوات‘‘ سے کوئی انقلابی تبدیلی نہیں آتی بلکہ سماج کو ’’حقیقی مساوات‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ فیضان مصطفٰی کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک عام غلط فہمی ہے کہ ہندوؤں میں یکساں سول کوڈ نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو دھرم کے ماننے والوں میں مختلف عائلی امور پر شدید اختلافات ہیں۔ مثلاً شمالی بھارت کے ہندوؤں میں قریبی رشتہ داروں کے مابین شادی ممنوع ہے لیکن جنوبی بھارت میں اسے انتہائی مبارک سمجھا جاتا ہے۔ نیشنل لاء یونیورسٹی حیدرآباد کے سابق وائس چانسلر فیضان مصطفٰی کا کہنا تھا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے پرسنل لاز میں بھی یکسانیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی آئین خود بھی مقامی رسوم و رواج کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔ فیضان مصطفٰی کا کہنا تھا کہ یکساں سول کوڈ کے حامی عام طور پر گوا کی مثال دیتے ہیں کہ وہاں ’یو سی سی‘ نافذ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گوا کے ہندو خاندانوں پر اب بھی ’پرتگالی خاندان اور وراثت قانون‘ کا اطلاق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوا میں آج بھی شادی، طلاق، گود لینے اور مشترکہ خاندان کے حوالے سے تمام معاملات پر مذکورہ قانون نافذ ہوتا ہے، وہاں 1955ء-1956ء کا ہندو ترمیم شدہ قانون نافذ نہیں ہے۔ حتی کہ اسپیشل میرج ایکٹ جیسا ترقی پسند قانون بھی وہاں نافذ نہیں ہے۔ امت شاہ کا یکساں سول کوڈ پر ریمارکس بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کا کہنا تھا کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے حوالے سے آئین ساز اسمبلی کی ہدایت کو بھلا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے علاوہ کوئی دوسری پارٹی یو سی سی کے حق میں نہیں ہے حتی کہ وہ اس پر بات بھی نہیں کرتیں لیکن اگر ان کے اندر اسے نافذ کرنے کی جرات نہیں ہے تو انہیں کم از کم اس کی مخالفت بھی نہیں کرنی چاہیئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر امت شاہ کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر وسیع پیمانے پر بحث و مباحثے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی حکومت والی تین ریاستوں، گجرات، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کی حکومتوں نے اس مقصد کے لئے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق ججوں کی صدارت میں کمیٹیاں قائم کی ہیں۔ امت شاہ کا کہنا تھا کہ ان کمیٹیوں میں تمام گروپوں اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ہم متفقہ نتائج کی بنیاد پر ہی کوئی فیصلہ کریں گے لیکن بی جے پی تمام جمہوری تبادلہ خیال کے بعد یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے اپنے وعدے پر قائم ہے۔ اس دوران ماہر قانون فیضان مصطفٰی کہتے ہیں کہ اتراکھنڈ میں بی جے پی کے وزیراعلٰی یو سی سی کے حق میں تو ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں آج تک ہندو خواتین کو زمین میں وارثت کا مساوی حق نہیں مل سکا ہے جبکہ وہاں ہندوؤں کی آبادی 83 فیصد ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یکساں سول کوڈ کا شوشہ حقیقی سے زیادہ سیاسی ہے اور بی جے پی اس لئے اس پر زور دیتی رہی ہے کیونکہ اس کے ذریعہ وہ اپنی طاقت کو مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے۔ یکساں سول کوڈ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور بھارت کے ممتاز عالم دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ دستورِ ہند  کے تحت بنیادی حقوق میں اپنے اپنے مذہب کے مطابق عقیدہ رکھنا، عمل کرنا اور مذہب کی تبلیغ و اشاعت کرنے میں سب برابر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف گروہوں کے پرسنل لاء کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور یہ بات بھی محتاجِ اظہار نہیں کہ بنیادی حقوق ہی دستور کی اصل روح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے معماروں اور دستور بنانے والوں نے خوب سوچ سمجھ کر اور ہندوستان کے کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی ڈھانچہ کو سامنے رکھ کر اس دفعہ کو شامل کیا تھا، یہ ملک کی سالمیت اور قومی یکجہتی کی بنیاد ہے، کیونکہ سماجی اور خاندانی قوانین سے مختلف گروہوں کی شناخت متعلق ہوتی ہے، اگر لوگوں کو انکی شناخت سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ بات کسی کو بھی  گوارہ نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں کے پہلے سے مختلف گروہ اپنے اپنے پرسنل لاء کے ساتھ اس ملک میں رہتے آئے ہیں، انگریزوں نے بھی اسی کو برقرار رکھا اور آزادی کے بعد بھی گزشتہ 76 سال سے اسی انداز پر ملک کا نظام چل رہا ہے، مگر اس سے ابھی تک کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ اگر ملک کی عوام اپنے مذہبی قوانین کے بجائے یکساں سول کوڈ کو پسند کرتے تو ’اسپیشل میرج ایکٹ‘ ملک کا مقبول ترین پرسنل لاء ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہوا، آج بھی شہریوں کے لئے اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ اگر وہ اپنے مذہبی پرسنل لاء کو پسند نہیں کرتے ہوں تو وہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت نکاح کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں اُن پر مسلم پرسنل لاء یا کسی اور پرسنل لاء کا اطلاق نہیں ہوگا، مگر عمومی طور پر لوگوں نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا، بعض حضرات دستور کے رہنما اصول کی دفعہ 44 کا حوالہ دیتے ہیں، جس میں یکساں سول کوڈ کی بات کہی گئی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ اگر لوگوں کو اُن کے مذہبی اور قومی تشخص سے محروم کر دیا جائے تو اس سے اتحاد اور بھائی چارہ متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ دستور کے بھی خلاف ہے اور ہندوستانی معاشرے کے بھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فائدہ بھی نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس نقصان کا ہی اندیشہ ہے۔