اسلام ٹائمز 11 Jan 2020 گھنٹہ 15:00 https://www.islamtimes.org/ur/article/837891/جنرل-قاسم-سلیمانی-کی-شہادت-اور-افواہ-ساز-فیکٹریاں -------------------------------------------------- ٹائٹل : جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت اور افواہ ساز فیکٹریاں -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ایک اخبار کے مستقل کالم نویس کو بے حد ذمہ دار ہونا چاہیئے، اسے سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں کی بجائے حقائق کی تہہ تک بلا تعصب جاننے کی کوشش کرنا چاہیئے، قلم کی روشنائی شہداء کے مقدس خون سے افضل کہی گئی ہے، لہذا اس کی تقدیس کے تقاضے بھی پورا کرنا ضروری ہیں، وگرنہ اسلامی، اخلاقی اور قانونی لحاظ سے کسی بھی لکھے گئے جملے پر گرفت ہونا اس دنیا اور یوم حساب پر بھی موقوف رہیگی۔ متن : تحریر: ارشاد حسین ناصر اس وقت دنیا پر امریکہ اپنی حکمرانی کا جھنڈا گاڑے ہوئے ہے، جس کے پاس اسلحہ کی طاقت کیساتھ ساتھ اس سے بھی بڑی طاقت ہے، وہ ہے میڈیا کی طاقت جو امریکہ کے حق میں پروپیگنڈا کرتا ہے اور حق کو باطل، درست کو غلط ، سفید کو سیاہ اور قاتل کو مقتول و مظلوم بنا کر پیش کرنے کا ماہر ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا پر عالمی اقتصاد کی طرح مسلم دشمن صیہونیوں کا قبضہ ہے، جو یہ کام بڑے کروفر سے کر رہے ہیں، مسلمانوں کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں، جس سے بہت سے مسلمان بھی ان کی خبروں کے سورس سے مستفید ہو کر ان کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں یا پھر باہمی تعصبات اور ایجنٹوں کے ہاتھوں جان بوجھ کر استعمال ہوتے ہوئے امریکہ کی خدمت کرنے لگتے ہیں۔ شہید قاسم سلیمانی و ابو مہدی مہندس کی المناک شہادت کے بعد پاکستانی میڈیا میں بھی ایسی روش دیکھنے کو ملی ہے، جس کا مناسب جواب لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ شائد کہ "تیرے دل میں اتر جائے میری بات" کے مصداق کچھ عرائض لکھی ہیں۔ اگرچہ گذشتہ اکتالیس برس سے امریکہ ایران کشیدگی جاری ہے اور اس میں کبھی اضافہ اور کبھی کچھ کمی واقع ہو جاتی رہی ہے، مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان اکتالیس برسوں میں ایران امریکہ تعلقات میں مثالی بہتری دیکھی گئی ہو اور ان دونوں ممالک نے اپنے مسائل کے حل کیلئے باہم مل بیٹھنے کا اعلان کیا ہو۔ امریکہ چونکہ خود کو واحد عالمی سپر پاور کہتا ہے، عالمی اداروں اور ممالک پر اس کا گہرا اثر رسوخ ہے، اس لئے وہ جس ملک کو چاہتا ہے، اسے تباہی کے دہانے پہ لاکھڑا کرتا ہے۔ کبھی اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنی مرضی کی حکومت لانے کیلئے اس نے سی آئی اے کے ذریعے خفیہ آپریشن کئے۔ کبھی بغاوت کروائی اور کبھی سیاست دانوں یا فوجی آمروں کے ذریعے اپنی مرضی کی حکومت لے آیا۔ اس کی ایک مکمل تاریخ ہے اور اس حوالے سے کتب بھی لکھی جا چکی ہیں۔ ہمارے پیش نظر اس وقت ایران ہے، جہاں 1979ء میں اسلامی انقلاب آنے کے بعد سے لیکر آج تک امریکہ اپنی ساری چالیں چل چکا ہے۔ اقتصادی پابندیوں سے لیکر فوجی آپریشن تک اور ہمسایہ ممالک کے ذریعے جنگ مسلط کرنے سے لیکر اندرونی خلفشار ایجاد کرنے تک، اس کے تمام حربوں اور سازشوں کو ایران کی بابصیرت قیادت نے ناکام بنایا ہے۔ امریکہ کا ایک انداز یہ بھی رہا ہے کہ دھونس، دھمکی اور ڈرا کر اپنے مقصد کو حاصل کرتا ہے۔ صدام جو ایک وقت میں اس کے احکامات اور اشاروں پہ ناچتا تھا، جس نے اس کے کہنے پہ اپنے ہمسایہ برادر اسلامی و عربی ملک کویت پر قبضہ کر لیا تھا، کو راستے سے ہٹانے کیلئے اس نے کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ بنایا۔ اس وقت شائد صدام کے پاس کیمیائی ہتھیار بھی نہیں تھے، حالانکہ یہ کیمیائی ہتھیار امریکہ نے ہی اسے فراہم کئے تھے، جو اس نے ایران کے ساتھ جنگ میں ایرانی حمایت یافتہ عراقی شہریوں اور ایک ایرانی سرحدی علاقہ حلبچہ کے معصوم عوام پر استعمال کیئے تھے۔ اس وقت صدام چونکہ امریکہ کا اتحادی تھا، اس لئے نہ تو اقوام متحدہ نے ایران کی آواز اور احتجاج پر توجہ دی اور نہ ہی امریکہ یا نام نہاد مہذب دنیا نے اس کے خلاف ایکشن لیا، جبکہ ایران مسلسل پابندیوں کا شکار رہا، ایران پر تب سے لیکر آج تک یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، ہم اس کو روکیں گے، جبکہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیة اللہ خامنہ ای نے فتویٰ دے رکھا ہے کہ انسانوں کی تباہی کا یہ ہتھیار ایٹم بم بنانا حرام ہے، اسی طرح ایران نے اپنی ایٹمی سائٹس بھی فائیو پلس ون کیساتھ معاہدہ کے بعد ان کے لئے کھول دی تھیں اور اس معیار سے آگے نہیں بڑھا جو طے کردہ تھا، مگر اوباما انتظامیہ کیساتھ ہونے والے اس معاہدہ کو ٹرمپ نے آتے ہی یک طرفہ طور پہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور جان بوجھ کے راہ فرار اختیار کی، تاکہ ایران کو پریشرائز رکھا جائے۔ اب بھی اس کا کہنا ہے کہ ہم ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دینگے، جبکہ ایران ایٹمی ترقی کے ذریعے اپنے انرجی اور میڈیسن مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنا چاہتا ہے، جو ایک جائز بات ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایک عرصہ تک متعصبانہ رویئے اور ان سے مربوط شخصیات پروان چڑھی ہیں۔ ایک عالمی سازش کے تحت فرقہ واریت کا زہر گھولا گیا ہے، معاشرہ میں بھائی چارگی اور دینی و مذہبی تعلقات پہ زد پڑی ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی یہ لکھنا پڑتا ہے کہ معاشرہ میں فرقہ واریت کا زہر ہزاروں قیمتی جانوں کو لیکر معاشرتی اقدار اور باہمی اخوت و بھائی چارگی پر بھی اپنے اثرات مرتب کر گیا ہے۔ ایران ہمارا ہمسایہ، برادر اسلامی ملک ہے، جس کے ساتھ ہمارے گہرے اسلامی و ہمسائیگی کیساتھ ساتھ ثقافتی تعلقات ہیں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وہاں پر پاکستان کی غالب اکثریتی آبادی کے مسلک کی بجائے فقہ جعفری کے ماننے والوں کی اکثریت ہے اور یہ وہ حقیقت ہے، جس سے کسی بھی صورت منہ نہیں چرا سکتے، مگر یہ بات بھی چمکتے آفتاب کی طرح روشن ہے کہ جب سے یہاں اسلامی انقلاب آیا ہے، امام خمینی جو بانی انقلاب تھے، کی فکر کی روشنی میں امت مسلمہ کی وحدت و بھائی چارگی کیلئے بنیادی ترین کام ہوا ہے۔ امت مسلمہ کا سب سے بڑا مسئلہ قبلہ اول پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ تھا، انقلاب سے قبل اسرائیل کے ایران کی شاہی حکومت کیساتھ دوستانہ تعلقات تھے، مگر انقلاب کیساتھ ہی یہ تعلقات بہ یک جنبش قلم ختم کر دیئے گئے۔ نہ صرف تعلقات ختم کئے بلکہ تہران میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کو تنظیم آزادی فلسطین کے سپرد کر دیا گیا۔ یہ اقدام اسرائیل اور ایران کی کھلی دشمنی کا مظہر تھا۔ اس وقت سے لیکر آج تک ایران اسرائیل تعلقات میں ہر گزرتے دن کیساتھ تندی آئی ہے، عالمی سطح پر یوم القدس منانا اور اسرائیلی مظالم کو آشکار کرنے کیساتھ فلسطین کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے لانا ایرانی حکومت اور قیادت کا بہت بڑا کام ہے۔ اس کیساتھ ساتھ اسرائیل کے فلسطینی زمینوں پر ناجائز قبضے اور مظالم کے خلاف فلسطینی مجاہد تنظیموں کی کمک اور مدد سے ایران نے کبھی ہاتھ نہیں کھینچا اور نہ ہی اس سے انکار کیا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی میزائل حملے میں شہادت کے بعد تہران میں ان کی نماز جنازہ میں فلسطین کی نمائندہ تنظیموں بشمول حماس کے سیاسی امور کے انچارج اور سابق وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کی بھرپور وفد کے ہمراہ شرکت اور شہید قاسم سلیمانی کو"شہید القدس" کہنا اس مدد اور حمایت کا بین ثبوت ہے، مگر افسوس کہ بعض نام نہاد کالم نویس اور تجزیہ نگار امریکہ کے ہاتھوں شہادت سے ہمکنار ہونے والے ان مردانِ خدا کو قاتل لکھ کر اپنے تعصب کو آشکار کر رہے ہیں۔ حیرانی اس بات پہ ہوتی ہے کہ اچھے بھلے اور بظاہر نامور سمجھے جانے والے بعض متعصبانہ سوچ کے حامل ایسے ہی کالم نویسوں نے یہاں تک لکھ دیا کہ عراقی اپوزیشن نے سلیمانی کی شہادت پر جشن منایا۔ حیرت ہے انہیں جشن منانے والے نظر آئے جبکہ ہم نے دیکھا کہ عراقی عوام نے امریکی سفارت خانے پر مظاہرے کے بعد "سلیمانی قائدنا" کے نعرے لکھے اور شیطان الاکبر امریکہ، جو امام خمینی کا دیا گیا نعرہ تھا، جھوم جھوم کے لگاتے نظر آئے۔ عجیب ہے کہ ایک کالم نگار نے یہ تک لکھا کہ سلیمانی کا اگلا پروگرام اور منصوبہ عراق و شام سے سنیوں کو نکال کر ترکی کے کیمپوں میں منتقل کرنا تھا، حالانکہ شام و عراق میں داعش کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے یہی وہ لوگ تھے، جنہوں نے کرسچئن اور ایزدی فرقوں کو تحفظ دیا۔ اہل سنت تو وہاں بہت بڑی تعداد میں ہیں، جن کے نام کو تکفیری دہشت گردوں نے استعمال کیا اور ان کے مزارات و مقدس مقامات حتیٰ مساجد کو بھی تہس نہس کیا۔ اگر جنرل سلیمانی اہل سنت کے خلاف تھے تو حماس و اسلامک جہاد فلسطین کی قیادت اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کو ان کے حق میں بیان دینے اور جنازے میں شرکت کی کیا ضرورت تھی۔ کیا وہ لوگ جو ڈائریکٹ اس جنگ کا حصہ تھے، انہیں معلوم نہیں تھا کہ سلیمانی شہید ان کے ہم فکر لوگوں کیساتھ کیا کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی صحافت سے وابستہ وہ نام نہاد لوگ جن کو شائد تفرقہ پھیلانے اور تعصب کا رنگ چڑھانے کی عادت ہے، انہیں نظر نہیں آیا کہ سردار قاسم سلیمانی نے اہل فلسطین کیلئے کیا خدمات سر انجام دی ہیں۔ ان کے بقول ایران ہمیشہ اسرائیل کو دھمکیاں دیتا ہے، کبھی حملہ نہیں کیا، نہ کبھی ایک بھی اسرائیلی سپاہی کو مارا ہے، تو اس حوالے سے یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ ایک تو ایران کی کسی بھی ملک کیساتھ جارحانہ پالیسی نہیں ہے، نہ ہی وہ کسی پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ ہاں اسرائیلی دھمکیاں کہ ایران پر حملہ کر دیں گے، کبھی امریکہ اور کبھی اسرائیل کی طرف سے ایسے بیانات کے جواب میں یہی کہا جاتا ہے کہ اپنا شوق پورا کرکے دیکھ لیں، اگر ہمت ہے تو حملہ کرکے دیکھ لیں، مگر اکثر یہ ایسے ایام میں ہوا ہے، جب اسرائیل یا امریکہ میں الیکشن نزدیک ہوتے ہیں، ایسا پاکستان کے ازلی دشمن بھارت میں بھی ہوا ہے کہ بی جے پی نے الیکشن میں پاکستان کے خلاف خاص مہم چلائی، تاکہ ہندو ذہنیت کا ووٹ لے سکیں۔ ایسا ہی امریکہ و اسرائیل ایران کا نام لے کے کرتے رہے ہیں، جن کا جواب ایران کی طرف سے ہم سن اور پڑھ لیتے ہیں، جہاں تک ایران کی طرف سے کسی اسرائیلی سپاہی کو نہ مارنے کی بات ہے تو صاف ظاہر ہے اسرائیل اور ایران کی سرحد کہیں بھی نہیں ملتی، مگر ایران اسرائیل کے خلاف بر سر پیکار فلسطینی مجاہدین، لبنانی حزب اللہ اور عراقی رضا کار فورس کے ذریعے ہر وقت اسرائیل اور ان کے مفادات کے خلاف بر سر پیکار دکھائی دیتا ہے۔ لبنان کی 33 تینتیس روزہ جنگ ہو یا غزہ کی اسرائیل کے خلاف لڑائی میں ایران ہی تھا، جس نے حماس و حزب اللہ کی عسکری مدد کی اور اسے کھلے عام تسلیم کیا۔ حماس نے اسرائیل کی شکست کے بعد غزہ میں شکریہ ایران کے بینرز آویزاں کئے، جن پر حماس کو دیئے گئے میزائلوں کی تصاویر بھی پرنٹ کی گئی تھیں۔ عجیب لوگ ہیں، اسلامی مزاحمتی تنظیموں جن کی زمینوں پر غاصبوں نے قبضے کر رکھے ہیں، ان مظلوموں اور کمزوروں کی مدد کو ایران کا جنگی جنون کہتے ہیں۔ ایران پر حملہ صدام نے کیا، آٹھ سال جنگ مسلط رکھی۔ ساری دنیا صدام کیساتھ کھڑی تھی، اکیلے ایران نے اپنا دفاع کیا، یہ اس کا جنگی جنون ٹھہرا۔؟ ایران کے جنرل کو امریکہ نے دوسرے ملک کی اجازت کے بغیر مار دیا، ایران نے جوابی کارروائی کا اعلان کیا اور اسے پورا بھی کیا، یہ اس کا جنگی جنون بنا دیا گیا اور اسرائیل جو ہر روز شام، لبنان، مصر، اردن، عراق کی سرحدی خلاف ورزی کرکے بے گناہوں کا خون بہاتا ہے، وہ جنگی جنون نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایک اخبار کے مستقل کالم نویس کو بے حد ذمہ دار ہونا چاہیئے، اسے سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں کی بجائے حقائق کی تہہ تک بلا تعصب جاننے کی کوشش کرنا چاہیئے، قلم کی روشنائی شہداء کے مقدس خون سے افضل کہی گئی ہے، لہذا اس کی تقدیس کے تقاضے بھی پورا کرنا ضروری ہیں، وگرنہ اسلامی، اخلاقی اور قانونی لحاظ سے کسی بھی لکھے گئے جملے پر گرفت ہونا اس دنیا اور یوم حساب پر بھی موقوف رہیگی۔(اوریا مقبول جان، عبداللہ طارق سہیل اور افضال ریحان کے کالمز کا جواب ہے) irshadhnasir@gmail.com 0333-4424817