اسلام ٹائمز 28 May 2018 گھنٹہ 23:37 https://www.islamtimes.org/ur/interview/727983/امریکہ-افغانستان-میں-داعش-کو-لاکر-پاکستان-عدم-استحکام-سے-دوچار-اور-سی-پیک-متاثر-کرنا-چاہتا-ہے-پروفیسر-ڈاکٹر-خالدہ-غوث -------------------------------------------------- پاکستان کو ایران کیساتھ تعلقات اس نوعیت کے مضبوط کرنے چاہیئے جیسے ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ہوا کرتے تھے ٹائٹل : امریکہ افغانستان میں داعش کو لاکر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار اور سی پیک کو متاثر کرنا چاہتا ہے، پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث امریکہ نے دنیا کو زیادہ غیر محفوظ کر دیا ہے، بالخصوص مسلم دنیا کو عدم استحکام سے دوچار کیا اور فرقہ واریت کو ہوا دی -------------------------------------------------- جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سابق چیئرپرسن اور سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر پاکستان کی مینجنگ ڈائریکٹر کا "اسلام ٹائمز" کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ سعودی عرب کیساتھ پاکستان کے اچھے اور پرانے تعلقات ہیں، لیکن پاکستان کو ایران کے ساتھ اپنے تعلقات بہت زیادہ مضبوط کرنے چاہیئے، پاکستان کو ایران کیساتھ تعلقات اس نوعیت کے مضبوط کرنے چاہیئے کہ جیسے ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کے اندر ہوا کرتے تھے۔ متن : سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر پاکستان (نان پرافٹ ریسرچ تھنک ٹینک) کی مینجنگ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث سماجی رہنما ہونے کیساتھ ساتھ ملکی و عالمی امور کی ماہر اور معروف سیاسی تجزیہ کار ہیں، وہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن اور وومن اسٹڈی سینٹر کی ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں، اسکے بعد انہوں نے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری امریکہ سے حاصل کی، وہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں 33 سال سے زائد عرصہ تدریسی خدمات سرانجام دے چکی ہیں، وہ اکثر و بیشتر ملکی و غیر ملکی ٹی وی چینلز میں فورمز اور ٹاک شوز پر بحیثیت تجزیہ کار ملکی و عالمی امور پر اپنی ماہرانہ رائے پیش کرتی نظر آتی ہیں۔ اسلام ٹائمز نے پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث کیساتھ مشرق وسطیٰ، افغانستان میں داعش کی موجودگی، پاکستان کی خارجہ پالیسی و دیگر موضوعات کے حوالے سے انکے دفتر میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ اسلام ٹائمز: مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی کیا اسرائیل کے تحفظ کی خاطر ہے یا اسکی کوئی اور وجہ بھی نظر آتی ہے۔؟ پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث: امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں موجودگی کا سبب خالی اسرائیل کا تحفظ نہیں ہے، بلکہ وہ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے موجود ہے، وہ علاقے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے، اس سے بڑھ کر وہ یہ چاہتا ہے کہ خطے میں کوئی بھی مسلم ملک مستحکم نہ ہو، صدام حسین جیسا بھی تھا، لیکن اس کے دور میں عراق مستحکم تھا، لیکن امریکہ نے عراق کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا، لیبیا کو انہوں نے عدم استحکام سے دوچار کر دیا، ایران کے اندر ایک مضبوط لیڈرشپ ہے، جس سے امریکہ کو تکلیف ہے، اسی طرح وہ پاکستان کے استحکام پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکہ مسلم ممالک کو مستحکم نہیں دیکھ سکتا، اس لئے وہ مسلم ممالک کو عدم استکام سے دوچار کرنے کیلئے چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا ہے، اس حوالے سے مغرب بھی امریکہ کے ساتھ پیش پیش ہے، پھر خطے کے مسلم ممالک میں موجود قدرتی وسائل پر بھی امریکہ کی گہری نظر ہے، جس پر قبضہ کرنا بھی امریکہ کے پیش نظر ہے۔ اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اسرائیل کو ایران سے کوئی خطرہ ہے یا ایران کیجانب سے حملے کا کوئی خطرہ ہے۔؟ پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث: اسرائیل کو تو ویسے بھی امریکی مغربی چھتری تلے تحفظ حاصل ہے، ساٹھ اور ستر کی دہائی کی جنگ دیکھیں تو اسرائیل نے مسلم ممالک کی زمینوں پر قبضہ کیا ہے، مسلم ممالک کبھی بھی جنگوں میں جیتے نہیں، تو اسرائیل کہاں سے غیر محفوظ ہوگیا تھا، اگر اسرائیل کو ایران کا اتنا خوف تھا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت اتنی بڑھ جائے گی، تو میرا خیال ہے کہ ایران آنے والے سالوں میں اس پوزیشن پر جاتا نظر نہیں آتا کہ وہ اپنی بیرونی پالیسیوں کے تحت کہیں بھی جارحیت کا مرتکب ہو، مجھے نہیں لگتا کہ ایران آئندہ سالوں میں اسرائیل یا کسی بھی ملک پر جارحیت کرے، ایران میں بھی اندرونی مسائل ہیں، اس کے معاشی مسائل ہیں، وہ اپنی عوام کی معاشی بہتری کیلئے فعال ہے، اس پر انتہائی شدید عالمی پابندیاں لگی ہوئی ہیں، لہٰذا اس صورتحال میں وہ کسی ملک پر جارحیت کرنے کے حوالے سے فوکس نہیں کرسکتا۔ یہ جو امریکی دعویٰ ہے کہ مغربی دنیا کو خطرہ ہے، اسرائیل کو خطرہ ہے، یہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے امریکہ نے دنیا کو زیادہ غیر محفوظ کر دیا ہے، امریکہ نے کسی بھی طرح دنیا کو محفوظ نہیں کیا ہے، امریکہ نے بالخصوص مسلم دنیا کو عدم استحکام سے دوچار کیا ہے، تقسیم کیا ہے، امریکہ اور مغرب نے مسلم دنیا میں فرقہ واریت کو بھی بہت زیادہ ہوا دی ہے، گندی سیاست کی ہے۔ اسلام ٹائمز: مسلم دنیا کی تقسیم کی ذمہ داری کیا امریکہ پر عائد ہوتی ہے یا خود مسلم ممالک بھی اس تقسیم کے ذمہ دار ہیں۔؟ پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث: صرف امریکہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ مسلم دنیا بذات خود بہت زیادہ تقسیم کا شکار ہے، بٹوارا تو مسلم ممالک نے خود بھی کیا ہے آپس میں، یہ جو مسلم ممالک نے فوجی اتحاد بنایا ہے، اسے ایران اور دوسرے ممالک اچھی نظر سے تو نہیں دیکھتے ہیں، اسی تقسیم کا نتیجہ ہے کہ او آئی سی فعال نہیں ہے، خلیج تعاون کونسل فعال نہیں ہے، عرب لیگ فعال نہیں ہے، کوئی تنظیم ایسی نہیں کہ مسلم ممالک آپس کے اختلافات دور کر پائیں۔ بہرحال ہم مسلم دنیا کی تقسیم کا پورا کا پورا الزام مغرب کو نہیں دے سکتے، کیونکہ ہمارے پاس کیا عقل نہیں ہے۔ مسلم ممالک معاشرتی تنزلی کا شکار ہیں، جہالت ہے، تعلیم و تربیت پر کام نہیں کیا۔ اسلام ٹائمز: حال ہی میں اسرائیلی حملے کے جواب میں شام نے اسرائیل پر میزائل حملہ کیا، کیا آپ سمجھتی ہیں معاملہ بڑھتے بڑھتے پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔؟ پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث: خالی یہ حملہ نہیں، بلکہ جس طرح امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارتخانہ منتقل کر دیا ہے، ان سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ بجائے یہ کہ معاملات خرابی کی طرف نہ بڑھنے دیں، بلکہ اس کے برعکس ہر وہ اقدام اٹھائے جا رہے ہیں، جو معاملات کو مزید الجھا رہے ہیں، خرابی کی طرف لے جا رہے ہیں، اس حوالے سے بیرونی ممالک کا کردار بھی نظر آتا ہے، جس میں ایک طرف امریکہ تو دوسری طرف روس ہے، باہر کے ممالک بھی زیادہ مداخلت ہو رہی ہے۔ مجھے معاملات ختم ہوتے تو نہیں دکھ رہے، آپ یہ ٹینشن ختم ہوتے ہوئے نہیں دیکھیں گے، یہ اپنی جگہ رہیں گی، کبھی زور پکڑیں گی، کبھی ہلکی ہونگی، لیکن جہاں تک عالمی جنگ کی بات ہے تو میں یہ معاملات ابھی اس پوائنٹ پر جاتی ہوئی نہیں دیکھ رہی، لیکن ان خراب ہوتے معاملات میں مسلم ممالک کی عوام سب سے زیادہ متاثر ہوگی، یہ مسلم ممالک تباہی و بدحالی کا شکار ہونگے، جب تک مسلم ممالک خود اس صورتحال سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرینگے، عالمی طاقتیں انہیں کبھی بھی اس شکنجے سے نہیں نکلنے دینگی۔ اسلام ٹائمز: امریکہ کیجانب سے داعش کو افغانستان میں پروان چڑھایا جا رہا ہے، پس پردہ کیا عوامل نظر آتے ہیں۔؟ پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث: داعش افغانستان میں موجود ہے، ہماری خود بھی یہی رپورٹ ہے۔ پاکستان امریکہ کا ایک بہت پرانا اتحادی تھا، تاریخی طور پر دونوں ایک ہی سمت میں بڑھ رہے تھے، مگر اب پاکستان کی جگہ بھارت نے لے لی ہے، اس میں اقتصادی معاشی مواقع مدنظر ہے۔ امریکہ کو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ انڈیا صرف اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے امریکہ کے ساتھ ہے، ورنہ نظریاتی حوالے سے اس کی راہیں امریکہ سے جدا ہیں، انڈیا صرف اور صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا، کیونکہ وہ اپنے آپ کو خطے کی سپر پاور دیکھنے کا خواہاں ہے، انڈیا کو اچھی طرح پتہ ہے کہ آنے والے زمانے میں اگر امریکہ کی پوزیشن نیچے کی طرف ہوگی تو بھارت کی پوزیشن اوپر کی طرف ہوگی، کیونکہ آنے والی صدی تو ایشیا کی صدی ہے نا، امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اس کے مفادات کا تحفظ نہیں کر رہا ہے، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھی امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتا، کیونکہ اس میں چین کو رسائی ہے، خالی سی پیک یہاں نہیں ہے، بلکہ پورا خطہ، یہ سینٹرل ایشیا، جو Rail-road connectivity ہے نا، وہ امریکہ کیلئے خطرے کا باعث ہے اور سی پیک بھی اسی کا حصہ ہے، امریکہ کو چین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بالکل نہیں بھا رہا، یہ اسٹراٹیجکلی اس کے مفاد میں نہیں جا رہا ہے، لہٰذا امریکہ اس پورے منصوبے کو ڈسٹرب کرنا چاہے گا، پھر یہ کہ اگر افغانستان میں امن قائم نہیں ہوگا تو امریکہ کبھی بھی اس کا الزام کو اپنے اوپر نہیں لے سکتا، اس لئے اسکا الزام وہ پاکستان کو دینا چاہتے ہیں۔ اب پاکستان میں جو امن قائم ہو رہا ہے، پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں جو کمی آئی ہے، امریکہ اس کو کم ہوتا ہوا نہیں دیکھے گا، جب تب کہ افغانستان میں بھی دہشتگردی میں کمی نہ آجائے، اگر افغانستان میں دہشتگردی میں کمی نہیں آتی تو امریکہ پاکستان میں بھی دہشتگردی کو بڑھاوا دیتا رہے گا، کیونکہ اگر پاکستان میں امن قائم ہوگیا اور افغانستان میں امن قائم نہ ہوا تو یہ امریکہ کی ناکامی ہوگی، یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں داعش کو لایا جا رہا ہے، تاکہ سی پیک کو خراب کیا جائے، چین کی سینٹرل ایشیا اور اس سے آگے رسائی روکی جائے، Rail-road connectivity کو متاثر کیا جائے، پاکستان جو مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے، اس عدم استحکام سے دوچار کیا جائے، اسے اقتصادی و معاشی طور پر کمزور رکھا جائے، اگر ہم پاکستان کو پیسہ دینا ختم کرتے ہیں تو کہیں اور سے بھی پیسہ نہیں آئے، جبکہ سی پیک سے پاکستانی معیشت مضبوط ہوگی، وہ نہ ہوسکے، پاکستان جو روس اور چین کی طرف بڑھ رہا ہے، خود مختار ہو رہا ہے، یہ سب نہ ہوسکے، پاکستان نئے بنتے ہوئے اتحادوں میں مضبوط پوزیشن کے ساتھ حصہ نہ بن سکے، ان سب مقاصد کے حصول کیلئے امریکہ افغانستان میں داعش کو لاکر اسے ایک ٹول کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اسلام ٹائمز: مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر کی حساس صورتحال میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہونی چاہیئے۔؟ پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث: کبھی بھی خارجہ پالیسی ایسی نہیں ہونی چاہیئے کہ جھکاؤ ایک طرف ہو جائے، امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے تعلقات چین، روس اور نئے بننے والے اتحادوں کے ساتھ زیادہ مضبوط کرنے چاہیئے، سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے اچھے اور پرانے تعلقات ہیں، لیکن پاکستان کو ایران کے ساتھ اپنے تعلقات بہت زیادہ مضبوط کرنے چاہیئے، پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات اس نوعیت کے مضبوط کرنے چاہیئے کہ جیسے ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ہوا کرتے تھے، پاک ایران تعلقات اتنے مستحکم کرنا چاہیئے، پاکستان کو ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات فرقہ وارانہ بنیادوں پر استوار نہیں کرنا چاہیئے، ایران اسلامی دنیا کا بہت اہم اور مضبوط ملک ہے، یہی وجہ اپنے آپ میں کافی ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ سماجی، سیاسی، معاشی، اقتصادی و دیگر حوالوں سے تعلقات کو بہت مضبوط بنائے اور اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ بھی، فرقہ وارانہ بنیاد بالکل بھی نہیں ہونی چاہیئے، کیونکہ ہم پہلے ہی ملک میں انتہاپسندی جیسے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالیہ پیغام پاکستان بیانیہ بھی اسی کوشش کا حصہ ہے، پاکستان مسلم دنیا کا بہت اہم اور واحد ایٹمی ملک ہے، اسے مسلم دنیا کے ساتھ اپنی اس حیثیت کے ساتھ تعلقات بنانے چاہیئے، مسلم دنیا میں اپنا کردار بلند کرنا چاہیئے، اپنے آپ کو اقتصادی و معاشی طور پر مستحکم کرے، فرقہ وارانہ بنیاد پر تعلقات سے بالکل پرہیز کرنا ہوگا، فرقہ وارانہ تقسیم مسلم دنیا سے ختم ہونی چاہیئے، یہ مسلم دنیا کو کمزور سے کمزور تر کرتی چلی جائے گی اور اس کا فائدہ امریکہ اور مغرب کو جائے گا۔ اسلام ٹائمز: خطے میں نئے بلاک اور اتحادوں کے بننے کے حوالے سے آپکی کیا نگاہ ہے۔؟ پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث: سب کو معاشی و اقتصادی اتحاد بنتے دکھ رہے ہیں، لیکن مجھے تو آنے والے زمانے میں نئے عسکری اتحاد بنتے نظر آرہے ہیں، چھوٹے چھوٹے ممالک بڑے اتحادوں میں شمولیت اختیار کرینگے، ابھی تو آپ کو معاشی اتحاد بنتے دکھ رہے ہیں، جیسے امریکہ، بھارت، جاپان، آسٹریلیا وغیرہ کے، پھر اسی طرح روس، چین، ایران کے معاشی اتحاد بنتے دکھ رہے ہیں، مگر آپ کو عسکری اتحاد بھی بنتے ہوئے دکھیں گے، جہاں ترکی بھی دکھے گا، شام بھی دکھے گا۔ اسلام ٹائمز: اس صورتحال میں پاکستان کہاں نظر آتا ہے۔؟ پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث: پاکستان اپنے آنے والے زمانے میں اپنی الجھنوں میں الجھا رہے گا، اس کو پہلے اپنے آپ کو معاشی و اقتصادی حوالے سے مضبوط کرنا پڑیگا، اپنے آپ کو منوانے کیلئے، اس کے بعد اگلے دس پندرہ سالوں کے بعد پھر دکھے گا کہ پاکستان کہاں پر کھڑا ہوتا ہے، بحیثیت محب وطن پاکستانی مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان معاشی و اقتصادی حوالے سے بہت کمزور ہوگیا ہے، اندرونی طور پر بہت کمزور ہوگیا ہے، لیکن اگر آنے والے پانچ دس سالوں میں پاکستان اپنے آپ کو مضبوط و مستحکم کر لیتا ہے، ہمارے لوگ غربت کی سطح سے اوپر آجائیں، تعلیمی، سماجی حوالے سے اوپر آجائیں، حتیٰ صرف بہتری کی طرف دکھنے لگیں تو دنیا آپ کی قدر بھی کریگی اور ڈرے گی بھی۔