اسلام ٹائمز 2 May 2021 گھنٹہ 11:24 https://www.islamtimes.org/ur/news/930284/یورپی-پارلیمان-میں-توہین-رسالت-قانون-پر-قرارداد-منظور-ہونا-تشویشناک-ہے-جاوید-قصوری -------------------------------------------------- ٹائٹل : یورپی پارلیمان میں توہین رسالت قانون پر قرارداد منظور ہونا تشویشناک ہے، جاوید قصوری -------------------------------------------------- لاہور میں خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پنجاب کا کہنا تھا کہ ناموس رسالت کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کو بنیادی ایمان کا حصہ ہے، وہ اس پر جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا، یورپ مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کا سلسلہ فوری بند کرے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی پارلیمان میں توہین رسالت قانون پر قرار داد کا منظور ہونا تشویشناک اور قابل افسوس امر ہے، ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دنیا کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ناموس رسالت کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کو بنیادی ایمان کا حصہ ہے، وہ اس پر جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا، یورپ مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کا سلسلہ فوری بند کرے۔انہوں نے کہا کہ کتنے شرم کا مقام ہے کہ جس ایشو پر پاکستانی حکومت نے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی، اسی ایشو پر سارا یورپ اکٹھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کی حفاظت کے حوالے سے عمران خان کا فلسفہ ناکام ہو چکا ہے، حکومت پاکستان کو اس حوالے سے امت مسلمہ میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، یہ حساس معاملہ ہے جس پر تمام مسلم ممالک کو اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یورپ کیساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات کو مقدس ہستیوں اور تمام مذاہب کے احترام کیساتھ مشروط کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اپنی کون کون سی غلطیوں کا اعتراف کریں گے، تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا گیا، مہنگائی میں ہوشرُبا اضافہ اور بیروزگاری کے ریکارڈ قائم کیے گئے، وعدہ خلافیوں کی سنچری مکمل کی گئی۔ محمد جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا غلطیوں کا اعتراف کافی نہیں، اگر وزیراعظم عمران خان نے بار بار سنگین غلطیاں ہی کرنی ہیں تو ان کا اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ ملک وقوم کو جتنا نقصان تحریک انصاف کی حکومت نے پہنچایا ہے، اتنا کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ مسائل کے انبار لگے ہیں، کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں جہاں تسلی بخش کام ہو رہا ہو، عوام بد حال ہو چکے ہیں۔