اسلام ٹائمز 16 Aug 2022 گھنٹہ 8:33 https://www.islamtimes.org/ur/article/1009413/حالات-حاضرہ-کے-پیش-نظر-ایک-رہبر-کی-ضرورت -------------------------------------------------- ٹائٹل : حالاتِ حاضرہ کے پیشِ نظر ایک رہبر کی ضرورت -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: اس دور میں اپنے امام (عج) کا انتظار کرنا ہے، مگر ایک بات ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ انتظارِ امام (عج) کا مطلب فقط ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں ہے بلکہ اپنے عمل کو اس طرح بنانا ہے کہ ہم سب خود کو امام (عج) کی نصرت کے قابل بنا سکیں۔ ہماری زندگی کا ہدف وقت کے امام (عج) کے ظہور میں تعجیل کیلئے زمینہ سازی ہونا چاہیئے اور ہمیں کوئی بھی ایسا عمل انجام نہیں دینا چاہیئے کہ جو امام (عج) کے ظہور میں تاخیر کا باعث بنے۔ یہ دنیا جو اسوقت ظلم و بربریت سے پر ہوچکی ہے اور مظلوم ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، وہ سب ایک ہی فریاد کر رہے ہیں: روداد اپنے غم کی سناتی ہے کائنات، آخری حسین (ع) بلاتی ہے کائنات متن : تحریر: دخترِ مھدی (عج) آجکل کے دور میں ہر طرف فتنہ، فساد، ظلم و جور اور قتل و غارت عروج پر ہے۔ ساری دنیائے اسلام مظالم سے بھری پڑی ہے۔ ہر طرف حق کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور باطل قوتیں طاقت کے نشے میں مست ہوکر مظالم رواں رکھے ہوئے ہیں۔ اگر حالاتِ حاضرہ پر نظر دوڈائی جائے تو ہر طرف خانہ جنگی کی صورتحال سامنے آتی ہے۔ کہیں یمن، شام، عراق اور بحرین میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے تو کہیں کشمیر و فلسطین کے لوگوں پر مظالم ڈھا کر انہیں گھروں سے بے گھر کیا جا رہا ہے۔ ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اور لوگوں کی زندگیاں ویران ہوچکی ہیں۔ انسان جو کہ فطرتاً امن پسند ہے، اس قسم کی صورتحال سے کافی پریشان ہے، مگر انسانی دماغ دنیا کے حالات دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ان سب حالات کے باوجود یہ نظامِ کائنات کیسے چل رہا ہے؟ کیا مظلوموں کے ساتھ انصاف ہوگا؟ اگر انصاف ہوگا تو کون کرے گا وہ انصاف۔؟ اس دنیا میں موجود ہر فرد کو کسی ایسے انسان کی تلاش ہے، جو اس دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے اور امن و سکون کا گہوارہ بنا دے۔ کسی کے آنے کی کرتی ہیں آرزو آنکھیں کسی کو ڈھونڈتی رہتی ہیں چار سو آنکھیں یہاں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل یہ بات ہے کہ دنیا کو جس رہبر کی ضرورت ہے، انہیں کیسا ہونا چاہیئے، ان میں کونسی ایسی خصوصیات پائی جائیں کہ جس کی بنا پر وہ اس دنیا کے مسائل حل کرسکیں۔؟ سب سے پہلے یہ کہ وہ عادل ہو، تاکہ دنیا میں عدل و انصاف قائم کرسکیں اور ان میں اتحاد، سچائی، اخوت، صبر و استقامت اور جرات مندی جیسی صفات شامل ہوں، تاکہ وہ اپنی ان خصوصیات کو بروئے کار لاکر دنیا کے حالات ٹھیک کریں۔ ان کو شجاع، نڈر، باخبر اور ہوشیار ہونا چاہیئے، تاکہ وہ دشمن اسلام کا قلع قمع کرسکیں۔ ان کی سوچ فکری اور انقلابی ہو۔ ان کا چال چلن، اٹھنا بیٹھنا حتیٰ ہر عمل دوسروں کے لیے نمونہ عمل ہونا چاہیئے، تاکہ دوسرے لوگ ان سے متاثر ہوکر سکھیں۔ مگر ایک سوال یہ بھی ہے کہ وہ کیا کام انجام دینگے؟ سب سے پہلے انہیں خداوند عالم کے انقلابی منصوبوں پر عمل کرنا چاہیئے، جو کہ ابھی تک نہیں ہوا۔ مطلب ان تمام اصولوں اور قوانین کو نافذ کرے، جو علم و ایمان کی حکومت کے سائے میں ظلم و جور اور ناحق امتیازات کا خاتمہ کر دیں۔ تمام امت مسلمہ کو ایک جھنڈے کے نیچے جمع کرے، تاکہ معاشرے میں طاقت کے نشے میں چور ظالموں اور ستمگروں کے زور کو ختم کرنے، تفرقہ بازی روکنے اور دنیا میں اخوت اور مساوات قائم کرنے کے اقدامات ہوسکیں۔ اس پوری دنیا کے نظم و نسق کو سنبھالنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے وسائل ایجاد کریں، جو کہ پوری دنیا کو آپس میں ملا کر ان کے درمیان سریع و دائمی رابطہ بروئے کار لاسکیں۔ دنیا میں انقلاب برپا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ایسے گروہ کی تربیت کی جائے، جو انقلابی فوج کے عظیم حصے کو تشکیل دے سکے اور ان کے ہر عمل میں ایسا جزبہ ہونا چاہیئے کہ ظلمت کی کایا پلٹ جائے۔ اسلام دشمن عناصر کے خلاف منظم اور مضبوط حکمت عملی کے تحت کارروائی کی جائے، تاکہ ان کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ جائے، اس کام کے لیے یقین محکم اور عمل پیہم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بقولِ اقبال(رہ) یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں اب اگر ان تمام خصوصیات کو مدنظر رکھا جائے تو یہ فقط ایک شخصیت میں ہی نظر آتی ہیں اور وہ ہیں ہمارے وقت کے امام (عج) جو کہ آخری حجت ہیں اور اس وقت پردہ غیب میں موجود ہیں اور جب یہ دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گیو تب وہ (عج) آکر اس کو عدل و انصاف سے بھر دینگے۔ آپ (عج) کے آنے سے پہلے موت ہے یہ زندگی زندگی خود ہوگی زندہ آپ (عج) کے آنے کے بعد لیکن یہاں پر اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب اتنا ظلم بڑھ چکا ہے تو امام (عج) کا ظہور کیوں نہیں ہوتا؟ تو اس کا ایک جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہمہ گیر اور عالمی انقلاب کے لیے فقط ایک لائق و شائستہ رہبر کا وجود ہی کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ عوام بھی آمادہ ہو۔ امام (عج) غیبت میں ہیںو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ دنیا کے حالات سے بے خبر ہیں بلکہ وہ (عج) تو ہر لمحے سے باخبر ہیں اور ناآشنا طریقوں سے انسانوں کے درمیان آمد و رفت رکھتے ہیں۔ امام (عج) کا وجود غیبت کے پردوں کی آڑ میں رہتے ہوئے یہ خاصیت رکھتا ہے کہ اپنی شخصیت کے اثر و نفوذ کی طاقتوں کے ذریعے آمادہ دلوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔ اب جبکہ ظلم اس قدر بڑھ چکا ہے اور نظامِ کائنات پھر بھی چل رہا ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کوئی نہ کوئی ہے، جس کے وجود کی برکت سے یہ دنیا چل رہی ہے اور وہ وجود بیشک امامِ زماں (عج) کا ہے اور کوئی بھی ان (عج) کے وجود کا انکار نہیں کرسکتا۔ علامہ شیخ صدوق اپنی ایک کتاب "فلسفہ غیبت مھدی (عج)" میں رسولِ خدا (ص) کا ایک فرمان لکھتے ہیں کہ "جس نے میری اولاد میں سے قائم (عج) کا انکار کیا گویا اس نے میرا (ص) انکار کیا" ایک اور جگہ رسولِ خدا (ص) کا فرمان ہے کہ "قائم (عج) میری اولاد میں سے ہوگا، جو اس زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح سے بھر دے گا، جس طرح وہ ظلم وجود سے بھر چکی ہوگی۔" سو اب یہ بات تو طے ہے کہ یہ کائنات قائم (عج) کے وجود سے باقی ہے اور ایک نہ ایک دن ان (عج) کا ظہور حتمًا ہوگا، خدا کے حکم سے اور وہی (عج) اس فتنہ و فساد سے پر دنیا کو امن و امان کا گہوارہ بنائیں گے۔ سو ہمیں اس دور میں اپنے امام (عج) کا انتظار کرنا ہے، مگر ایک بات ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ انتظارِ امام (عج) کا مطلب فقط ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں ہے بلکہ اپنے عمل کو اس طرح بنانا ہے کہ ہم سب خود کو امام (عج) کی نصرت کے قابل بنا سکیں۔ ہماری زندگی کا ہدف وقت کے امام (عج) کے ظہور میں تعجیل کیلئے زمینہ سازی ہونا چاہیئے اور ہمیں کوئی بھی ایسا عمل انجام نہیں دینا چاہیئے کہ جو امام (عج) کے ظہور میں تاخیر کا باعث بنے۔ یہ دنیا جو اس وقت ظلم و بربریت سے پر ہوچکی ہے اور مظلوم ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، وہ سب ایک ہی فریاد کر رہے ہیں: روداد اپنے غم کی سناتی ہے کائنات آخری حسین (ع) بلاتی ہے کائنات