?>?>اسلام ٹائمز 29 Nov 2019 گھنٹہ 20:10 https://www.islamtimes.org/ur/news/829737/لاہور-میں-طلبہ-حقوق-مارچ-نوجوان-لڑکوں-اور-لڑکیوں-کو-بھر-پور-شرکت -------------------------------------------------- ٹائٹل : لاہور میں طلبہ حقوق مارچ، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو بھر پور شرکت -------------------------------------------------- ریلی میں شریک نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ہماری وابستگی عمران خان کیساتھ تھی مگر عمران خان نے ہمیں مایوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگا کے برسرِ اقتدار آنیوالی حکومت تعلیمی اداروں میں گھٹن، کرپشن اور دیگر بے اعتدالیوں کے خاتمے اور طلبا کو کم ازکم کیمپس کی چار دیواری میں درپیش مسائل پر آواز بلند کرنے کا حق دینے کی حوصلہ افزائی کرے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ لاہور میں مال روڈ پر پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو کے تحت یومِ یکجہتیِ طلباء ریلی نکالی گئی۔ جس میں طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ طلبہ نے پنجاب اسمبلی کے سامنے فیصل چوک میں دھرنا دیا۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ گھٹن کیعمومی بڑھتیفضا کے سبب طلبا و طالبات زیادہ متحرک ہو گئے ہیں اور اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ یومِ یکجہتی فیسوں میں بڑے پیمانے پر اضافے، نجی تعلیمی اداروں کی منافع خور بے لگامی، تعلیمی اداروں میں قانون نافذ کرنیوالوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت، یونین سازی کے حق کی بحالی،تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی جنسی ہراسگی، بدعنوانیوں کے فروغ اور سوال پوچھنے کی حوصلہ شکنی کے سلسلے میں منایا جا رہا ہے۔ ریلی میں شریک نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ہماری وابستگی عمران خان کیساتھ تھی مگر عمران خان نے ہمیں مایوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگا کے برسرِ اقتدار آنیوالی حکومت تعلیمی اداروں میں گھٹن، کرپشن اور دیگر بے اعتدالیوں کے خاتمے اور طلبا کو کم ازکم کیمپس کی چار دیواری میں درپیش مسائلپر آواز بلند کرنے کا حق دینے کی حوصلہ افزائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ نئے دور میں تعلیمی بجٹ میں اضافے کے بجائے کمی دیکھنے میں آئی ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں ٹھیک ٹھاک کٹوتی ہوئی ہے مگر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گھبرانا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباء اگر اپنے حق کیلئے آواز اٹھائیں تو تعلیمی اداروں سے نکال دیا جاتا ہے۔ لاہور میں ہونیوالے طلبہ مارچ میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے پرچم بردار طلبہ بھی شریک تھے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ جتنی بھی سرکاری و پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہیں ان میں داخلے کے وقت طلبا و طالبات سے ایک حلف نامے پر دستخط کروائے جاتے ہیں کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے۔ سیاسی سرگرمی سے کیا مراد ہے؟ اس کی حلف نامے میں کوئی وضاحت نہیں۔ چنانچہ اگر کوئی طالبِ علم پانی، رہائش، ٹرانسپورٹ، فیس، بدعنوانی، ہراسگی سمیت کسی بھی معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کرے تو اسے بھی سیاسی سرگرمی قرار دے کر تادیبی کاروائی ہو سکتی ہے اور ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعلمی اداروں میں یونین کی بحالی کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں یونینز کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں کی سیاسی تربیت ہو تاکہ وہ عملی زندگی میں بہتر انداز میں پرفارم کر سکیں۔ مارچ کے شرکاء طلبہ حقوق سے زیادہ حکومت اور فوج کیخلاف سراپا احتجاج تھے۔ طلبہ نے سرخ پرچم بھی اٹھا رکھے تھے اور کیمونزم کی پروموشن کیلئے کیمونسٹوں کا معروف نعرہ سرخ ایشاء لگا رہے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ چند نوجوان طلبہ حقوق کے نام نوجوانوں کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان طلبہ حقوق کا خوبصورت نعرے لے کر آئے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان ان کی جانب راغب ہو جائیں گے مگر ان کے پس پردہ مقاصد کچھ اور ہیں اور لگتا ہے کہ روس کا سرخ انقلاب دوبارہ سر اٹھا رہا ہے تاہم طلبہ مارچ کے منتظمین نے ان تحفظات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی این جی او یا گروہ سے تعلق نہیں، وہ صرف طلبہ کو بیدار کرنا چاہتے ہیں۔ مارچ میں زیادہ تر ایسے نوجوان شریک تھے جو تعلیمی اداروں میں سیکولر ماحول کے خواہاں ہیں۔ دوسری جانب ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں پہلے سے فعال تنظیموں اسلامی جمعیت طلبہ، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، انجمن طلبہ اسلام، المحمدیہ سٹوڈنٹس، اہلحدیث سٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت دیگر مذہبی و سیاسی طلبہ تنظیمیں اس مارچ سے لا تعلق رہیں۔ طلبہ تنظیموں کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ اس مارچ کے منتظمین کے اہداف واضح نہیں اس لئے انکی فی الحال حمایت نہیں کر سکتے جبکہ بعض طلبہ رہنماوں نے طلبہ مارچ کے منتظمین کو بیرونی قوتوں کے آلہ کار قرار دیا۔