اسلام ٹائمز 12 Jan 2020 گھنٹہ 11:34 https://www.islamtimes.org/ur/article/838052/برطانوی-سفیر-رنگے-ہاتھوں-گرفتار -------------------------------------------------- ٹائٹل : برطانوی سفیر رنگے ہاتھوں گرفتار -------------------------------------------------- امریکہ اور بوڑھا استعمار برطانیہ جان لے کہ استقامتی و مزاحمتی بلاک اس طرح کی سازشوں کا شکار نہ ہوگا اور اپنے اتحاد و انسجام سے شہید قاسم سلیمانی کے قاتلوں سے سخت انتقام کے وعدے پر قائم رہے گا، ان شاء اللہ۔ متن : اداریہ ایران میں یوکرینی طیارے کے حادثے اور ایرانی حکام کی طرف سے اس کو ایک انسانی غلطی قرار دیکر متاثرین اور ایرانی قوم سے معذرت ایک خوش آئند اور سامراجی ممالک کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ حالت جنگ میں انسانی غلطی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکی صدر اور امریکی وزیر خارجہ نے ایران کو جس انداز سے حساس مقامات پر حملے کی دھمکی کے ساتھ ساتھ مذہبی و ثقافتی مراکز کو نشانہ بنانے کا کہہ رکھا تھا، ایسے میں ایک مسافر طیارے کی فنی خرابی کیوجہ سے اپنے اصل راستے کو چھوڑ کر حساس علاقے کی طرف پرواز کرنا اور اس کے امکانی نقصان سے بچنے کے لیے ایران کے دفاعی میزائل سسٹم سے شارٹ رینج میزائل کا فائر ہونا جنگی صورت حال میں قابلِ فہم ہے، لیکن اس واقعے کو بہانہ بنا کر امریکہ اور سامراجی طاقتوں نے ایران کے خلاف جس طرح پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے، اُس نے امریکہ کے حقیقی چہرے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ تہران میں دو یونیورسٹیوں، امیر کبیر اور صنعتی شریف کے طلبہ نے گذشتہ رات یوکرینی طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونیوالے اپنے ساتھیوں کی یاد میں تعزیتی اجتماع منعقد کیا، جسے بعض انقلاب دشمن عناصر نے حکومت کیخلاف ایک احتجاج میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ حکام اور سکیورٹی کے اراکین اس کو ایک تعزیتی اجتماع سمجھ رہے تھے، لیکن جب یہ اجتماع پرتشدد اجتماع کا رنگ اختیار کرنے لگا تو سکیورٹی ادارے بھی فعال ہوگئے، لیکن سکیورٹی حکام کو اس وقت حیرانی ہوئی، جب برطانیہ کے سفیر روب میک ائیر (Rob Macaire) کیمرہ مین کا بھیس بدل کر طلبہ کو اشتعال دلا رہے تھے۔ فارسی پر مکمل تسلط رکھنے کیوجہ سے برطانوی سفیر طلبہ میں گھل مل کر اُن کو پرتشدد کارروائی پر اُکسا رہے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ اور حراست میں لے لیا۔ امیر کبیر یونیورسٹی کے سامنے برطانوی سفیر کی اس حرکت پر ایرانی حکومت کا برہم ہونا لازمی امر تھا۔ برطانوی سفیر کو کچھ دیر بعد رہا کر دیا گیا، لیکن اجتماعات کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آئی کہ امریکہ، برطانیہ اور اس کے حواری شہید مقاومت اور استقامت جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اتحاد اور قومی جوش و جذبے کو کمزور کرنے اور مذموم اہداف کے حصول کے لیے ایرانی عوام اور میڈیا کی توجہ کسی اور طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور بوڑھا استعمار برطانیہ جان لے کہ استقامتی و مزاحمتی بلاک اس طرح کی سازشوں کا شکار نہ ہوگا اور اپنے اتحاد و انسجام سے شہید قاسم سلیمانی کے قاتلوں سے سخت انتقام کے وعدے پر قائم رہے گا، ان شاء اللہ۔