اسلام ٹائمز 4 Feb 2023 گھنٹہ 21:37 https://www.islamtimes.org/ur/article/1039555/جمہوریت-اور-ا-زادی-اظہار-کے-دعوے-بے-نقاب -------------------------------------------------- ٹائٹل : جمہوریت اور آزادیٔ اظہار کے دعوے بے نقاب -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ڈیموکریٹس نے ریپبلکن پر الزام لگایا کہ انہوں نے الہان عمر کو انکی نسل کی بنیاد پر ہدف بنایا ہے۔ الہان عمر نے ایوان کے فلور پر اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا کسی کو مجھے نشانہ بنائے جانے پر حیرانی ہوئی ہے؟"، انہوں نے کہا کہ ’’جب طاقت کو پیچھے دھکیلا جائے تو وہ آپکو واپس دھکیلتی ہے۔‘‘ ووٹنگ کے دوران انکے ڈیموکریٹک ساتھی انہیں گلے لگاتے رہے۔ الہان عمر نے اپنی اختتامی تقریر میں کہا کہ ’’میری آواز بلند اور مضبوط ہوتی جائے گی اور میری قیادت کو دنیا بھر میں پذیرائی ملے گی۔‘‘ متن : تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتون مسلم نمائندہ الہان ​​عمر کو صیہونی حکومت پر تنقید کرنے پر امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان میں ان کے حق میں 211 اور مخالفت میں 218 ووٹ پڑے۔ ایک انڈین اخبار کے مطابق الہان عمر کو اس لئے نکال دیا گیا کہ انہوں نے اسرائیل کے مظالم کے خلاف بیانات دیئے ہیں۔ جیسا کہ ایک روز قبل خبر آئی تھی کہ امریکہ کی اولین ۲ مسلم خاتون سینیٹرز میں سے ایک الہان عمر کو خارجہ کمیٹی سے نکالنے کیلئے کانگریس میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے۔ اس بل کو کانٹے کی ٹکر کے بعد ہی سہی منظور کر لیا گیا ہے۔ اس ووٹنگ کی وجہ ڈیموکریٹ دور کے آخری سیشن میں ان کے اسرائیل مخالف تبصرے تھے، جس سے انتہائی دائیں بازو کے ریپبلکن قانون سازوں کی برہمی میں اضافہ ہوا۔ ایوان کے اسپیکر کیون میکارتھی نے نئی ریپبلکن اکثریتی کانگریس میں صومالی نژاد مسلم خاتون کے خلاف ریپبلکن موقف کی حمایت کی جبکہ کچھ ریپبلکن قانون سازوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ہاؤس کمیٹی سے کسی رکن کے اخراج کی دو سال پہلے تک مثال نہیں ملتی۔ اس سے قبل ڈیموکریٹس نے جارجیا سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن رکن گانگریس مارجوے ٹیلر گرین اور ایریزونا کے پال گوسر کو، جنہیں انتہائی دائیں بازو کے رہنماء سمجھا جاتا تھا، ہاؤس کی کمیٹیوں سے نکال دیا تھا۔ 20 اپریل2021ء الہان عمر کو خارجہ امور کی کمیٹی سے نکالنے کے حق میں218 ووٹ آئے جبکہ 211 ارکان نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔ امریکی ایوان نمائندگان کی رکن "الہان ​​عمر" اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید اور اس حکومت کے جرائم کی مذمت کرنے کی وجہ سے کافی عرصے سے دباؤ میں ہیں۔ وہ ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی رکن تھيں اور انہوں نے ہمیشہ صیہونی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف تل ابیب کے اقدامات بالخصوص صیہونی حکومت کے مجرمانہ حملوں پر بارہا تنقید کی ہے اور واشنگٹن سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو مالی اور فوجی امداد فراہم کرنے پر نظرثانی کرے۔ اس لیے وہ اور امریکی ایوان نمائندگان کے ایک اور مسلمان رکن "رشیدہ طالب" اسرائیل مخالف موقف اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایتی پالیسیوں کی مخالفت کی وجہ سے کافی عرصے سے دباؤ میں ہیں۔ الہان ​​عمر نے کچھ عرصہ قبل اس حوالے سے اعلان کیا تھا کہ جو بھی فلسطینی علاقوں پر قبضے پر تنقید کرے گا، اسرائیلی حکومت اس کے ساتھ اخراج کی پالیسی اپنائے گی۔ الہان ​​عمر اور رشیدہ طالب کا موقف ہمیشہ امریکی پالیسیوں کے خلاف اور فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت میں رہا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کے ان دونوں نمائندوں نے ہمیشہ صیہونی حکومت کے جرائم کے حوالے سے امریکہ کی حمایت سے انکار کیا ہے، اس لیے ان پر امریکہ میں اسرائیل کی فعال لابیوں نے مختلف سیاسی بہانوں سے پریشر ڈالا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کے ان دو ارکان کا مقبوضہ علاقوں کا دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔ یہ دونوں نمائندے اسرائیل کی "بائیکاٹ، مہم کے بھی حق میں ہیں اور اسی وجہ سے ان پر شدید دباؤ ہے، لیکن وہ ہمیشہ اپنے موقف پر اصرار کرتی رہی ہیں۔ ان دونوں نمائندوں کا موقف اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف ہے۔ دوسری طرف وہ مسلمان ہونے کی وجہ سے بھی دباؤ میں ہیں اور امریکی پارلیمنٹ کے بہت سے نمائندے اسلامو فوبیا کی پالیسی کی بدولت ان دونوں کی موجودگی کو تسلیم نہیں کرتے، خاص طور پر ریپبلکن پارٹی کی اکثریت۔ اب جبکہ ریپبلکن اکثریت حاصل کرچکے ہیں، انہوں نے انہیں نکالنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ ایوان نمائندگان کے ریپبلکن نمائندے مائیک والٹز نے اس حوالے سے کہا: اسرائیل اور امریکہ کی قدریں مشترک ہیں اور جو لوگ ان اقدار کی حمایت کرتے ہیں، وہ خارجہ تعلقات کی کمیٹی میں شامل ہونے کے مستحق ہیں اور اس کمیٹی میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ اور کوئی جواز نہیں ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی ڈیموکریٹک نمائندے "الہان ​​عمر" نے اس ایوان کے اسپیکر کیون میکارتھی کی جانب سے انہیں خارجہ تعلقات کی کمیٹی سے ہٹانے کے فیصلے پر تنقید کی اور کیون میکارتھی کے اس فیصلے کو نسل پرستانہ قرار دیا۔ تمام تر دباؤ کے باوجود، امریکی سیاسی میدانوں میں مسلمانوں کی سرگرمیاں اس قدر بڑھی ہیں کہ کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز، شہری حقوق کی وکالت کرنے والے گروپ نیز جیٹ پیک،(جو کہ ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے) کے تجزیہ کے مطابق مسلمانوں کی نمائندگی بڑھانے پر توجہ مرکوز ہو رہی ہے۔ امریکی سیاسی منظر نامے میں، امریکی مسلمانوں نے مقامی، ریاستی اور وفاقی وسط مدتی انتخابات میں اب تک کم از کم 83 نشستیں جیتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اب بھی امریکہ میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے اسرائیل مخالف پالیسیاں امریکی حکومتوں کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ تاہم "الہان ​​عمر" کی بے دخلی اور اسلامو فوبیا پھیلانے کی کوششوں نیز امریکہ میں اسرائیلی لابی کے اثر و رسوخ کے باوجود اس ملک کے معاشرے میں اسرائیل مخالف پالیسیاں بڑھ رہی ہیں۔ ڈیموکریٹس نے ریپبلکن پر الزام لگایا کہ انہوں نے الہان عمر کو ان کی نسل کی بنیاد پر ہدف بنایا ہے۔ الہان عمر نے ایوان کے فلور پر اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا کسی کو مجھے نشانہ بنائے جانے پر حیرانی ہوئی ہے؟"،  انہوں نے کہا کہ ’’جب طاقت کو پیچھے دھکیلا جائے تو وہ آپ کو واپس دھکیلتی ہے۔‘‘ ووٹنگ کے دوران ان کے ڈیموکریٹک ساتھی انہیں گلے لگاتے رہے۔ الہان عمر نے اپنی اختتامی تقریر میں کہا کہ ’’میری آواز بلند اور مضبوط ہوتی جائے گی اور میری قیادت کو دنیا بھر میں پذیرائی ملے گی۔‘‘  ری پبلکن نے انہیں خارجہ امور کی کمیٹی سے خارج کرنے کیلئے ان کے 6 بیانات کو بنیاد بنایا۔ اوہائیو کے ریپبلکن رکن میکس ملر نے، جو سابق صدر ٹرمپ انتظامیہ میں شامل تھے، قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا تھا کہ عمر کے تبصروں سے ایوان نمائندگان کی بے توقیری ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ مباحثے کے دوران کئی یہودی اراکین نے الہان عمر کی حمایت کی اور انہیں ایک فعال رکن قرار دیا، جو ہر موضوع پر آواز اٹھانا جانتی ہیں۔ ’’ہم یہاں خاموش رہنے کیلئے نہیں آئے ہیں‘‘ الہان عمر کانگریس کی پہلی دو مسلم خاتون اراکین میں شامل ہیں۔ وہ ایوان میں حجاب پہننے والی پہلی خاتون بھی ہیں، جنہیں مذہب کی بنیاد پر ایوان میں حجاب پہننے کی اجازت دینے کیلئے قواعد میں تبدیلی کی گئی تھی۔ قرارداد منظور ہونے کے بعد انہوں نے ٹویٹ کیا ’’ہم خاموش رہنے کیلئے کانگریس میں نہیں آئے ہیں، ہم یہاں دنیا بھر کے ان مظلوموں کی آواز اٹھانے آئے ہیں، جو بے گھر کر دیئے گئے اور کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔"