اسلام ٹائمز 22 Nov 2022 گھنٹہ 12:37 https://www.islamtimes.org/ur/article/1026126/لاہور-بین-الاقوامی-اسلامی-آرٹ-فیسٹیول-امن-کا-پیغام -------------------------------------------------- ٹائٹل : لاہور، بین الاقوامی اسلامی آرٹ فیسٹیول، امن کا پیغام -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: کانفرنس کا ہر سیشن وقت پر شروع ہوتا۔ ہر سیشن میں سامعین کی بڑی تعداد آ موجود ہوتی۔ سوال و جواب کی بھی نشست ہوتی۔ نظم و ضبط کا کمال مظاہرہ دیکھنے کو ملتا۔ جیسے جیسے فیسٹیول آگے بڑھتا گیا، اسکا لطف دوبالا ہوتا گیا۔ اس فیسٹیول کے انعقاد کی خاص وجہ بین الاقوامی اسلامی آرٹ کا دن تھا۔ متن : رپورٹ: صبح صادق لاہور آرٹس کونسل اور آرٹس کونسل پاکستان کراچی نے بنک آف پنجاب کے تعاون سے چار روزہ بین الاقوامی اسلامی آرٹ فیسٹیول کا انعقاد کیا۔ جس میں متعدد اسلامی ملکوں ایران، سعودی عرب، یمن، ترکی کے علاوہ پاکستان کے گوشے گوشے سے اسکالرز، دانشور، آرٹسٹوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اسلامی آرٹ پر مختلف حوالوں سے ہر روز کئی کئی سیشنز جاری رہے اور ان سیشنز میں مندوبین نے اپنے اندر چھپے ہوئے اسلامی آرٹ کے خزانے کو باہر نکالا اور لاہور کی محبت میں رواں ہوئے اسلامی آرٹ کے آفاقی پہلوؤں اور عمیق گہرائیوں پر غور کیا گیا۔ یہ فیسٹیول چار روز تک جاری رہا۔ یوں شرکاء کے شب و روز باہمی مکالمے کی خوبصورت فضا میں بسر ہوئے۔ یہ فیسٹیول نوجوانوں کیلئے اسلامی آرٹ کو جاننے کا عظیم الشان ایونٹ ثابت ہوا۔ پاکستان میں خطاطی کی تحفظ اور فروغ کی ضامن تنظیم پاکستان کیلگرافی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عرفان قریشی کی انتظامی صلاحیتوں نے سب کو حیرت میں ڈالے رکھا کہ اس عمر میں وہ ایک نوجوان کی طرح فیسٹیول کے ہر سگمنٹ میں موجود رہے۔ چیئرمین الحمراء رضی احمد، ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی اس تاریخی آرٹ فیسٹیول پر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے بین الاقوامی اسلامی آرٹ فیسٹیول میں ایران، ترکی، یمن، سعودی عرب اور پاکستان کے بڑے اور قدآور اسکالرز کو الحمراء کی چھت کے نیچے اکٹھا کرکے نوجوانوں کو اسلامی آرٹ کے خزانوں سے مالا مال کرنے اور اسلامی علوم و فنون کے چشموں سے سیراب اور فیضیاب ہونے کا موقع فراہم کیا۔ کانفرنس کا ہر سیشن وقت پر شروع ہوتا۔ ہر سیشن میں سامعین کی بڑی تعداد آ موجود ہوتی۔ سوال و جواب کی بھی نشست ہوتی۔ نظم و ضبط کا کمال مظاہرہ دیکھنے کو ملتا۔ جیسے جیسے فیسٹیول آگے بڑھتا گیا، اس کا لطف دوبالا ہوتا گیا۔ اس فیسٹیول کے انعقاد کی خاص وجہ بین الاقوامی اسلامی آرٹ کا دن تھا۔ جسے یونیسکو نے 26 نومبر 2019ء کو اقوام متحدہ کی جنرل کانفرنس کے 40 ویں سیشن میں 18 نومبر کو منانے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے قیام کے 74 برس بعد اس دن کی منظوری کا حصول عالم اسلام کیلئے ایک عظیم کامیابی ہے، جو برادر مسلم ملک کویت کی تجویز کے باعث ممکن ہوا۔ یونیسکو کی ایگزیکٹو کمیٹی سے اس کی منظوری دراصل عالمی تہذیبوں پر اسلامی فن کے مثبت اثرات تسلیم کرنے کا واضح ثبوت ہے۔ چنانچہ یہ باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا کہ اسلامی فن نے دنیا کی تہذیب و ثقافت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ اس بات کا بھی اعتراف تھا کہ اسلامی فن کے شاندار اور متنوع پہلوؤں نے ثقافتی تنوع، آزادی اظہار اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ میں دیگر تہذیبوں پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ اسلام دوسری تہذیبوں کیساتھ تعامل کے دوران ان کے ثقافتی ورثہ میں سے بہترین فن کو اخذ کرنے اور اپنانے میں کامیاب رہا۔ لاہور آرٹس کونسل الحمراء میں چار روزہ بین الاقومی اسلامی آرٹ فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں مشیر داخلہ و اطلاعات عمر سرفراز چیمہ مہمان خصوصی تھے۔ انھوں نے اسلامی آرٹ فیسٹیول کے انعقاد پر الحمراء، آرٹس کونسل پاکستان کراچی و دیگر اداروں کو مبارکباد پیش کی۔ صدر پنجاب بنک ندیم عامر نے بھی تقریب میں اسلامی آرٹ کے فروغ کیلئے اپنے بھرپور تعاون پر خوشی کا اظہار کیا۔ چیئرمین الحمراء رضی احمد نے ابتدائی کلمات ادا کئے، دُنیا بھر سے آئے مندوبین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی فیسٹیول کا مقصد فنون اسلامی کو زندہ رکھنے کیلئے آنے والی نسلوں کیلئے آگہی پیدا کرنا ہے، فیسٹیول فنون اسلامی کی تابندہ روایات کے احیائے کا باعث ہوگا۔ صدر آرٹس کونسل پاکستان کراچی احمد شاہ تقریب کے مہمان اعزاز تھے۔ انھوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی آرٹ کے ترویج و ترقی میں آرٹس کونسل پاکستان کراچی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہے گی۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نمائش میں پاکستان سمیت ترکی، ایران، مصر، الجزائر، یمن، سعودی عرب، ملائیشیا و دیگر ممالک کے آرٹسٹوں کے فن پارے آویزاں کئے گئے ہیں، اسلامی آرٹ فیسٹیول اسلام کی آفاقی سوچ کا عکاس ہے، حکومت پنجاب نے فنون اسلامی کے فروغ کے حوالے سے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ عرفان قریشی نے کہا کہ اسلامی فنون نے دُنیا کے معاشروں کو پُرامن، خوشحال و ترقی یافتہ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تقریب میں ترک ثقافتی مرکز کے ڈائریکٹر ایرن بیاسولو، ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایرن جعفر روناس و دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ الحمراء نے شام کے سیشن میں صوفی موسیقی کا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا، جس میں نامور صوفی گائیک سائیں ظہور نے پرفارم کیا۔ حوصلہ اس فنکار کا کہ پورے دو گھنٹے نشست جمائے رکھی۔ نہ کہیں تلفظ میں کمی کی کوئی غلطی کی اور نہ کہیں لے تھی کہ کمزور پڑی۔ اسلامی آرٹ فیسٹیول دوسرے روز بھی جاری رہا۔ پہلی نشست میں ڈاکٹر امجد وحید، تیمور خان ممتاز، پروفیسر ڈاکٹر نائلہ امیر، ذکی الہاشمی نے گفتگو کی۔ اسلامی فنون کے مطالعہ، اسلامی فن ِتعمیر کی حقیقت، برصغیر میں اسلامی فن تعمیر کی نشاہ ثانیہ اور خطاطی میں اسلامی تصورات کے فروغ کے عمل پر بھرپور نشست ہوئی۔ دوسری نشست میں ڈاکٹر میمونہ خان، رابعہ عاصم، پروفیسر داؤد بکناس مقررین تھے۔ اس نشست میں مقررین نے اسلامی فنون میں جمالیاتی تازگی، لاہور کے تعمیراتی ورثے کی دل پذیری پر گفتگو کی۔ کانفرنس کیساتھ ساتھ اسلامی مصوری میں ترکی کے کردار پر دوگان کاگن اور ایرانی خطاطی کے اسلوب پر ایرانی اسکالر ڈاکٹر کاظم خراسانی نے ورکشاپ میں تشنگان علم کی پیاس بجھائی۔ قبل ازاں بچوں میں خطاطی کا مقابلہ بھی ہوا۔ شام کو صوفی موسیقی کی خوبصورت شام میں نامور گلوکار شیر میانداد نے پرفارم کیا۔ فیسٹیول کے تیسرے روز بھی دو نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست میں ڈاکٹر تہنیت مجید، پروفیسر رافعہ طاہر، شریف خان، ناجیہ فرحت اور قرآن محظوطے، قرآنی آیات کی طباعت اور منی ایچر مصوری میں نئی جہتوں کو روشناس کرانے کی روح پرور گفتگو کی۔ فائزہ نون، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ہمایوں خان بنگش اور رشید بٹ نے فنون اسلامی میں روحانیت کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ ورکشاپ کا سلسلہ بھی جاری رہا اور ترکی سے آئے مہمان نے خطِ ثلث کے جمالیاتی پہلو پر روشنی ڈالی۔ فنون اسلامی میں صوفیانہ کلام اور تصوف کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اسی مقصد کیلئے فیسٹیول کے چاروں دن صوفی موسیقی کا خصوصی اہتمام کیا جاتا رہا۔ تیسرے روز نامور گلوکارہ تحسین سکینہ نے پرفارم کیا۔ بین الاقوامی اسلامی فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں صوبائی وزیر خزانہ سردار محسن لغاری مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ سردار محسن لغاری کی لاہور آرٹس کونسل الحمراء آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ سردار محسن لغاری نے آرٹ فیسٹیول میں نمائش دیکھی، اسلامی فنون میں گہری دلچسپی لی، اسلامی دُنیا سے آئے آرٹسٹوں کے کام کو سراہا۔ صوبائی وزیر خزانہ سردار محسن لغاری کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ سردار محسن لغاری نے تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دُنیا کا امن، ترقی و خوشحالی، اسلام کے دیئے ہوئے اصولوں ہی کے مرہونِ منت ہے، اسلامی اقدار ہی فرد و معاشرہ کی عظمت و کمال کی ضامن ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ سردار محسن لغاری نے اسلامی آرٹ فیسٹیول کی کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی۔ چیئرمین الحمراء رضی احمد نے ملکی و غیر ملکی مندوبین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ الحمراء اسلامی علوم و فنون کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ تقریب میں یمنی اسکالر ذکی علی الہاشمی، کاظم خراسانی، عرفان قریشی، جعفر روناس، دوگان کاگان و دیگر غیر ملکی دانشوروں میں شرکت کی۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے تقریب میں اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے پاکستان کیلیگرافی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عرفان قریشی کی خدمات کو بھی سراہا۔ سوونیئر کا تبادلہ ہوا، اسناد تقسیم کی گئیں، اسلامی آرٹ فیسٹیول علوم و فنون کی تاریخ پر انمٹ نقوش ثبت کرے گا۔ لاہور آرٹس کونسل الحمراء اور آرٹس کونسل پاکستان کراچی کے زیراہتمام چار روزہ اسلامی آرٹ فیسٹیول تمام تر خوبصورتیوں کیساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔