اسلام ٹائمز 8 May 2017 گھنٹہ 10:01 https://www.islamtimes.org/ur/news/634563/اتحاد-امت-اور-مسلکی-رواداری-وقت-کی-اہم-ترین-ضرورت-ہے-محفوظ-مشہدی -------------------------------------------------- ٹائٹل : اتحاد امت اور مسلکی رواداری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، محفوظ مشہدی -------------------------------------------------- ماڈل ٹاؤن میں ہونیوالے خصوصی اجلاس میں علماء نے اس بات کا عزم کیاکہ وہ بین المسالک ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کیلئے کسی بھی ممکنہ تعاون سے گریز نہیں کریں گے عوام کو امن محبت اور بھائی چارے کا پیغام دینے کیلئے نچلی سطح پر پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔ متن : اسلام ٹائمز۔ کل مسالک علماء بورڈ کا اہم اجلاس برائے "فروغ اتحاد امت کا بیانیہ" جامعہ تعلیم القرآن ماڈل ٹاون لاہور میں مولانا عبدالرب امجد کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں چاروں مکاتب فکر کے راہنماوں کل مسالک علماء بورڈ کے مرکزی راہنما مولانا محمد عاصم مخدوم، علامہ حافظ کاظم رضا نقوی اور مجلس تحقیقات اسلامی کے صدر مولانا محمد اسرار مدنی، حافظ محمد نعمان حامد، مولانا شکیل الرحمن ناصر، علامہ مفتی سید عاشق حسین شاہ، مولانا محمد اسلم صدیقی، مولانا محمد عبداللہ، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا عبدالستار صدیقی، مولانا انعام الرحیم رحیمی، حافظ محمد کاشف، حافظ عبدالرحمن و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں اتحاد امت کے بیانیہ کو آئمہ مساجد اور خطباء کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا اور علماء سے اپیل کی گئی کہ وہ کل مسالک علماء بورڈ اور مجلس تحقیقات اسلامی کے مرتب کردہ اتحاد امت کے بیانیہ کو اپنے خطابات جمعہ و دیگر تقاریر میں بیان کریں۔ جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور رکن پنجاب اسمبلی مولانا پیر محفوظ مشہدی اور معروف بریلوی عالم دین مولانا محمد خان لغاری نے مسلکی ہم آہنگی اور اتحاد امت کے سلسلے میں کل مسالک علماء بورڈ کی کاوشوں کو خوب سراہتے ہوئے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ اتحاد امت اور مسلکی رواداری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس موقع پر مولانا محمد اسرار مدنی نے کل مسالک علماء بورڈ اور مجلس تحقیقات اسلامی کے جاری کردہ اتحاد امت کے بیانیہ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد معاشرے میں بین المسالک ہم آہنگی کیلئے علماء کرام، سول سوسائٹی کے اراکین اور صحافیوں کو ایسی صلاحیتوں اور مہارتوں سے آراستہ کیا جائے، جن کے ذریعے وہ پر تشدد فرقہ وارانہ اختلافات اور فسادات کو کم کرنے اور روکنے کی کاوشوں کو مزید بہتر بنا سکیں۔ علماء نے اس بات کا عزم کیاکہ وہ بین المسالک ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کیلئے کسی بھی ممکنہ تعاون سے گریز نہیں کریں گے عوام کو امن محبت اور بھائی چارے کا پیغام دینے کیلئے نچلی سطح پر پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔