اسلام ٹائمز 25 Nov 2021 گھنٹہ 1:04 https://www.islamtimes.org/ur/article/965287/امام-زمانہ-عج-کا-گمنام-سپاہی -------------------------------------------------- ٹائٹل : امام زمانہ (عج) کا گمنام سپاہی -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: شہید علی ناصر صفوی نے اپنے دین کی خاطر کئی ایک ایسے کارنامے سرانجام دیئے، جو شائد کبھی منظرعام پر نہ آسکیں، شہید صفوی ان تاریک راستوں کا گمنام مسافر تھا، جنکی منزل روشنی ہوتی ہے، اپنے امام (عج) کا ایک ایسا سچا سپاہی جسے کسی دکھاوے کا کوئی شوق نہیں، اپنی ملت کا ایسا دردمند کارکن جسے اپنی جان کی پروا نہیں، صرف دوسروں کی زندگیوں کی فکر۔ ایک ایسا عزادار، جس نے عزاداری کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنایا، ایسا ولایت فقیہ کا پیرو کہ جسکے ہر اقدام میں اس ولایت کی خوشبو آتی ہو۔ متن : تحریر: سید شاہریز زیدی خلوص اور عشق کی ایک انتہاء کو گمنامی سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، یعنی کسی بھی مقصد میں اگر انسان خلوص کے آخر درجے پر پہنچ چکا ہو اور عشق کی تمام حدیں پار چکا ہو تو اسے ہرگز یہ پروا نہیں ہوتی کہ اسے کسی انعام سے نوازا جائے، اس کی تعریفوں کے انبار لگا دیئے جائیں یا پھر اس کے نفس کو تسکین پہنچے۔ اگر یہ معاملہ عشق حقیقی کا ہو تو عاشق کو اس معراج پر لے جاتا ہے کہ دنیا میں وہ اپنی گمنامی کو ہی آخرت کی نیک نامی سمجھنے لگتا ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت علی ناصر صفوی کی تھی، ایک ایسا نوجوان، جس کا وجود بظاہر تو اس دنیا میں تھا، لیکن اس کی روح آفاقی تھی، جس نے نہ صرف قول بلکہ اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اپنے وقت کے امام (عج) کی اطاعت کیسے کی جاتی ہے۔ اس دنیا کی آسائشوں کو چھوڑ کر ابدی زندگی کی بہاریں تلاش کرنے والا یہ نوجوان جب تک بظاہر زندہ رہا، اپنے مذہب حقہ اور مکتب اہلبیت (ع) کی خدمت میں خود کو مشغول کئے رکھا۔ علی ناصر صفوی نے 5 جون 1965ء کو ضلع چنیوٹ کے گاؤں بنام ٹھٹھہ محمد شاہ میں آنکھ کھولی، زمانہ طالب علمی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کی اور ساتھ ہی اپنے ایک نئے روحانی سفر کا آغاز کیا، علی ناصر کا شمار سفیر انقلاب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے، انہیں گرفتاری اور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ آج سے ٹھیک 21 برس قبل علی ناصر صفوی کو انکی حاملہ اہلیہ پروین اختر سمیت ضلع خوشاب کے علاقہ جوہرآباد میں استعماری سازش کے تحت شہید کر دیا گیا۔ شہید علی ناصر صفوی ملت جعفریہ پاکستان کے وہ پہلے شہید ہیں کہ جنہیں امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کے دہشتگردوں نے پاکستانی فورسز کے ساتھ ایک مشترکہ آپریشن کے دوران ماورائے عدالت قتل کیا، وہ اپنے پیچھے دو معصوم بچیاں اور ضعیف والدہ کو چھوڑ کر اپنے آقا و مولا سے جا ملے۔ شہید صفوی کی شہادت کے آپریشن کی سی آئی اے کی ہائی کمانڈ نے براہ راست نگرانی کی اور انکی خواہش تھی کہ شہید کو زندہ گرفتار کیا جاسکے، تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات جو ہستیاں آپ کی آئیڈیل ہوں، تو ان پر گزرے واقعات و لمحات بھی آپ کو چھو کر گزرتے ہیں، شائد شہید علی ناصر صفوی کیساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ شہید صفوی چونکہ اپنے آقا و مولا حسین علیہ السلام کا سچا عاشق تھا، جس طرح سید الشہداء (ع) کا جسد مبارک کربلا کی تپتی ریت پر کئی روز تک بے گور و کفن پڑا رہا، کہا جاتا ہے کہ اسی طرح عاشق امام حسینؑ شہید صفوی کی میت شہادت کے کئی گھنٹوں بعد تک ہسپتال میں لاوارث پڑی رہی۔ بی بی فاطمۃ الزہرا (س) کی کنیز حاملہ پروین اختر سے بھی اسکے بچوں کے سامنے بیدری سے جینے کا حق چھینا گیا۔ شہید صفوی کے جنازہ میں بھی کئی اہم شخصیات نے شرکت نہیں کی۔ علی ناصر صفوی ایک بہادر اور نڈر نوجوان تھا، اپنی زندگی میں وہ کبھی بھی اپنے ہدف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا۔ شہید صفوی جہاں اپنے خدا، رسول (ص) اور امام (ع) کی خوشنودی کی خاطر ایک متقی و پرہزگار انسان تھا، وہیں سماجی سطح پر بھی شہید صفوی کئی بیواؤں، یتیموں اور مظلوموں کا سہارا تھا۔ شہید کی انقلابی فکر نے ہی اسے شائد اس معراج پر پہنچایا، اگر دیکھا جائے کہ امریکی دہشتگردوں کے ہاتھوں ناصر صفوی کی شہادت کی کیا وجہ ہے تو واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ نوجوان پاکستان میں رہتے ہوئے استعماری مفادات کو نقصان پہنچانے کا موجب بن رہا تھا، شہید کا ولایت فقیہ سے ربط اور پیروی ہی استعمار کیلئے باعث پریشانی تھا۔ ایسا ہرگز نہیں تھا کہ شہید ناصر صفوی نے اپنی دھرتی ماں (پاکستان) کیخلاف کبھی کوئی قدم اٹھایا ہو، جب جھنگ میں تکفیریوں نے فرقہ واریت اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا تھا تو اس وقت بھی شہید نے امن کے راستے تلاش کئے اور اس حوالے سے اپنا حقیقی کردار بھی ادا کیا۔ شہید علی ناصر صفوی نے اپنے دین کی خاطر کئی ایک ایسے کارنامے سرانجام دیئے، جو شائد کبھی منظرعام پر نہ آسکیں، شہید صفوی ان تاریک راستوں کا گمنام مسافر تھا، جن کی منزل روشنی ہوتی ہے، اپنے امام (عج) کا ایک ایسا سچا سپاہی جسے کسی دکھاوے کا کوئی شوق نہیں، اپنی ملت کا ایسا دردمند کارکن جسے اپنی جان کی پروا نہیں، صرف دوسروں کی زندگیوں کی فکر۔ ایک ایسا عزادار، جس نے عزاداری کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنایا، ایسا ولایت فقیہ کا پیرو کہ جس کے ہر اقدام میں اس ولایت کی خوشبو آتی ہو اور ایک ایسا بدقسمت محب وطن، جس کی زندگی وطن عزیز میں امن قائم کرنے میں گزرے اور اسے ’’دہشتگرد‘‘ ظاہر کرکے شہید کر دیا جائے۔ یقیناً شہید علی ناصر صفوی جیسے سپوت مائیں روز روز نہیں جنتیں، ایسے آفاقی لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، لیکن لمحوں میں مار دیئے جاتے ہیں۔ شائد ایسے ہی سپاہیوں کیلئے شاعر نے کہا ہے: کرو نہ فکر، ضرورت پڑی تو ہم دیں گے لہو کا تیل چراغوں میں روشنی کیلئے