اسلام ٹائمز 22 Jan 2020 گھنٹہ 12:09 https://www.islamtimes.org/ur/article/839953/پنجاب-میں-چوہدری-راج-کا-آغاز -------------------------------------------------- ٹائٹل : پنجاب میں چوہدری راج کا آغاز -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: حکمران جماعت میں پھوٹ، اختلافات اور رسہ کشی میں اضافے کیساتھ پی ٹی آئی کے اتحادی بھی کھل کر مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کو شہہ دینے والے چوہدری برادران نے پنجاب کی حکومت عملی طور پر سنبھال لی ہے۔ جسکے تدارک کیلئے ضلع لیہ کے اراکین پنجاب اسمبلی نے 20 ارکان کو ملا کر پالیمنٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہوئے، اندر خانے بزدار حکومت کو بچانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی سردار شہاب الدین نے کہا ہے کہ ہم 20 اراکین اسمبلی نے اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور سب نے حلف لیا ہے کہ علاقے کی ترقی کیلئے بھی اگر کسی کو ملاقات کیلئے اکیلا بلایا گیا تو نہیں جائیں گے۔ متن : رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ تبدیلی سرکار کے وسیم اکرم پلس بلکہ کپتان کی ضد اور مجبوری وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اس وقت سب سے زیادہ سیاسی تنقید کی زد میں ہیں۔ ان کے بارے میں کھلے لفظوں میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وہ صوبہ چلانے کی سکت نہیں رکھتے، لیکن عثمان بزدار کی ناکامی کو عمران خان کی ناکامی نہ کہا جائے۔ بات دراصل اسی وقت ہی شروع ہوگئی تھی, جب عمران خان نے اپنی پارٹی اور اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر ہی یہ فیصلہ سنایا تھا کہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ شریف سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دیا۔ اس سے قبل مختلف حادثے اور بحران عمران خان کی حکومت کو تقویت کا باعث رہے ہیں، لیکن مہنگائی کے مارے عوام اب پاکستان کے بیرونی اور اندرونی مسائل کو گذشتہ حکومتوں سے جوڑ کر دیکھنے کیلئے تیار نہیں۔ آٹے کا موجودہ بحران یوں تو سندھ میں سامنے آیا، لیکن قیمتیں پورے ملک میں بڑھ گئی ہیں۔ اپوزیشن بھی اس سے خوب فائدہ اٹھا رہی ہے، لیکن اپوزیشن رہنماؤں کی کرپشن کیسز سے رہائی کے بعد عمران خان کا بیانیہ دھڑام سے نیچے گرا ہے۔ حکمران جماعت میں پھوٹ، اختلافات اور رسہ کشی میں اضافے کیساتھ پی ٹی آئی کے اتحادی بھی کھل کر مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کو شہہ دینے والے چوہدری برادران نے پنجاب کی حکومت عملی طور پر سنبھال لی ہے۔ جس کے تدارک کیلئے ضلع لیہ کے اراکین پنجاب اسمبلی نے 20 ارکان کو ملا کر پالیمنٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہوئے، اندر خانے بزدار حکومت کو بچانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی سردار شہاب الدین نے کہا ہے کہ ہم 20 اراکین اسمبلی نے اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور سب نے حلف لیا ہے کہ علاقے کی ترقی کیلئے بھی اگر کسی کو ملاقات کیلئے اکیلا بلایا گیا تو نہیں جائیں گے۔ سردار شہاب الدین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا بیوروکریسی سے انہیں کوئی شکایت نہیں ہے جبکہ وزیراعلیٰ نے ہمیں 20، 20 کروڑ کے ترقیاتی فنڈز بھی فراہم کئے ہیں۔ ہم سب نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور آج بھی ہم سب پارٹی کے ساتھ ہیں۔ سردار شہاب الدین نے کہا ہے کہ ان کے علاقوں میں بھی لاہور کے مقابلے میں ترقیاتی کام کرائے جائیں اور اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب جائز کام ہیں، ان بیورو کریسی کو لانا ہوگا، کیونکہ سیاست عزت کیلئے کرتے ہیں اور ہماری عزت ہی سب کچھ ہے، عزت سے بڑھ کر پارٹی نہیں ہے جبکہ ہمارے ناراض گروپ کے ساتھ دس مزید ایم پی ایز بھی حلف دینے کو تیار ہیں اور وہ گروپ میں شامل ہوں گے۔ سردار شہاب الدین نے کہا کہ گروپ کی پہلی میٹنگ ایم پی اے غضنفر عباس نے کروائی اور اگلی میٹنگ فروری میں ہوگی۔ واضح رہے کہ شیخ رشید بھی حکمران جماعت کو رواں برس کے ابتدائی مہینوں میں بڑے جھٹکے کی پشین گوئی کرچکے ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی میں بھی کئی لوگ ہیں، جن کی نظریں پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر لگی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ حکمران جماعت میں شاہ محمود قریشی اپنے آپ کو متوقع وزیراعظم کے طور پر دیکھتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے پنجاب میں بھی اپنا گروپ مضبوط کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ حقیقت میں پنجاب میں مسلم لیگ (ق) نے عملی طور پر وزارت اعلیٰ سنبھال لی ہے، تاہم وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ مسلم لیگ (ق) کے رہنماء مونس الٰہی اور چیف سیکرٹری پنجاب اعظم سلیمان کے درمیان ہونے والی انتہائی اہم میٹنگ میں اختیارات اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کا روڈ میپ تیار کرلیا گیا، جس کا اشارہ مونس الہٰی ٹی وی ٹاک شو میں خود دے چکے ہیں۔ اختیارات کی تقسیم کے فیصلے پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جہانگیر ترین کو شکایت کر دی۔ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے حلقوں کو بیس ارب روپے کا ترقیاتی فنڈز فوری جاری کیا جائے گا اور پنجاب کی بیورو کریسی کو قاف لیگ براہ راست ہدایات دے سکے گی۔ حال ہی میں ہونے والی ایک اہم ترین میٹنگ جس میں مونس الہیٰ کی قیادت میں قاف لیگ نے جہانگیر ترین، پرویز خٹک، عثمان بزدار اور اعظم سلیمان سے ملاقات کی تھی۔ میٹنگ میں جہانگیر ترین نے قاف لیگ کی اختیارات کے حصول کے معاملے میں شرائط کو من و عن تسلیم کر لیا اور فوری اقدام کی یقین دہانی کراتے ہوئے چیف سیکرٹری اعظم سلیمان کو ہدایات دیں کہ مونس الہیٰ کے ساتھ مل کر روڈ میپ تیار کرلیں۔ اطلاعات کے مطابق عثمان بزدار ان تبدیلیوں پر پریشان ہیں، کیونکہ اس طرح عملی طور پر اُن کا اختیار صفر ہو جاتا ہے، کیونکہ چیف سیکرٹری کو قاف لیگ براہ راست ہدایات دے سکے گی اور انہوں نے اپنے سادہ انداز میں جہانگیر ترین کو شکایت کی کہ میں تو پریشانی کی وجہ سے ساری رات سو بھی نہیں سکا۔ دوسری طرف قاف لیگ کے حلقوں کا کہنا ہے کہ ابھی تو آغاز ہے، دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ واقعی ایسا چلتا ہے، جیسا کہ وعدہ کیا گیا اور معاہدے کی شکل میں تحریر کیا گیا یا پھر کوئی اور پریشانی آئیگی اور کام آگے نہیں بڑھ پائے گا، ہم عثمان بزدار کو نہیں ہٹانا چاہتے، مگر ایسا بھی نہیں ہوسکتا کہ اس دوستی پر اپنی پوری پارٹی اور ووٹرز قربان کر دیں، لہذا ہم آخر تک کوشش کریں گے کہ ایک دوسرے کی عزت اور ساکھ برقرار رہے۔ ذرائع کے مطابق چیف سیکرٹری اعظم سلیمان ایک انتہائی شاندار شہرت کے حامل آفیسر ہیں اور شہباز شریف کے دور میں ہونے والی زیادہ تر ترقی کے معمار ہیں، وہ اپنی ایمانداری اور کام کو وقت سے پہلے مکمل کرنے کے حوالے سے ہر سیاسی حلقے میں بہت عزت رکھتے ہیں۔ عمران خان کے قریبی دوست کہتے ہیں کہ گذشتہ دور حکومت میں پرویز خٹک کے اُن کے ساتھ سخت رویئے نے وزیراعظم کو مجبور کیا کہ عثمان بزدار اور محمود خان جیسے وزیراعلیٰ لائے جائیں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ پرویز خٹک کی کارکردگی ہی پی ٹی آئی کی دوبارہ کامیابی کی وجہ بنی، ورنہ خیبر پختونخواہ میں حکومت کرنے والی جماعت کبھی دوبارہ فوری واپس نہیں آئی۔ پی ٹی آئی کے ذرائع کہتے ہیں کہ عثمان بزدار کو بدلنے کے لیے عمران خان شاید اس لیے بھی خوفزدہ ہوں کہ چند ووٹوں کا ہی فرق ہے اور اگر کسی نے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اگلے وزیراعلیٰ کے لیے ووٹ نہیں دیا تو یہ وفاقی حکومت کو بھی لے ڈوبے گا، اسی لیے فواد چوہدری کو مشیر بنانے کی تیاری ہے۔ یہ قصہ کہاں تمام ہوتا ہے، یہ تو فیصلہ کن قوتیں ہی جانتی ہیں، لیکن اس دوران عوام مکمل طور پر پس رہے ہیں۔