اسلام ٹائمز 10 Jan 2019 گھنٹہ 17:46 https://www.islamtimes.org/ur/article/771345/امریکی-وزیر-خارجہ-کے-دورہ-مشرق-وسطی-اہم-اہداف -------------------------------------------------- ٹائٹل : امریکی وزیر خارجہ کے دورہ مشرق وسطی کے اہم اہداف -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو اور اسی طرح امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے حالیہ دوروں کا مقصد ایران مخالف محاذ کی تقویت کرنا ہے۔ متن : تحریر: محمد مرادی امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو اس وقت مشرق وسطی کے دورے پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ 8 جنوری کو شروع ہوا ہے اور 15 جنوری تک جاری رہنا ہے۔ اس دوران وہ بحرین، مصر، اردن، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، عمان اور سعودی عرب جائیں گے۔ انہوں نے ان آٹھ ممالک کا دورہ سات روز میں مکمل کرنا ہے۔ اس مقصد کیلئے وہ منگل کے دن اردن گئے۔ وہ اردن کے بعد مصر، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان جائیں گے اور اپنے دورے کا اختتام کویت جا کر کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ کے اس دورے کے بنیادی اہداف کیا ہیں؟ یہ وہ اہم سوال ہے جس کا جواب تحریر حاضر میں دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مشرق وسطی دورے میں مائیک پمپئو کے اہم اہداف جاننے کیلئے درج ذیل نکات پر توجہ ضروری ہے۔ 1۔ شام سے امریکہ کا فوجی انخلا اور ایران کی بڑھتی ہوئے طاقت اور اثرورسوخ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے امریکی فوجیوں کی وطن واپسی کا اعلان کیا ہے۔ البتہ وہ اب تک اس بارے میں اپنا موقف کئی بار تبدیل کر چکے ہیں اور آخری موقف یہ اختیار کیا ہے کہ یہ فوجی انخلا فوری طور پر انجام نہیں پائے گا۔ شام سے امریکہ کے فوجی انخلا کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد مغربی اور امریکی تھنک ٹینکس نے اسے خطے میں ایران کی فتح قرار دینا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر فاونڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز (FDD) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "یہ مسئلہ تہران کیلئے ایک فتح ہے کیونکہ تہران اور دمشق کافی عرصے سے شام سے امریکہ کے فوجی انخلا کا مطالبہ کر رہے تھے۔" اسی طرح ایک اور امریکی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈی آف وار (ISW) نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ شام میں امریکہ کی سفارتی حکمت عملی ایک طرح سے ایران، شام اور بشار اسد کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے کے مترادف ہے۔ ایک اور امریکی تھنک ٹینک CSIS بھی شام سے امریکہ کے فوجی انخلا کے بارے میں لکھتا ہے: "شام سے امریکی فوجیوں کی وطن واپسی ایران کے مقابلے میں امریکہ کی شکست کا واضح ثبوت ہے۔ کیونکہ اس اقدام میں اصل فتح ایران، روس اور بشار اسد کو حاصل ہوئی ہے اور اس سے شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اثرورسوخ کو تقویت حاصل ہو گی اور شام میں ایران کا انٹیلی جنس اثرورسوخ بھی بڑھے گا۔ اس کے نتیجے میں امریکہ کے اسٹریٹجک اتحادی اسرائیل کیلئے شدید مشکلات پیدا ہوں گی اور یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اس اقدام میں اصل شکست اسرائیل کو ہو گی۔" 2۔ اسرائیل کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کی امریکی کوشش درحقیقت موجودہ حالات میں اسرائیل خود کو خطے میں ایران کے مقابلے میں تنہا محسوس کر رہا ہے۔ خاص طور پر جب اسرائیلی روزنامے ہارٹز نے اسرائیلی کابینہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہ وہ ایران کے پچاس سالہ وژن پر توجہ دے یہ اعتراف کیا ہے کہ ایران اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور طاقتور ہے کہ اسے شکست دی جا سکے۔ یہ صورتحال شام سے امریکہ کے فوجی انخلا کے ساتھ مزید پیچیدہ بھی ہو چکی ہے۔ کیونکہ شام کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ فیصلہ گذشتہ 27 برس سے اپنائی گئی اسٹریٹجی کے اختتام اور مشرق وسطی خطے سے خروج کا پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ امر اسرائیل کیلئے بھی سب سے بڑا خطرہ تصور کیا جائے گا کیونکہ اس کی قومی سلامتی ہمیشہ سے خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی پر منحصر رہی ہے۔ لہذا امریکہ کی کوشش ہے کہ اس بارے میں اسرائیل کے ملاحضات دور کرے۔ اس مقصد کیلئے وائٹ ہاوس نے پہلے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو اسرائیل بھیجا تاکہ اسرائیلی حکام کو اعتماد میں لے سکے۔ جان بولٹن نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی اور انہیں شام سے امریکی فوجی انخلا پر اعتماد میں لیا۔ جان بولٹن نے کہا: "ہم اسرائیل اور امریکہ کے درمیان انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیز کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ ہمارا موقف واضح ہے اور ہم اسرائیل کی سلامتی کو ٹھیس پہنچانے والے ہر اقدام کا مقابلہ کریں گے۔" اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جان بولٹن نے اسرائیلی رہنماوں سے ملاقات کے دوران انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام پہنچایا جس میں "واشنگٹن کی جانب سے شام میں ایران کے مراکز پر اسرائیلی حملوں کی بھرپور حمایت" پر زور دیا گیا تھا۔ قومی سلامتی کے امور میں امریکی صدر کے مشیر جان بولٹن نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے گفتگو کے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ شام سے امریکہ کا فوجی انخلا ایسے انداز میں انجام پائے گا کہ خطے میں اسرائیل اور امریکہ کے دیگر دوست اور اتحادی ممالک کا دفاع یقینی ہو سکے اور داعش کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو بھی منگل کے دن سے مشرق وسطی کے دورے پر ہیں تاکہ دیگر طریقوں سے اسرائیل کی قومی سلامتی کی ضمانت فراہم کر سکیں۔ انہوں نے دورے سے پہلے تقریر کرتے ہوئے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بھی اسی تناظر میں پیش کئے اور نیوز مکس کو کہا کہ واشنگٹن ایران سے درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان وسیع تعلقات کو ممکن بنا چکا ہے۔ انہوں نے کہا: "ہم نے امریکی سکیورٹی کی ضمانت فراہم کرنے والے اتحاد کی تشکیل کیلئے اسرائیل اور عرب ممالک میں تعلقات قائم کروائے ہیں۔" 3۔ عرب نیٹو کی تشکیل کے سرکاری اعلان کی مقدمہ سازی امریکی وزیر خارجہ کا عرب ممالک کے دوروں کا ایک اہم مقصد عرب نیٹو کی تشکیل کا سرکاری اعلان ہے۔ عرب ممالک سے متعلق امریکہ کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک عرب نیٹو کی تشکیل ہے۔ امریکہ سابق صدر براک اوباما کے دور سے ہی ایسی فوج تشکیل دینے کا منصوبہ رکھتا تھا۔ حال ہی میں امریکی اور عرب ممالک کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اتحادی عرب ممالک کی مدد سے ایک سکیورٹی اور سیاسی اتحاد تشکیل دینا چاہتا ہے جس کا مقصد خطے میں ایران کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ عرب نیٹو تشکیل دینے کیلئے جن عرب ممالک کو مدنظر قرار دیا گیا ہے ان میں چھ خلیجی ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، عمان اور کویت کے علاوہ اردن اور مصر بھی شامل ہیں۔ خبررساں ادارہ رویٹرز چند ذرائع کے بقول لکھتا ہے کہ ایسا اتحاد تشکیل دینے میں وائٹ ہاوس کا مقصد مذکورہ بالا ممالک کے درمیان میزائل ڈیفنس، فوجی ٹریننگ، دہشت گردی سے مقابلہ اور دیگر امور جیسے اقتصادی اور سفارتی تعلقات میں پھیلاو کے بارے میں گہرا تعاون قائم کرنا ہے۔ اس اتحاد کیلئے ابتدائی طور پر مختلف نام گردش کر رہے ہیں جن میں مڈل ایسٹ اسٹریٹجک الائنس (MSA) قابل ذکر ہے۔ وائٹ ہاوس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "مسا ایران سے درپیش جارحیت، دہشت گردی اور شدت پسندی کے مقابلے میں ایک دفاعی پشتے کا کردار ادا کرے گا اور مشرق وسطی میں استحکام پیدا کرے گا۔" یہ پراجیکٹ اس سے پہلے عرب نیٹو کے نام سے معروف تھا لیکن اب امریکہ اس کیلئے "مسا" کا نام استعمال کئے جانے پر اصرار کر رہا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مائیک پمپئو عرب ممالک کے دورے کے ذریعے ان ممالک کو مزید اسلحہ بیچنے کا مقدمہ فراہم کرنا چاہتا ہے اور اسی طرح اسرائیل کی سکیورٹی کی بھی ضمانت فراہم کرنے کے درپے ہے۔ درحقیقت امریکہ خطے میں اپنے فوجیوں کی جگہ عرب نیٹو کے فوجی تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ البتہ مختلف وجوہات کی بنا پر اس کا یہ منصوبہ قابل عمل نہیں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عرب نیٹو یا مشرق وسطی اسٹریٹجک اتحاد اپنی تشکیل سے پہلے ہی ناکامی کا شکار ہو چکا ہے۔ اس بارے میں قطر کے روزنامے "الشرق" کی ویب سائٹ پر نیٹو کی طرز پر عرب ممالک کا فوجی اتحاد تشکیل دینے کی امریکی کوشش کو "بے نتیجہ اقدام" قرار دیا گیا ہے۔ یہ روزنامہ لکھتا ہے: "یہ اتحاد مردہ حالت میں پیدا ہوا ہے۔" عرب فوجی اتحاد کی تشکیل پر مبنی ڈونلڈ ٹرمپ کی آرزو دو بڑی رکاوٹوں سے روبرو ہے۔ پہلی یہ کہ ہر عرب ملک اپنے لئے کچھ ترجیحات رکھتا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نہیں چاہتے اس اتحاد میں شرکت کے باعث وہ قطر کا محاصرہ اور اس کے خلاف عائد پابندیاں ختم کرنے پر مجبور ہو جائیں جبکہ قطر کیلئے بھی یہ بات قابل قبول نہیں کہ ایک طرف تو سب کے ساتھ مل کر مشترکہ فوجی اتحاد تشکیل دے اور دوسری طرف چار عرب ممالک کی جانب سے اس کے خلاف محاصرہ اور اقتصادی پابندیاں بھی جاری رہیں۔ اسی طرح مصر اور اردن جیسے ممالک بھی ہر گز نہیں چاہتے کہ اس اتحاد میں شمولیت کے باعث فلسطینیوں میں ان کی پوزیشن متزلزل ہو جائے۔ دوسری بڑی رکاوٹ تیزی سے دنیا بھر میں پھیلنے والا یہ تاثر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک قابل اعتماد شریک نہیں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دو سال میں وائٹ ہاوس میں اپنی موجودگی کے دوران ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے زیادہ اپنے اتحادیوں پر سختی کرتے ہیں۔ وہ یورپی یونین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، نیٹو سربراہی اجلاس میں بدنظمی پیدا کرتے ہیں، شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات کرتے ہیں اور ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کو نیٹو کے رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقات پر ترجیح دیتے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایسے حالات میں خلیجی نیٹو کی بات کرتے ہیں جب اصلی نیٹو معاہدے سے متعلق ان کے اقدامات شدید تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ حتی اگر ٹرمپ تمام عرب ممالک کو ایک جگہ جمع کرنے اور میڈیا پر نئے عرب فوجی اتحاد کی تشکیل کا اعلان کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے تو اس کی حالت سعودی عرب میں دہشت گردی کے خلاف اتحاد جیسی ہو گی جس کی سرگرمیاں میٹنگز منعقد کرنے اور بیانیے جاری کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ 4۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اعلانیہ سفارتی تعلقات استوار ہونے کا مقدمہ فراہم کرنا موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد عرب ممالک سے اسرائیل کے تعلقات میں بہتری لانے کیلئے بہت زیادہ کوششیں انجام پائی ہیں اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے عمان جیسے بعض عرب ممالک کا دورہ بھی کیا ہے۔ اس مسئلے میں اسرائیل کی نظر میں سعودی عرب سب سے زیادہ اہم ملک ہے۔ دوسری طرف سعودی ولیعہد محمد بن سلمان بھی کئی طرح سے اسرائیل سے تعلقات بڑھانے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔ لہذا امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو موجودہ حالات میں ایران سے مقابلے کی خاطر اسرائیل اور سعودی عرب میں سفارتی تعلقات استوار کئے جانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب کے امور کی ماہر کارن الیوٹ ہاوس نے وال اسٹریٹ جرنل میں ایک مقالہ شائع کیا ہے جسے "کیا نیتن یاہو ریاض جائیں گے؟" کا عنوان دیا گیا ہے۔ وہ اس مقالے میں لکھتی ہیں کہ اگر مستقبل قریب میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے سعودی عرب جا کر سعودی ولیعہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی تو اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں ہو گی۔ یہ امریکی محقق مزید وضاحت دیتے ہوئے لکھتی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے گذشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیل اور سعودی عرب کو آپس میں تعاون کیلئے قریب لانے کی بہت زیادہ کوششیں انجام دی ہیں۔ لہذا بنجمن نیتن یاہو کا دورہ سعودی عرب منطقی ہے کیونکہ سعودی ولیعہد مہم جوئی کے عاشق ہیں اور وہ مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کا ایشو جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطی کا حالیہ دورہ درحقیقت اس منصوبے کے تحت انجام پایا ہے جس کا ہیرو سعودی ولیعہد محمد بن سلمان ہے۔ الیوٹ ہاوس لکھتی ہیں کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن گذشتہ ہفتے تل ابیب گئے اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو بدھ کے دن اردن کے دارالحکومت امان جائیں گے اور وہاں سے 8 خلیجی ریاستوں کے دورے کا آغاز کریں گے۔ وہ قاہرہ میں اہم تقریر کریں گے اور اس کے بعد سعودی عرب جائیں گے۔ مائیک پمپئو اپنے اس دورے میں اس بات پر زور دیں گے کہ امریکہ خطے سے اپنا تعلق نہیں توڑے گا اور ایران کے خلاف اقدامات کی سربراہی جاری رکھے گا۔ وہ لکھتی ہیں: "ان تمام کوششوں کے مرکز میں امریکہ کے دو اہم اتحادی یعنی اسرائیل اور سعودی عرب قرار پائے ہیں۔ ان دونوں کا مشترکہ نکتہ ایران سے خوف ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل نے اب تک غیر سرکاری تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں اور ایکدوسرے سے سکیورٹی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیوں ان غیر رسمی تعلقات کو فاش نہیں کیا جاتا؟ درحقیقت محمد بن سلمان اور بنجمن نیتن یاہو کی ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو کنٹرول کرنے کیلئے انجام پانے والی کوششوں کا نقطہ عروج ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عرب اقوام کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کی شدید مخالفت سامنے نہیں آئی جس کے تحت اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے قدس شریف منتقل کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے محمد بن سلمان اسرائیل سے دوطرفہ تعلقات کے اعلان کیلئے زیادہ امیدوار نظر آتے ہیں۔" نتیجہ گیری بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو اور اسی طرح امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے حالیہ دوروں کا مقصد ایران مخالف محاذ کی تقویت کرنا ہے۔ کیونکہ اب تک خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنے کیلئے انجام پانے والے تمام امریکی اقدامات شکست کا شکار ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ نے عربی نیٹو اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ سے خطے سے متعلق ایران کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ایران کی جانب سے اسرائیل کے مقابلے میں سرگرم اسلامی مزاحمتی تنظیموں حماس اور حزب اللہ کی مدد اور حمایت کو دہشت گردی کی حمایت قرار دیا ہے۔ مائیک پمپئو نے نیوز چینل سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف واشنگٹن کے ہمیشگی الزامات دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ شام سے امریکہ کے فوجی انخلا کا مطلب ایران کے خلاف جاری اقدامات کا اختتام نہیں بلکہ یہ اقدامات بدستور جاری رہیں گے۔ دوسری طرف شام سے امریکی فوجیوں کا انخلا اسرائیل کیلئے پریشانی کا باعث بنا ہے۔ لہذا امریکی وزیر خارجہ اپنے دورے میں اسرائیل کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کرنے کے علاوہ عرب ممالک کے ذریعے اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔