اسلام ٹائمز 24 Jan 2023 گھنٹہ 22:46 https://www.islamtimes.org/ur/interview/1037486/توہین-صحابہ-بل-کی-منظوری-اسمبلی-ارکان-نااہلی-کوتاہ-فکری-اور-معارف-دین-سے-عدم-آشنائی-بدترین-مثال-ہے-علامہ-امین-شہیدی -------------------------------------------------- ٹائٹل : توہین صحابہ بل کی منظوری اسمبلی ارکان کی نااہلی، کوتاہ فکری اور معارفِ دین سے عدم آشنائی کی بدترین مثال ہے، علامہ امین شہیدی -------------------------------------------------- اپنے انٹرویو میں امت واحدہ پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ابوبکر یا علی علیہ السلام کو پہلا خلیفہ نہیں مانتا تو دونوں صورتوں میں وہ مسلمان ہے، کیونکہ وہ اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کا قائل ہے۔ ایمان کی شرط لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کہنا، رسول (ص) کو آخری نبی اور قرآن مجید کو اللہ کی آخری کتاب ماننا اور قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنا ہے۔ مسلمان کی یہ تعریف تمام مکاتب فکر میں موجود ہے، لہذا یہ فرقہ وارانہ مسئلہ مذہبی نہیں، سیاسی ہے۔ سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، داعش، القاعدہ، بوکو حرام اور دیگر دہشتگرد گروپ سیاسی مقاصد کے تحت وجود میں لائے گئے اور مذہب کو ان مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا گیا اور فتوے بھی انہی مقاصد کو مدنظر رکھ کر دیئے جاتے ہیں۔ یہ دین پر سراسر ظلم ہے۔ متن : حال ہی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسمبلی نے توہین صحابہ بل منظور کیا ہے، جس میں توہین کی سزا کا دورانیہ بڑھا کر دس سال کر دیا گیا ہے۔ بل کے مسودہ اور توہین کی سزا کے حوالہ سے ملک کے مختلف مکاتب فکر نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسکو قانون کی شکل دیئے جانے کیخلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امتِ واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے توہینِ صحابہ بل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، جو انٹرویو کی شکل میں پیشِ خدمت ہے۔ سوال1: توہین صحابہ کے بل میں توہین کی سزا اب 10 سال کر دی گئی ہے، جبکہ یہ بل قومی اسمبلی نے منظور بھی کر لیا ہے۔ آپکی رائے میں اسوقت جب ہم عملی طور پر دیوالیہ ہوچکے ہیں، اس بل کو پیش کرنے اور منظور کرنے کی منطق کیا ہے۔؟ علامہ امین شہیدی: چونکہ اس وقت پی ڈی ایم اسمبلی میں موجود ہے اور حکومت بھی ان کے پاس ہے، اس لئے اس حکومتی اتحاد کو اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لئے ووٹوں کی ضرورت ہے اور ہر اسمبلی ممبر کا ووٹ ان کے لئے بہت قیمتی ہے۔ اب جبکہ اسمبلی میں حزبِ اختلاف موجود نہیں تو کسی بھی کم ووٹ کی حامل جماعت سے حکومتی اتحاد کا بلیک میل ہونا طبیعی ہے۔ توہینِ صحابہ کی سزا کا ترمیمی بل ایسے موقع پر پیش کیا گیا ہے کہ جب پاکستان معیشت کے حوالہ سے ڈیفالٹ ہونے کے بالکل قریب ہے، سیاسی حوالہ سے بین الاقوامی دنیا میں تنہائی کا شکار ہے۔ حکومت کی ناکامی کی وجہ سے غربت اور بیروزگاری عروج پر ہے اور طالبان کی طرف سے بھی پاکستان کے اندر دہشت گردی کی نئی لہر کا آغاز ہوچکا ہے۔ بل کو پیش کرنے کا مقصد ان تمام مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانا اور ملک میں مزید انتشار پھیلانا ہے۔ بل پر امتِ مصطفیؐ کا اتفاق نہیں ہے اور اس کی شقوں پر اعتراضات اٹھائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مندرجات کی تعریف واضح نہیں ہے اور اس کے پیش کرنے والے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسے کالعدم دہشت گرد گروہ ہیں۔ تیس سال قبل ان کے آنجہانی لیڈر بھی اسی راہ میں دنیا سے گزر گئے اور پاکستان کو اتنے بڑے فتنے میں چھوڑ دیا۔ اس بل کا منظور کیا جانا موجودہ اسمبلی ممبرز کی نااہلی، کوتاہ فکری، جہالت اور معارفِ دین سے عدم آشنائی کی بدترین مثال ہے۔ بل کے معاشرہ پر بڑے گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوں گے، جن سے آج کے حکمران شاید بےخبر ہیں یا وہ اس گمان میں ہیں کہ ہمارا دور جیسے تیسے گزر جائے، بعد میں جو ہوگا، وہ اگلی حکومت خود بھگت لے گی۔ یہ سوچ ملک اور اس میں بسنے والے مسلمانوں سے دشمنی کے ساتھ تحقیق کے دروازے بند کرنے اور قرآن و حدیث کے مندرجات اور تاریخی ورثہ کے انکار کے مترادف ہے۔ نون لیگ اور ان کے اتحادیوں کا اس بل کو تسلیم کرنا سب سے بڑی کمزوری کی دلیل ہے، جبکہ اس کا نقصان خود نون لیگ اور پاکستان کو ہوگا۔ سوال 2: اگر یہ بل سینیٹ سے بھی منظور ہو جاتا ہے تو پاکستان کے مستقبل کا منظر نامہ آپکی رائے میں کیا ہوگا۔؟ علامہ امین شہیدی: پہلی بات تو یہ ہے کہ اس بل کو کسی بھی قیمت پر منظور نہیں ہونا چاہیئے، کیونکہ سینیٹ ایک آزاد ادارہ ہے اور میرا خیال ہے کہ وہاں پڑھے لکھے لوگ اس بل کے منفی اثرات پر ضرور سوچیں گے۔ یقیناً ایوانِ بالا کے ممبران پاکستان کی موجودہ کیفیت سے بخوبی آشنا ہیں اور ان کو اس بات کا علم ہے کہ یہ بل رات کے اندھیرے میں پاس کیا گیا ہے اور اسے خفیہ رکھنے کی وجہ یہی تھی کہ کسی بھی قسم کے ردعمل سے بچا جائے۔ عبد اللہ اکبر چترالی صاحب کے میڈیا پر دیئے گئے بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ بل عوام کے مفاد میں نہیں، اسی لئے اسے خفیہ طریقہ سے منظور کیا گیا ہے۔ فرض کریں کہ یہ بل سینیٹ سے پاس ہو جاتا ہے تو نتیجتاً دہشت گردی اور نفرتوں کو فروغ ملے گا، شدت پسندی میں اضافہ ہوگا اور اگر کوئی مولوی کسی مخالف کے حوالہ سے یہ نعرہ بلند کرے کہ فلاں نے فلاں کی توہین کی ہے تو معاشرہ کے اندر قتلِ ناحق کا رجحان بڑھے گا۔ اب تک کے کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ لوگ فرسٹریشن کا شکار ہیں۔ مایوسی کے اظہار کا طریقہ یہی ہے کہ وہ ایسے موقع پر بلوہ کی شکل میں حملہ کرتے ہیں اور ہر چیز کو تہس نہس کر دیتے ہیں۔ اگرچہ انہیں اپنے انتہائی اقدام پر بعد میں شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔ جیسے سیالکوٹ میں دو بھائیوں اور پھر ایک فیکٹری میں غیر ملکی مسیحی ملازم کے قتلِ ناحق کا سانحہ ہوا، دونوں واقعات میں چند افراد نے لوگوں کے جذبات کا غلط فائدہ اٹھایا۔ اسی طرح لاہور میں مسیحی آبادی کے دو سو گھروں کو جلانے کا واقعہ پیش آیا۔ پاکستان میں اس طرح کے واقعات کی کئی مثالیں ہیں۔ حال ہی میں کراچی میں پارکنگ کے مسئلہ پر ایک مولوی نے مسیحی خاتون کو دھمکی دی کہ اگر میری بات نہ مانی تو مقتدیوں کو جمع کرکے تم پر توہین رسالت کا کیس بنا دوں گا۔ جس معاشرہ میں اس طرح کے رجحانات موجود ہوں، وہاں آپ کو قانون پر عمل درآمد کے حوالہ سے عدل و انصاف کی توقع نہیں کرنی چاہیئے۔ دوسری بات جو بڑی اہم ہے کہ جو لوگ اس قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں، اگر ان کو وہی سزا نہ دی جائے، جو اس قانون کو توڑنے والے کے لئے مقرر کی گئی ہے، تو پھر قانون کا غلط استعمال کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ظلم بڑھتا ہے۔ اس وقت جو طالبان کا بڑھتا ہوا اثر اور دہشت گردی کے واقعات ہیں، اس کی وجہ سے بھی اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوگا اور طالبان اور ان سے فکری ہم آہنگی رکھنے والے گروہ (سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، القاعدہ، داعش وغیرہ) یہ کہہ کر مخالفین پر حملہ کریں گے کہ کسی گروہ یا مسجد کے افراد نے فلاں شخصیت کی توہین کی ہے، اس لیے ہم نے پوری مسجد اڑا دی۔ یہ اس قانون کے ممکنہ منفی اثرات ہیں، جس کے نتیجہ میں مختلف طبقات اور فرقوں کے درمیان خلیج میں اضافہ ہوگا اور اس کی زد میں کوئی ایک مسلک نہیں آئے گا، بلکہ جو بھی جس سے انتقام لینا چاہے گا، اس قانون کا غلط استعمال کرے گا۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ صحاح ستہ کو بھی نشانہ بنائیں کہ ان میں توہین موجود ہے، لہذا ان پر پابندی لگائی جائے اور ان کی اشاعت اور تشہیر کرنے والوں کو قید کیا جائے۔ نتیجہ یہی بنتا ہے کہ جب آپ کوئی غلط قانون تشکیل دیں گے تو اس قانون کا غلط استعمال کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہوگی۔ اس طرح معاشرہ مزید بدامنی کا شکار ہوگا، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ سوال3: کیا یہ بل کسی ایک فرد کی خواہش ہے یا اسکے پیچھے کوئی جامع حکمت عملی ہے؟ اگر ہے تو وہ کیا ہے۔؟ علامہ امین شہیدی: یہ بل تیس سال قبل لشکر جھنگوی اور انجمن سپاہ صحابہ کے زمانہ کا ہے، لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج اسے جماعت اسلامی کے رکن نے اسمبلی میں پیش کیا۔ جماعت اسلامی خود اس فکر کی حامل نہیں، لیکن اس نے یہ بل پیش کرکے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ یہ بل کسی فردِ واحد کی فکر نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، جس کے پسِ پشت مقامی اور عالمی طاقتیں کار فرما ہیں۔ اگر اسے قانون کا درجہ مل جاتا ہے تو اس کی زد میں جماعت اسلامی کے اپنے بانی مولانا مودودی مرحوم، ان کی خلافت اور ملوکیت اور افکار آئیں گے۔ سب سے پہلے جماعت اسلامی کا دروازہ بند ہوگا، اس لئے حیرت ہے کہ جماعت اسلامی کے ممبر پارلیمنٹ نے کیونکر یہ بل پیش کیا۔ یہ بل اصل میں سپاہ صحابہ کے "ناموس صحابہ بل" کا چربہ ہے اور وہی چیز شکل بدل کر سامنے آئی ہے، لیکن پیش کرنے والا سپاہ صحابہ کا نہیں بلکہ جماعت اسلامی کا نمائندہ ہے۔ اس بل کے پیچھے فکر یہی ہے کہ ملک کو انتہاء پسندی کی اس نہج تک پہنچا دیا جائے، جہاں سے واپسی ناممکن ہو۔ ایک زمانے میں اس طرح کی تحریکیں نیٹو، مغرب اور امریکیوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے اور ان کو بلیک میل کرنے کے لیے ریاست کے مفاد میں تھیں۔ پاکستان میں نیٹو کے ٹینکرز کو جب یہی دہشت گرد گروپس آگ لگاتے تھے تو ہمارے ریاستی ادارے امریکہ اور نیٹو سے کہا کرتے تھے کہ آپ ہماری تنخواہ بڑھا دیں، تاکہ ہم آپ کے ٹینکرز کی حفاظت کرسکیں۔ لیکن آج ریاست کو بھی یہ احساس ہے کہ ماضی میں انہوں نے بڑی بھیانک غلطیاں کی ہیں اور معاشرہ انتہاء پسندی کے جس مقام تک پہنچ چکا ہے، اس کا سہرا انہی اداروں اور لوگوں کے سر ہے، جنہوں نے اس ملک کو اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر قربان کر دیا۔ اس طرح کے قوانین کے ذریعے شدت پسندی کو فروغ ملے گا اور شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور ہر باوردی شخص کو نشانہ بنایا جائے گا۔ طالبان، دہشت گرد گروہ اور بیرونی طاقتیں اس قانون کا غلط فائدہ اٹھائیں گی، لیکن کسی محب وطن پاکستانی کو اس کا فائدہ نہیں ہوگا، لہذا اس بل کو منظور ہونے سے ہر صورت روکنا ہوگا۔ سوال4: اس بل کے پاس ہونے سے ہمارے تعلقات اپنے ہمسایہ ملک ایران سے کیسے ہو جائیں گے، کیا یہ بل سعودی فرمانرواؤں کو خوش کرنے کیلئے پیش کیا گیا۔؟ علامہ امین شہیدی: سعودی عرب کا اثر و رسوخ جو اس وقت پاکستان میں ہے، وہ پہلے کبھی نہیں رہا۔ اس وقت ہمارے حکمران ظاہراً یا پس پردہ دونوں طرح سے سعودی غلامی اور کاسہ لیسی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم معیشت کے بہت بڑے بحران میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہم یو اے ای اور سعودی عرب کے رحم و کرم پر ہیں۔ اس فضا میں یقینی طور پر اس طرح کے بل پیش کرنے اور اس کو قانونی شکل دینے سے اسی آئیڈیالوجی کے حامل لوگوں کو خوشی تو ہوگی۔ لیکن اس کا نقصان پاکستان کو ہوگا، کیونکہ اس معاملہ کا تعلق ہمارے ہمسایہ ملک ایران سے نہیں، براہ راست پاکستان سے ہے۔ یاد رکھئے! اس قانون کی زد میں تمام مسالک آئیں گے۔ جب پوچھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ، امہات المومنین اور اصحاب رسول کی توہین کہاں ہے؟ کیا آپ توہین کا انکار کرسکیں گے، جبکہ بخاری اور مسلم میں توہین موجود ہے۔ ہر وہ فرد جو اسلام کے حوالے سے مطالعہ اور تحقیق کی بات کرتا ہے، اس کو اس کا نقصان ہوگا۔ اس ترمیمی بل کی آڑ میں تحقیق، تاریخ اور قرآن کے دروازے بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ آپ قرآن کی کسی بھی آیت کا ترجمہ نہ پڑھ سکیں۔ قرآن مجید میں بعض ازواج نبی کی مذمت آئی ہے اور ان کی تہدید کی گئی ہے، حتی کہ ان کے بعض اعمال پر اللہ نے ناراضگی کا بھی اظہار کیا ہے۔ اسی طرح بخاری مسلم میں کئی احادیث ہیں، جن میں امہات المومنین اور نبی اللہ (حضرت موسیٰ علیہ السلام) کی توہین گئی ہے۔ کیا ان آیات قرآنی اور احادیث کو حذف کیا جائے گا؟ یہی صورتحال صحابہ کرام کی توہین کے حوالہ سے ہے۔ گویا اس طرح کے قوانین کی تائید کرکے اور ان کو ووٹ دے کر آپ خود پنڈورا باکس کھول رہے ہیں۔ لہذا یہ بل پاکستان کے کروڑوں عوام اور ایک صحت مند معاشرہ کی بقا کے حوالہ سے بہت بڑا چیلنج ہے۔ سوال5: پاکستان میں وزیراعظم سے لیکر اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور ترین افراد بلا شرکت غیرے ہمارے کرتا دھرتا رہے۔ پھر بھی شیعہ آبادی کو حقوق کیوں نہ ملے۔؟ علامہ امین شہیدی: بنیادی طور پر قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح شیعہ اثناء عشری تھے۔ پاکستان کے قیام اور استحکام کے لئے شیعہ نوابین نے اپنی دولت خرچ کی۔ صدر سے لے کر چیف آف آرمی سٹاف کے بڑے عہدوں پر شیعہ اثناء عشری فائز رہے، لیکن کبھی بھی شیعہ سنی تفریق پیدا نہیں ہوئی۔ گذشتہ چالیس سالوں میں یہ مسائل پیدا کئے گئے۔ مکتب تشیع کو آئسولیٹ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور شیعہ نسل کشی کا منظم انداز میں سلسلہ جاری رہا۔ کوئی ایسا شہر نہیں، جہاں شیعہ قبرستان میں شہداء کی قبریں نہ ہوں، ان تمام لوگوں کو دہشت گردی اور فرقہ وارانہ نفرت کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ شیعہ مسلک کے بہترین بیوروکریٹس، ڈاکٹرز، وکلاء، ججز، کاروباری حضرات اور علماء کرام کو چن چن کر مارا گیا۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور حکومتوں نے دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کی اور ان کو فری ہینڈ دیا۔ ملک اسحاق جس کے جرائم کی طویل فہرست تھی، اسے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک ریاست نے اپنی آغوش میں پالا۔ کئی شیعوں کو قتل کرنے والا اکرم لاہوری زندہ اور ریاست کی تحویل اور حفاظت میں ہے۔ ہمارے قاتلوں کو بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور کی جیلوں سے چھڑا کر ملک سے باہر بھیجا گیا۔ یہ سب کہیں اور نہیں، اسی ملک میں ہوا۔ اتنی تلخ اور سیاہ تاریخ کے باوجود شیعہ ختم نہ ہوئے اور نہ ہوں گے۔ شیعیت ایک نظریہ ہے۔ تاریخ کو ملاحظہ کیا جائے تو امویوں، عباسیوں اور بعد کے ادوار میں بھی اس نظریہ نے شکست نہیں کھائی۔ وقتی طور پر دباؤ ضرور بڑھتا ہے، لیکن ظلم کے ذریعہ تشیع کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اس مکتب نے اپنے نظریہ کے ساتھ آگے بڑھنا اور یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم پرامن ترین اور انسانی فلاح کے لئے سوچنے والی نظریاتی قوم ہیں۔ ابھی جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا وقتی طور پر نقصان ہوگا، لیکن اس کے دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ خون دینے کے بعد نظریاتی قومیں مزید زندہ ہوتی ہیں۔ پچھلی نسل چلی گئی، آج کی نسل زندہ اور ہر جگہ موجود ہے۔ اس کی جگہ آنے والی نسل لے گی اور آگے بھی بڑھے گی، اس کا راستہ روکنا ممکن نہیں۔ سوال6: کیا آپ سے پہلے جو شیعہ علماء گزرے اور جنہوں نے قادیانیوں کو بذریعہ آئین کافر قرار دینے میں بھٹو کا ساتھ دیا، انکو اس غلطی کا احساس ہے۔؟ کیا انہوں نے ایسا کرکے درست کیا؟ کیا انکو یہ ادراک نہ ہوا کہ اس طرح تو مستقبل میں شیعوں کو بھی آئین کے ذریعہ کافر قرار دیئے جانے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔؟ علامہ امین شہیدی: دو مختلف چیزوں کو الگ الگ رکھنا ہوگا۔ پہلی بات یہ کہ ضروریاتِ دین مثلاً توحید و رسالت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے آخری نبی ہونے کا منکر خارج از اسلام ہے۔ اس حد تک مجھے قبول ہے کہ قادیانی ہو یا کوئی اور طبقہ، ہمارے نبی (ص) کو آخری رسول کے طور پر قبول نہ کرے اور کہے کہ ابھی مزید رسول آنے ہیں تو وہ کم از کم اس اسلام کے پیروکار نہیں رہتا، جو اسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ لے کر آئے۔ اس میں کسی فتوے کی بھی ضرورت نہیں۔ جو بھی رسول کریم (ص) کی رسالت اور ان کی خاتمیت کا انکار کرے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ کیا اسلام قبول نہ کرنے والے شخص کو قتل کر دیا جانا چاہیئے؟ ہرگز نہیں! کسی شخص کو زبردستی یا تلوار کے زور پر اسلام قبول کرنے کا نہیں کہا جا سکتا۔ اس معاملہ کا تعلق اللہ اور بندہ سے ہے۔ اگر کوئی نبی کریم (ص) کو آخری رسول نہیں مانتا تو وہ اپنے عقیدہ کے مطابق آزاد ہے۔ اس حد تک الجھن والی کوئی بات نہیں، لیکن اگر کوئی کسی کو قادیانی ہونے کے جرم میں مارنا شروع کر دے تو ظاہر ہے کہ اس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کوئی فقیہ و مجتہد یا آیت و حدیث اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کسی کو اس کے عقیدہ کی بنا پر قتل کیا جائے۔ قادیانیوں کو تمام شہری حقوق حاصل ہیں، عقیدہ کو عنوان بنا کر انہیں قتل نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں تک مکتب تشیع کا تعلق ہے، یہ مکتب توحید، قرآن کی صیانت و حفاظت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ کی خاتمیت کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ ہمارا اہل سنت کے مسالک سے اختلاف "خلافت" پر ہے، جو اسلام اور کفر کا موضوع نہیں، بلکہ اسلام کے موضوعات میں سے ایک موضوع ہے۔ اگر کوئی ابوبکر یا علی علیہ السلام کو پہلا خلیفہ نہیں مانتا تو دونوں صورتوں میں وہ مسلمان ہے، کیونکہ وہ اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کا قائل ہے۔ ایمان کی شرط لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کہنا، رسول (ص) کو آخری نبی اور قرآن مجید کو اللہ کی آخری کتاب ماننا اور قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنا ہے۔ مسلمان کی یہ تعریف تمام مکاتب فکر میں موجود ہے، لہذا یہ فرقہ وارانہ مسئلہ مذہبی نہیں، سیاسی ہے۔ سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، داعش، القاعدہ، بوکو حرام اور دیگر دہشت گرد گروپ سیاسی مقاصد کے تحت وجود میں لائے گئے اور مذہب کو ان مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا گیا اور فتوے بھی انہی مقاصد کو مدنظر رکھ کر دیئے جاتے ہیں۔ یہ دین پر سراسر ظلم ہے۔ سوال7: جب ہم توہینِ رسالت یا توہینِ صحابہ کا معاملہ اٹھاتے تو "توہین" کی تعریف کیا ہے؟ کیا تنقید توہین ہے؟ علامہ امین شہیدی: سب سے بڑا اعتراض اس بل پر یہی ہے کہ آپ نے جب یہ کہہ دیا کہ توہین کی سزا عمر قید ہے تو اس بات کی بھی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ توہین سے کیا مراد ہے۔ آیا قرآن کی آیت پڑھنا اور حدیث بیان کرنا توہین ہے، جبکہ وہ کلامِ خدا اور کلامِ رسول (ص) ہے۔ آپ کے نزدیک اس سے مراد توہین ہے تو پھر یہ اسلام کا دروازہ بند کرنے کے مترادف ہے۔ اس قانونی مسودہ میں سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ "توہین" کی تعریف کو بیان نہیں کیا گیا۔ کس چیز کو توہین قرار دیا جائے اور کسے نہیں، یہ ایک موضوع ہے۔ دوسرا موضوع یہ ہے کہ صحابی کی تعریف کیا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی مسلمان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ کو دیکھا اور ایمان کی حالت پر قائم رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوا تو وہ صحابی ہے۔ کسی صحابی کو چوری، قتل، زنا اور شراب نوشی جیسے بڑے جرائم کے ارتکاب پر سزا کا ملنا قرآن اور حدیث سے ثابت ہو تو کیا اسے بیان کرنا صحابیت کی توہین ہے۔؟ قرآن و حدیث کو بیان نہ کرنے کی بات انتہائی متنازعہ ہے۔ اس لئے صحابیت کی تعریف کرنا پڑے گی، تاکہ ہمیں ان سوالات کے جوابات مل جائیں۔ آپ کو یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ توہین کی تعریف کیا ہے اور کون سی چیز توہین کے زمرے میں نہیں آتی۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تاریخ کے بڑے بڑے کردار نبی کریم (ص) کے روبرو کھڑے ہوئے۔ کیا ایسے مسلمان تنقید کی زد میں نہیں آئیں گے۔؟ وہ آیات جو منافقین کے لئے اتاری گئی ہیں، اگرچہ یہ لوگ مسلمان تھے اور انہوں نے رسول کریم (ص) کو دیکھا بھی تھا، لیکن اس کے باوجود کیا وہ منافقین نہ تھے۔؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان کی آل پر جو مظالم ڈھائے گئے، کیا ظلم کرنے والے یہودی اور مشرک تھے یا مسلمان؟ اگر مسلمان تھے تو کیا انہوں نے نبی کریم (ص) کو دیکھا تھا یا نہیں؟ کیا اس صورت میں ان پر صحابیت کا اطلاق ہوتا ہے۔؟ کیا ان کے کارنامے بتانا توہین کہلائے گا۔؟ پھر رسول کریم (ص) کے بعد امت کے درمیان جو دھڑے بندیاں ہوئیں اور چاروں خلفاء کے دور میں جس طرح سے خون ریزی ہوئی اور چوتھے خلیفہ کے دور میں ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ مارے گئے تو مارنے والا ظالم ہے یا مرنے والا۔؟ قاتل رضی اللہ عنہا ہے یا مقتول؟ کہیں تو فیصلہ کرنا پڑے گا۔ کیا شراب پینے والا اور شراب نوشی سے منع کرنے والا دونوں صحابی ہیں اور کیا دونوں کا درجہ بھی برابر ہے۔؟ ترمیمی بل کا مطلب یہی ہے کہ ان سب کے بارے میں بات نہ کی جائے، لیکن ایسا ممکن نہیں، کیونکہ یہ منطق، علم اور فکری آزادی کے خلاف ہے اور معاشرہ پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سوال8: ایک وقت میں کراچی میں وسیع پیمانے پر شیعہ ڈاکٹرز کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ اسکی کیا وجہ تھی؟ صرف ڈاکٹرز پر کیوں فوکس کیا گیا؟ کیا کوئی خاص محرکات تھے؟ کوئی ڈیٹا ہو جو بتا سکے کہ کتنے شیعہ ڈاکٹرز مارے گئے۔ علاوہ ازیں کتنے شیعہ 1947ء سے لے کر اب تک پاکستان میں قتل کیے گئے۔؟ علامہ امین شہیدی: ایک بین الاقوامی ادارہ کی رپورٹ کے مطابق 1947ء سے لے کر 2014ء تک پاکستان میں ستائیس ہزار شیعہ قتل ہوئے۔ رپورٹ شہداء کے نام، تاریخ و مقام شہادت کے ساتھ مرتب کی گئی ہے۔ معاشرہ میں ممتاز مقام کے حامل شیعہ افراد جن کا تعلق کراچی، پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے سے تھا، کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ کی منظم نسل کشی کے نتیجہ میں کئی متاثرین وہاں سے ہجرت کرچکے ہیں اور آدھا کوئٹہ خالی ہوچکا ہے۔ افسوس کہ نفرت اور تعصب ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ چکا ہے۔ https://iblagh.com/390232