اسلام ٹائمز 31 Aug 2019 گھنٹہ 8:27 https://www.islamtimes.org/ur/article/813672/غاصب-اسرائیل-کس-کا-چہیتا -------------------------------------------------- ٹائٹل : غاصب اسرائیل کس کس کا چہیتا -------------------------------------------------- عالمی سیاسی حلقوں میں یہ بات کھل کر بیان کی جا رہی ہے کہ امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک کے حکمران صہیونی لابی کی سرمایہ گزاری کے نتیجے میں اقتدار میں آتے ہیں اور صہیونی میڈیا ہی انکو پروموٹ کرتا ہے، کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ امریکہ اور یورپی ممالک کی معروف سیاسی جماعتوں کو صہیونی لابی کیطرف سے باقاعدہ فنڈنگ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر مظالم اور لاقانونیت کے باوجود اسرائیل سب کا چہیتا ہے اور عالمی طاقتیں اسکے خلاف زبان کھولنے سے کتراتی ہیں۔ متن : اداریہ غاصب اسرائیل یا غاصب صہیونی حکومت ایک ایسی غیر قانونی اور جارح ریاست ہے، جس کا ماضی مسلمانوں بالخصوص فلسطینیوں کے خون سے سرخ ہے۔ اس حکومت کو اس مقام تک لانے میں بے شک دنیا بھر میں سرگرم عمل صہیونی لابی ہے۔ جس کے پیچھے ایپیک جیسا مضبوط و منظم صہیونی ادارہ کارفرما ہے، لیکن حکومتی سطح پر اس کی حمایت پہلے برطانیہ اور اب امریکہ کی طرف سے ہو رہی ہے۔ صہیونی لابی کی مخصوص سرگرمیوں کی وجہ سے امریکہ اور یورپ میں کوئی بھی سیاسی گروپ اس لابی سے دوری اختیار نہیں کرسکتا، بلکہ بعض یورپی ممالک میں تو سیاسی تبدیلیوں میں بھی صہیونی لابی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ صہیونی لابی کے لمبے ہاتھ اب اسلامی ممالک تک پہنچ چکے ہیں اور صہیونی شیطانی پنجوں میں کئی عرب ممالک کے حکمرانون کو بھی مقید کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے داماد کوشنر نے سعودی عرب سمیت بعض عرب بادشاہوں کو جس طرح صہیونی شیشے میں اتارا ہے، اس کے اثرات کچھ عرصہ بعد سامنے آ جائیں گے۔ امریکہ کی مشرق وسطیٰ کی تمام تر پالیسیوں کا بنیادی مرکز و ہدف اسرائیل کا تحفظ ہی رہا ہے، ماضی میں اس کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی، لیکن اب یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے جس طرح بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور امریکی اتنظامیہ جس طرح سینچری ڈیل جیسے فلسطین اور فلسطینی مخالف منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل امریکہ کا ایسا لاڈلا ہے، جس کی ہر فرمائش پوری کی جاتی ہے۔ امریکہ کے موجودہ وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے تو ایک انٹرویو میں اس حد تک کہا ہے کہ امریکہ خود کو اسرائیل کی سلامتی کا پابند سمجھتا ہے اور امریکہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔ مائیک پمپیو نے ایک مقامی انٹرنیٹ ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات پر تاکید کی ہے کہ امریکہ اسرائیل کی ضرورت کا تمام تر فوجی ساز و سامان اسے فراہم کرے گا۔ اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ اس بات کا بھی اعتراف کرچکے ہیں کہ امریکہ نے اسرائیل کی خاطر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد گروہ قرار دیا ہے۔ عالمی سیاسی حلقوں میں یہ بات کھل کر بیان کی جا رہی ہے کہ امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک کے حکمران صہیونی لابی کی سرمایہ گزاری کے نتیجے میں اقتدار میں آتے ہیں اور صہیونی میڈیا ہی ان کو پروموٹ کرتا ہے، کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ امریکہ اور یورپی ممالک کی معروف سیاسی جماعتوں کو صہیونی لابی کی طرف سے باقاعدہ فنڈنگ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر مظالم اور لاقانونیت کے باوجود اسرائیل سب کا چہیتا ہے اور عالمی طاقتیں اس کے خلاف زبان کھولنے سے کتراتی ہیں۔