اسلام ٹائمز 6 Mar 2011 گھنٹہ 23:54 https://www.islamtimes.org/ur/news/57913/ریمنڈ-ڈیوس-سے-41-کارڈز-برآمد-ہر-کارڈ-پر-اسکا-مختلف-نام-درج-ہے -------------------------------------------------- ٹائٹل : ریمنڈ ڈیوس سے 41 کارڈز برآمد،ہر کارڈ پر اسکا مختلف نام درج ہے -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز:ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی کارڈ میں اسکی بطور سفارتکار حیثیت ثابت نہیں ہوتی، آئی ایس آئی اور سی آئی اے نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر تصفیے سے قبل باہمی تعاون کی نئی شرائط طے کرنا شروع کر دیں متن : لاہور:اسلام ٹائمز-دو پاکستانی شہریوں کے قتل کے الزام میں گرفتار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس سے 41 کارڈز برآمد ہوئے اور ہر کارڈ پر اس کا مختلف نام درج ہے جبکہ کسی کارڈ میں یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ریمنڈ سفارتکار ہے، ادھر آئی ایس آئی اور سی آئی اے نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر تصفیے سے قبل باہمی تعاون کی نئی شرائط طے کرنا شروع کر دیہیں ۔ذرائع کے مطابق ریمنڈ ڈیوس سے برآمد ہونے والے تمام کارڈز پر تصاویر اسی کی ہیں تاہم ان کارڈوں پر اس کے مختلف نام درج ہیں ۔ان کارڈز میں امریکی سفارتخانے، پشاور میں امریکی قونصل خانے اور لاہور میں امریکی قونصل خانے کے کارڈز بھی شامل ہیں۔ ایک کارڈ لاہور میں امریکی قونصل خانے کا ہے،جہاں ریمنڈ ڈیوس وزٹر کی حیثیت سے جایا کرتا تھا۔ برآمد ہونے و الے تمام کارڈز میں کسی سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ریمنڈ ڈیوس امریکی سفارتکار تھا کیونکہ کسی کارڈ پر اس کا عہدہ نہیں لکھا گیا۔ دوسری جانب ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان حال ہی میں منعقد ہونے والے ماہانہ اجلاس میں ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کو سلجھانے کے لئے مختلف امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں امریکی وائس ایڈمرل مائیکل اے لی فیور نے پہلی بار ٹیلی کانفرنس کے ذریعے شرکت کی جس سے اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ اب امریکہ کے فوجی حکام ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان تعلقات خاصے پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔ امریکی خفیہ ادارے کو پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی پر اعتماد نہیں جس کے باعث اس نے پاکستان میں اپنا نیٹ ورک تشکیل دینے کی کوشش کی تاہم ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد اسے اپنے بعض اہلکاروں کو واپس بھیجنا پڑا اور قابل اعتراض سرگرمیوں میں بڑی حد تک کمی کرنا پڑی۔ آئی ایس آئی نے سی آئی اے سے پاکستان میں کام کرنے والے اپنے اہلکاروں کی تفصیلات بھی مانگ لی ہیں اور ان 450 ویزوں کے بارے میں چھان بین بھی شر وع کر دی ہے جو خفیہ اداروں کی کلیئرنس کے بغیر جاری ہوئے تھے۔