اسلام ٹائمز 2 Aug 2022 گھنٹہ 12:30 https://www.islamtimes.org/ur/article/1007227/حدیث-حسین-م-ن-ي-کی-سند-کا-جائزہ-اور-تاریخی-منظر -------------------------------------------------- ٹائٹل : حدیث "حسینٌ مِنّي" کی سند کا جائزہ اور تاریخی پس منظر -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: یعلی بن مرہ عامری کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ کسی مہمانی پر جا رہا تھا۔ حسین (ع) راستے میں بچوں کیساتھ کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انکے سامنے کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھوں کو کھول دیا۔ لیکن یہ بچہ (امام حسین) ایک طرف سے دوسری طرف بھاگ رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکو ہنسایا۔ یہاں تک کہ حضرت نے انکو پکڑ لیا، آپ نے ایک ہاتھ انکی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا گردن کے پیچھے رکھا، پھر آپ نے انکا سر اٹھایا اور اپنا منہ حسین کے منہ پر رکھا اور اسے بوسہ دیا۔ اسکے بعد فرمایا: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، خدا اس سے محبت کرتا ہے، جو حسین سے محبت کرے۔ حسین اسباط میں سے ایک سبط ہیں۔ متن : تحریر: مولانا فدا حسین ساجدی امام حسین علیہ السلام کے بارے میں دوسری قرآنی آیات اور معتبر احادیث جو ائمہ معصومین علیہم السلام کے بارے میں موجود ہیں اور ان میں امام حسین علیہ السلام بھی شامل ہیں، ان کے علاوہ امام علیہ السلام کی فضیلت میں خاص طور پر بلند مضامین پر مشتمل ایسی احادیث تاریخی معتبر کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، جو کسی اور ائمہ کے بارے میں نہیں ہیں، ان میں سے ایک "حسينٌ منّي وأنا من الحسين" والی حدیث ہے۔ ہم اس مقالے میں اس حدیث کی سند شناسی اور تاریخی پس منظر کے حوالے سے مختصر بحث کریں گے۔ حدیث کی سند یہ مشہور شیعہ کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔ شیخ مفید نے اپنی کتاب الارشاد میں اور ابن قولویہ نے اپنی مشہور کتاب کامل الزیارات میں نقل کی ہیں۔ (كامل الزيارات، جعفر بن محمد بن قولويه، ص 117. الإرشاد، الشيخ المفيد، ج 2، ص 127) اور ان کے علاوہ شیعہ دیگر مشہور علماء نے اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں۔ اہل سنت علماء میں سے اکثر نے اپنی کتابوں میں اس حدیث کو نقل کیا ہے، جن مین صحاح ستہ میں سے سنن ترمزی (سنن الترمذی – (ج 8/ص 275) سنن ابن ماجہ(سنن ابن ماجه، ج1، ص51) اور  مسند احمد بن حنبل (مسند أحمد بن حنبل، ج4، ص172) شامل ہے۔ حاکم نیشاپوری نے اپنی معروف کتاب المستدرک علی الصحیحین (المستدرك علي الصحيحين، ج 3، ص 194) میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: "ہذا حدیث صحیح الاسناد وان لم یخرجاہ۔" یعنی اس حدیث کی سند صحیح ہے، اگرچہ بخاری اور مسلم اپنی کتابوں میں اس حدیث کو نہیں لائے ہیں۔ اہل سنت کی معتبر ترین کتاب، "صحیح بخاری" کے مالک محمد ابن اسماعیل بخاری کے استاد، اہل سنت دنیا کے نامور محدث ابن ابی شیبہ کوفی نے اپنی کتاب "المصنف" میں صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ ابن ابی شیبہ کوفی نے دوسری صدی کے آخر اور تیسری صدی کے آغاز میں زندگی گزاری ہے۔ انہوں نے اس حدیث کے سلسلہ سند کو رسول پاک (ص) کے ایک صحابی تک پہنچاتے ہیں، جس کا نام "یعلی ابن مُرّة عامرى" ہے۔ حدیث کا تاریخی پس منظر قال یَعلیٰ ابن مُرّة عامرى: "أَنَّهُ خَرجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ إلَی طَعَامٍ دَعُوا لَهُ، فَإِذَا حُسَیْنٌ یَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِی الطَّرِیقِ، فَاسْتقبَلَ أَمَامَ الْقَوْمِ ثُمَّ بَسَطَ یَدَهُ وَطَفِقَ الصَّبِیُّ یَفرُّ هَاهُنَا مَرَّةً وَهَاهُنَا، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ یُضَاحِکُهُ حَتَّی أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ فَجَعَلَ إحْدَی یَدَیْهِ تَحْتَ ذَقَنِهِ وَالْأُخْرَی تَحْتَ۶ قَفَاهُ، ثُمَّ أَقْنَعَ رَأْسَهُ رَسُولُ اللَّهِ فَوَضَعَ فَاهُ عَلَی فِیهِ، فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ: حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا، حُسَیْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ". "یعلی بن مرہ عامری کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی مہمانی پر جا رہا تھا۔ حسین (ع) راستے میں بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سامنے کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھوں کو کھول دیا۔ لیکن یہ بچہ (امام حسین) ایک طرف سے دوسری طرف بھاگ رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہنسایا۔ یہاں تک کہ حضرت نے ان کو  پکڑ لیا، آپ نے ایک ہاتھ ان کی  ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا گردن کے پیچھے رکھا، پھر آپ نے ان کا سر اٹھایا اور اپنا منہ حسین کے منہ پر رکھا اور اسے بوسہ دیا۔ اس کے بعد فرمایا: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، خدا اس سے محبت کرتا ہے، جو حسین سے محبت کرے۔ حسین اسباط میں سے ایک سبط ہیں۔" (ابن ابی شیبہ، 1409ھ، جلد 6، صفحہ 380)۔