اسلام ٹائمز 3 Jun 2014 گھنٹہ 22:30 https://www.islamtimes.org/ur/news/388891/آئندہ-مالی-سال-15-2014-کا-بجٹ-پیش-کر-دیا-گیا -------------------------------------------------- ٹائٹل : آئندہ مالی سال 15-2014 کا بجٹ پیش کر دیا گیا -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ توانائی کے بحران کی شدت میں کمی کیلئے 205 ارب روپے کی سرمایہ کاری لائی جار رہی ہے۔ امیر لوگوں کے ایک لاکھ روپے ماہانہ کے بجلی کے بل پر 7.5 فیصد ایڈوانس ٹیکس لینے کی تجویز ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ تین ہزار نو سو پینتالیس ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ توانائی بحران پر قابو پانے اور آبی ذخائر میں اضافے کی جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ موبائل فون کال سستی ہوگئی۔ اسلام آباد سے مری تا مظفرآباد ٹرین چلانے کیلئے کمپنی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال دو ہزار چودہ پندرہ کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی ملازمین کو یکم جولائی سے دس فیصد ایڈہاک ریلیف ملے گا۔ گریڈ ایک سے پندرہ تک کے سرکاری ملازمین کے میڈیکل الاؤنس میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ کم از کم پنشن چھ ہزار اور اجرت بارہ ہزار روپے ہوگی۔ توانائی منصوبوں کیلئے دو سو پانچ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ریلوے میں پانچ سو انجن اور پندرہ سو بوگیوں کا اضافہ کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ نئے بجٹ میں انکم ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پانچ سو ارب کے زرعی قرضے دیئے جائیں گے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت پندرہ سو روپے ماہوار ملیں گے۔ انتہائی غریب طبقے کے لئے صوبائی اشتراک سے ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کی جائے گی۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کم آمدن والوں کو مکان بنانے کیلئے قرضہ دینے کی خاطر چھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان سے پھل و پھول کی فضائی نقل و حمل پر پچاس فیصد سبسڈی دی جائے گی۔ پانچ سو ارب روپے کے زرعی قرض جاری ہوں گے۔ ٹیکسٹائل شعبے میں ایک لاکھ بیس ہزار مرد و خواتین کو تربیت دی جائے گی۔ زمینی پورٹس کو فروغ تجارت میں لانے لئے لینڈ پورٹ اتھارٹی قائم ہوگی۔ برآمدات کے فروغ کی خاطر ایگزم بنک آف پاکستان قائم کیا جائے گا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صحت شعبہ کے لئے چھبیس ارب اسی کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ دیگر ذرائع کے مطابق وفاق نے آئندہ مالی سال کا 39 کھرب 37 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں خسارہ 17 کھرب روپے لگ بھگ ہے جبکہ ملک کی مجموعی آمدنی 39 کھرب 45 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ اسلام آباد میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر پیش کی۔ جس میں مزدور کی کم سے کم تنخوا 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 12 ہزار روپے کر دی گئی ہے جبکہ کم سے کم پنشن 5 ہزار سے بڑھا کر 6ہزار کردی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ توانائی کے بحران کی شدت میں کمی کے لیے 205 ارب روپے کی سرمایہ کاری لائی جا رہی ہے۔ امیر لوگوں کے ایک لاکھ روپے ماہانہ کے بجلی کے بل پر 7.5 فیصد ایڈوانس ٹیکس لینے کی تجویز ہے۔ کل ٹیکسز میں ڈائریکٹ ٹیکسوں کا حصہ بڑھا جائے گا۔ ٹیکس کے دائرے سے باہر رہ جانے والوں سے ٹیکس وصولی کی جائے گی اور پہلے سے ٹیکس دینے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ ترقیاتی پروگرام میں پانی اہم سب سیکٹر ہے۔ ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کے بینک سے پیسے نکلوانے پر اضافی ٹیکس کی تجویز ہے، انہیں بینک سے پیسے نکلوانے پر 0.2 فیصد اضافی ٹیکس لیا جائے گا۔ حکومت نے گوشوارے جمع نہ کرانے والوں سے گاڑیوں کی رجسٹریشن پر 10 فیصد ٹیکس لینے کی تجویز دی ہے۔ اگلے وفاقی بجٹ میں غریبوں کیلئے بے نظیر انکم سپورٹ مختص رقم 43 ارب روپے بڑھا دی گئی ہے، ہائر ایجوکیشن کے لیے 63 ارب روپے جبکہ صحت کے لیے 36 ارب 80 کروڑ مختص کر دیئے گئے ہیں۔ 40 فیصد درآمدی اشیاء کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنا ہے۔ حکومت نے گیس انفراسٹرکچر میں اضافہ کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں پانی کے منصوبوں کے لیے 42 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ سب سے اہم منصوبہ دیامیر بھاشا ڈیم ہے اور اس کے لیے مزید 15 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ٹریکٹر پر ٹیکس شرح کمکی گئی ہے۔ ٹیکس دہندگان سے پلاٹوں کی خرید و فروخت پر ایک فیصد ٹیکس لینے کی تجویز ہے اور پلاٹوں اور زمینوں کی خرید و فروخت سے حاصل کیپٹل گین ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز ہے۔ پلاٹوں اور زمینوں کی خرید و فروخت پر ٹیکس شرح 0.5 سے بڑھا کر ایک فیصد کرنے کی تجویز ہے اور امیر لوگوں کے ایک لاکھ روپے ماہانہ کے بجلی کے بل پر 7.5 فیصد ایڈوانس ٹیکس لینے کی تجویز ہے۔