اسلام ٹائمز 27 Jan 2023 گھنٹہ 7:47 https://www.islamtimes.org/ur/news/1037954/فواد-چوہدری-کو-منہ-پر-کپڑا-ڈال-کر-پیش-کرنا-افسوسناک-عرفان-صدیقی -------------------------------------------------- ٹائٹل : فواد چوہدری کو منہ پر کپڑا ڈال کر پیش کرنا افسوسناک، عرفان صدیقی -------------------------------------------------- ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنماء کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو بغاوت اور غداری کی باتوں سے نکلنا چاہیئے، پرویز مشرف کو آرٹیکل چھ کے تحت سزا ہوئی تو پی ٹی آئی حکومت نے اسے چھوڑ دیا، آئین میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے، پی ٹی آئی صرف وہی الیکشن مانے گی، جس میں کامیاب ہو، شیخ رشید جیسے لوگ پی ٹی آئی جیسی مقبول پارٹی کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں، معاشی و سیاسی عدم استحکام کا مداوا فوری نئے انتخابات نہیں ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنماء سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے ہے کہ فواد چوہدری کو ہتھکڑیاں لگانا اور منہ پر کپڑا ڈال کر پیش کرنا افسوسناک ہے، پی ٹی آئی کے لوگ بھی کچھ نقش پا چھوڑ کر آئے، جو اچھے نہیں ہیں، آئین میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے، شیخ رشید جیسے لوگ پی ٹی آئی کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں، معاشی و سیاسی عدم استحکام کا مداوا فوری نئے انتخابات نہیں ہے۔ وہ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔ پروگرام میں فواد چوہدری کے وکیل فیصل چوہدری اور جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شریک تھے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ فواد چوہدری کے ساتھ افسوسناک سلوک کیا گیا، جبری گمشدگی کے خاتمے سے متعلق بل منظوری کے بعد خود گمشدہ ہوگیا، علی وزیر بے گناہ جیل میں ہیں، گوادر میں ہدایت الرحمٰن عام آدمی کے مسائل کی بات کر رہے ہیں، انہیں دہشتگرد قرار دے کر جیل میں بند کردیا گیا، الیکشن کے التوا کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ آئین کے مطابق نوے دن کے اندر پنجاب اور کے پی میں الیکشن ہونے چاہئیں، قومی اسمبلی اور باقی دو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی طرف بھی جانا چاہیئے، ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے نیا مینڈیٹ بہت ضروری ہے۔ فواد چوہدری کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ فواد چوہدری کیخلاف کیس میں بغاوت پر اکسانے کی دفعات نہیں لگتی ہیں، آئین کے تحت الیکشن کمیشن کا کام صاف شفاف الیکشن کرانا ہے، الیکشن کمیشن اب تک کسی الیکشن میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کرسکا، فواد چوہدری کو ہتھکڑی لگا کر اور منہ پر کپڑا ڈال کر عدالت میں پیش کیا گیا، یہ کپڑا فواد چوہدری کے منہ پر نہیں، نظام کے مکروہ چہرے پر ڈالا گیا، پرویز الٰہی ہمارے بزرگ ہیں، کچھ بات کہہ دیں تو کوئی بات نہیں ہے، صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنا تین چار لوگوں کا نہیں پوری پارٹی کا فیصلہ تھا۔ نون لیگ کے رہنماء سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ فواد چوہدری معروف سیاستدان ہیں، اسے ہتھکڑی لگا کر کیا دکھانا چاہتے ہیں، فواد چوہدری کے منہ پر کپڑا ڈال کر پیش کرنا بہت افسوسناک ہے، جس شخص میں انسانیت اور پاکستانیت ہے، وہ ان مناظر سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ فواد چوہدری کیخلاف کیس قانون کے مطابق چلائیں، تذلیل نہ کریں۔ عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگ بھی کچھ نقش پا چھوڑ کر آئے، جو اچھے نہیں ہیں، مجھ پر کوئی کیس نہیں تھا، پھر بھی آدھی رات کو پی ٹی آئی حکومت میں گھر سے اٹھا کر حوالات میں بند کیا گیا، اگلے دن ہتھکڑیاں ڈال کر قصوری چکی میں ڈال دیا گیا، مجھے افسوس ہوا کہ عمران خان یا پی ٹی آئی کے کسی رکن نے مجھ سے اظہار افسوس نہیں کیا۔ عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ سامراجی قوانین کا خاتمہ ہو جانا چاہیئے، پارلیمنٹ کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، انتظامی اتھارٹیز کے جیل بھیجنے کا اختیار ختم کرنے کیلئے ترمیمی بل پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد سات ماہ سے لاپتہ ہے، سامراج کا چنگل آج بھی خاصا مضبوط ہے، مسئلہ یہ ہے کہ سیاستدان مل بیٹھ کر بات کرنے اور بات سننے پرآمادہ نہیں ہیں۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ سیاستدانوں کو بغاوت اور غداری کی باتوں سے نکلنا چاہیئے، پرویز مشرف کو آرٹیکل چھ کے تحت سزا ہوئی تو پی ٹی آئی حکومت نے اسے چھوڑ دیا، آئین میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے، پی ٹی آئی صرف وہی الیکشن مانے گی، جس میں کامیاب ہو، شیخ رشید جیسے لوگ پی ٹی آئی جیسی مقبول پارٹی کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں، معاشی و سیاسی عدم استحکام کا مداوا فوری نئے انتخابات نہیں ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ فواد چوہدری کے ساتھ افسوسناک سلوک کیا گیا، اس پر خوشی کا اظہار کرنا غلط ہے، پچھلی حکومت کی طرح اس حکومت میں بھی سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے، یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے، معیشت ڈوب چکی ہے، مگر سیاسی قیادت آپس کی لڑائی میں مصروف ہے، سامراجی قوانین ختم ہونے چاہئیں، جبری گمشدگی کے خاتمے سے متعلق بل منظوری کے بعد خود گمشدہ ہوگیا ہے۔