اسلام ٹائمز 21 Nov 2022 گھنٹہ 23:38 https://www.islamtimes.org/ur/news/1026037/ارشد-شریف-قتل-کیس-فیکٹ-فائنڈنگ-ٹیم-کے-خط-پر-مراد-سعید-کا-جواب -------------------------------------------------- ٹائٹل : ارشد شریف قتل کیس، فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے خط پر مراد سعید کا جواب -------------------------------------------------- پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات اور وفاقی حکومت کے رویے کے تناظر میں ایف آئی اے سے غیرجانبدار، شفاف اور خودمختار انکوائری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ متن : اسلام ٹائمز۔ ارشد شریف قتل کیس میں تحقیقات کے لیے دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی جانب سے رہنما تحریک انصاف مراد سعید کو ارسال کیے گئے خط کا جواب سامنے آگیا۔ مراد سعید نے اپنے جواب میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے 10  سوالات کے جوابات بھی مانگ لیے۔ مراد سعید نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اپنی ساخت اور حیثیت کے اعتبار سے وفاقی حکومت کا حصہ ہے، ایف آئی اے اور آئی بی کے حکام وفاقی حکومت کے ماتحت اور وفاقی وزیر داخلہ کو جوابدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‎ارشد شریف کی زندگی کو خطرہ تھا اور تحفظ کے بجائے وفاقی حکومت مخاصمانہ اقدام کرتی رہی، ‎امپورٹڈ حکومت کے اقتدار میں آتے ہی ارشد شریف کیخلاف کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں جبکہ ‎وزیر داخلہ رانا ثنا نے ارشد شریف کے قتل پر متعدد مرتبہ انتہائی غیرذمہ دارانہ بیانات دیے۔ انہوں نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو بتایا کہ یہاں تک کہ ‎وزیر داخلہ نے قتل کو کینیا میں سونے کی اسمگلنگ سے جوڑنے کی کوشش بھی کی، ‎موجودہ حالات اور وفاقی حکومت کے رویے کے تناظر میں ایف آئی اے سے غیرجانبدار، شفاف اور خودمختار انکوائری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ مراد سعید نے کہا کہ ‎ارشد شریف کی والدہ سپریم کورٹ کو اعلیٰ سطح کے جیوڈیشل کمیشن کی درخواست کر چکی ہیں، ‎چیف جسٹس نے 7 نومبر کو دوران سماعت کہا تھا کہ سپریم کورٹ ارشد شریف کی والدہ کے خط پر کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ‎ارشد شریف کی والدہ نے 16 نومبر کو سپریم کورٹ انسانی حقوق سیل کو بھی خط تحریر کرکے بتایا کہ ارشد شریف کیس کی تحقیقات ہونے کا علم نہیں ہے اور ‎ارشد شریف کے سرکاری پوسٹ مارٹم کے حوالے سے بھی وفاقی حکومت کا کردار متنازع ہے اور‎ پمز سے پوسٹ مارٹم کے لیے ارشد شریف کی والدہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ جانا پڑا۔مراد سعید نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ کمیٹی تحقیق کرے کہ شہید ارشد شریف پر 16 سے زائد مقدمات درج کروانے والے مدعیان کون تھے اور ان کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما تھے، اور شہید ارشد شریف کی تحقیقاتی صحافت کس کیلئے خطرہ تھی۔ انہوں نے سوال اٹھائے کہا کہ معلوم کیا جائے کہ پاکستان میں کون شہید ارشد شریف کو دھمکاتا اور ہراساں کرتا تھا، تحقیق کی جائے کہ کس نے ان کی دبئی روانگی کی تصاویر جاری کیں اور سراغ لگایا جائے کہ دبئی کے ہوٹل کی لابی میں کس کی ایما پر شہید ارشد شریف کو دبئی چھوڑنے کا کہا گیا۔ رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ۲۳ اکتوبر کو ارشد شریف کی شہادت کے فوراً بعد کس نے میڈیا میں ان کے قتل کو ایکسیڈنٹ کا رنگ دینے کی کوشش کی؟ اپنی شہادت سے قبل وہ کس طاقتور پاکستانی کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ مرتب کررہے تھے؟ انہوں نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تحقیق کرے کہ ارشد شریف کی شہادت کے بعد حکومتی عہدیداران اور ریاستی اداروں کے جانب سے کیونکر عجلت میں حقائق کے برخلاف اور الزامات پر مبنی پریس کانفرنسز کی گئیں؟