اسلام ٹائمز 23 Jun 2022 گھنٹہ 10:34 https://www.islamtimes.org/ur/article/1000676/قومی-سلامتی-کمیٹی-کے-اہم-فیصلے -------------------------------------------------- ٹائٹل : قومی سلامتی کمیٹی کے اہم فیصلے -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کالعدم ٹی ٹی پی سے جاری مذاکرات کو تفصیل سے زیر بحث لایا گیا۔ سیاسی، عسکری قیادت کے درمیان مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کیساتھ امن مذاکرات پر وزیراعظم شہباز شریف پارلیمان کو اعتماد میں لیں گے۔ پیپلز پارٹی نے ان مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ شنید ہے کہ شہباز شریف نے ذمہ داری لی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی اس حوالے سے قائل کریں گے۔ متن : تحریر: تصور حسین شہزاد کسی بھی ملک کی ترقی اس کے امن میں مضمر ہوتی ہے۔ پاکستان جب بھی ترقی کا کوئی زینہ طے کرنے لگتا ہے، بدقسمتی سے بیرونی سازش اور اندرونی آلہ کار فعال ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں بدامنی پھیلا کر ترقی کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ کبھی مذہبی دہشتگردی تو کبھی سیاسی بحران کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ مذہبی دہشتگردی میں اہل تشیع ہی سافٹ ٹارگٹ بنتے ہیں جبکہ قاتلوں کے تعلقات حکومتوں کیساتھ ہوتے ہیں جو ہر بار بچ جاتے ہیں۔ اب تو خیر حکومت ہی ایسی ہے کہ جو طالبان کو اپنا بھائی کہتی تھی۔ اور آج انہیں بھائیوں کیساتھ بہتر تعلقات کیلئے اتاولی ہوئی جاتی ہے۔ گزشتہ  روز وزیراعظم ہائوس میں قومی سلامتی کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں سکیورٹی امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے کی۔ جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت اعلیٰ سطح کے عسکری حکام کے علاوہ اہم حکومتی ذمہ داران اور پارلیمانی رہنمائوں نے شرکت کی۔ عسکری حکام نے اجلاس کے شرکاء کو علاقائی سلامتی، ملکی دفاع، سرحدی صورتحال، ہمسایہ ممالک سے تعلقات اور کالعدم تحریک طالبان کیساتھ امن مذاکرات جیسے معاملات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں ملکی سلامتی اور امن وامان کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء کو عالمی سطح پر درپیش چیلنجز، بیرونی و داخلی مسائل اور سلامتی سے متعلق اہم امور پر اعتماد میں لیا گیا۔ قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا احوال یہ ہے کہ ملک اندرونی اور بیرونی سطح پر سنگین حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ ملکی اقتصادیات کی دگرگوں حالت عالمی، علاقائی اور داخلی معاملات پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ معاشی مسائل کا شکار ملک کو قرض دینے والے ادارے مرضی کی شرائط عائد کرتے ہیں۔ پاکستان کیساتھ آئی ایم ایف کا رویہ اس صورتحال کی ناقابل تردید مثال ہے۔   معاشی زبوں حالی کا داخلی اثر غربت، بیروزگاری، پسماندگی، مہنگائی، سماجی تفریق، طبقاتی کشمکش، تعصب اور عصبیت میں شدت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ سمجھنا کسی کیلئے بھی مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ معاشی بحران میں مبتلا معاشروں میں امن و استحکام کا قیام مشکل ترین چیلنج ہوتا ہے۔ وطن عزیز کی سلامتی کو درپیش مسائل میں دہشتگردی، شرانگیزی اور بدامنی کی ایک وجہ غربت، بیروز گاری، مہنگائی، پسماندگی، ناانصافی، نفرت، عدم برداشت، شدت پسندی جیسے عوارض بھی ہیں، جو کمزور معیشت کے براہ راست شاخسانے ہیں۔ اس میں دورائے نہیں کہ دہشتگردی کا ناسور خطے کی غیریقینی صورتحال خاص طور پر افغانستان میں عدم استحکام اور بھارت کی شرپسندانہ سوچ کی وجہ سے بھی پنپ رہا ہے۔ خطے میں طویل عرصے سے جاری عالمی مداخلت بھی دہشتگردی، شدت پسندی اور عدم برداشت کے پھیلائو کی ایک بڑی وجہ ہے، جس کا پاکستان پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ خطے کی تزویراتی صورتحال بھی امن وسلامتی کو درپیش اہم وجہ ہے، تاہم ان تمام حقائق کے باوجود معاشی کمزوریاں اور ان کے خطرناک نتائج میں سے ایک دہشتگردی، بدامنی، لاقانونیت، ناانصافی اور شرانگیزی بھی ہے۔   قومی سلامتی کے تناظر میں سرحدی صورتحال، کشمیر کا مسئلہ، افغانستان کے حالات اور بھارت کے خطرناک عزائم بھی شامل ہیں۔ بھارتی ناپاک عزائم اور افغانستان کی غیر یقینی صورتحال کے نتائج بلوچستان، کے پی کے کے سرحدی علاقوں اور کراچی میں دیکھے جا چکے ہیں۔ صد شکر کہ سیاسی و فوجی قیادت میں مشاورت و ہم آہنگی کی بنیاد پر دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ کی وجہ سے ملک میں امن وامان کی صورتحال کچھ بہتر ہو چکی ہے۔ کراچی میں سیاسی کشیدگی، سماجی بدامنی اور انتظامی مسائل پر بڑی حد تک قابو پایا گیا ہے۔ لاہور، راولپنڈی، پشاور اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی امن دشمن عناصر کی سرگرمیاں کم ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود موقع ملنے پر امن دشمن عناصر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں وارداتوں سے باز نہیں آتے۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم بی ایل ایف کے باقی ماندہ عناصر امن دشمن کا حصہ بن رہے ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک معاہدہ اپنی نوعیت، اثرات و نتائج کے لحاظ سے خالصتاً معاشی حیثیت کا حامل ہے۔ اس معاہدے کی تکمیل سے خطے کی معاشی تقدیر بدل جائیگی۔ جنوب مغربی ایشیا، وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی ریاستیں سی پیک کے ذریعے ترقی کی نئی منازل طے کر سکیں گی۔ اس منصوبے میں بھارت کی شمولیت ہو سکے تو مشرق بعید کے ممالک بھی اس منصوبے سے استفادہ کر سکتے ہیں۔   افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خطے پر اجارہ داری کا پاگل پن، عالمی استعمار کے منصوبوں کی مدد کے ذریعے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کیلئے بھارت جیسے ممالک علاقائی سلامتی کو خطرات میں ڈال رہے ہیں۔ طے شدہ امر یہ ہے کہ قومی سلامتی کا تحفظ ہو یا قومی مفادات کی تکمیل قومی قیادت کے ایک صفحہ پر آئے بغیر کسی ایک میں بھی مثبت پیشرفت ممکن نہیں ہو سکتی۔ اس ضمن میں اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ قومی مفادات خاص طور پر سلامتی امور پر ملکی قیادت میں فکری اتفاق پایا جاتا ہے۔ قومی سلامتی کے سوال پر اعلیٰ سطح کی سیاسی و فوجی قیادت کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں میں داخلی امن، علاقائی معاملات اور عالمی سطح کے چیلنجز پر مشاورت کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ گزشتہ روز بھی قومی سلامتی کو درپیش حساس مسائل پر ہونیوالے ان کیمرہ اجلاس میں شرکاء کو تمام پہلووں پر اعتماد میں لیا گیا۔   اس اہم اجلاس میں کالعدم ٹی ٹی پی سے جاری مذاکرات کو تفصیل سے زیر بحث لایا گیا۔ سیاسی، عسکری قیادت کے درمیان مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کیساتھ امن مذاکرات پر وزیراعظم شہباز شریف پارلیمان کو اعتماد میں لیں گے۔ پیپلز پارٹی نے ان مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ شنید ہے کہ شہباز شریف نے ذمہ داری لی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی اس حوالے سے قائل کریں گے۔ امید ہے کہ قومی سلامتی سے منسلک معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے کیلئے قومی قیادت محض دفاع، حفاظتی اقدامات، انتظامی امور کی بہتری تک محدود رہنے کیساتھ معاشی بحالی و استحکام کے راستوں کو تلاش کرنے پر بھی توجہ دے گی۔ قومی قیادت اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہے کہ سلامتی و دفاع کا تصور اقتصادی استحکام کے بغیر عملی شکل اختیار نہیں کر سکتا۔   اس لیے از حد ضروری ہے کہ ایسا جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے جو ایک طرف ملکی دفاع، سرحدی حفاظت، خطے کے مسائل، جغرافیائی معاملات، تزویراتی صورتحال، داخلی امن، دشمن قوتوں کے عزائم، متحارب گروہوں سے مذاکرات، دہشتگردی و شدت پسندی کو ختم کرنے جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور دوسری جانب ملکی معیشت کو بہتر نظم و ضبط، موثر اقدامات اور جاندار فیصلوں کے ذریعے مستحکم بنانے کی ضمانت دے سکے۔ ایسا ہونے سے ہی قومی سلامتی، ملکی استحکام، سماجی خوشحالی اور عوامی مسائل کے خاتمے کا راستہ ہموار ہو سکے گا۔