اسلام ٹائمز 15 Sep 2019 گھنٹہ 16:24 https://www.islamtimes.org/ur/article/816346/ہمارے-نصاب-کو-کربلا-کی-ضرورت-ہے -------------------------------------------------- ٹائٹل : ہمارے نصاب کو کربلا کی ضرورت ہے بات صرف اتنی ہے کہ دین سمجھائیں نفرتیں نہ بڑھائیں -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ہمارے نصاب میں واقعہ کربلا کیوں نہیں ہے؟ ہم اپنے بچوں کو صبر کی اس عظیم الشان حقیقت سے دور کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ کل بھی ٹیوشن سے آئے بچوں سے پوچھا تو سب خاموشی سے نظریں جھکا گئے، ہم اپنے بچوں کو اسکولوں میں ہر قسم کی نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں کرواتے ہیں تو پھر ہم اپنے بچوں کو دین کے اس عظیم الشان صبر کی مثال کیوں نہیں سمجھا رہے؟ متن : تحریر: زرتاج گل بچپن میں جب محرم کے دن آتے تو محلے میں پانی کی سبیلیں بنائی جاتیں، اماں پورے دس دن بڑے سے برتن میں مختلف قسم کے شربت بناتیں اور ہم بابا کیساتھ ملکر سارے محلے میں وہ شربت بانٹتے، پھر دس محرم کو حلیم بنتا، محرم کے دوران یہ وہ واحد جلوس تھا، جہاں ہمیں جانے سے روک دیا جاتا، ہمیں ایک نام پتہ تھا، تب شیعہ اور اس نام کا خوف اتنا تھا کہ محرم میں سیاہ لباس پہننے سے گریز کیا جاتا کہ یہ رنگ ان دنوں بس شیعہ کی پہچان تھی! ہم سنی ہیں اور وہ شیعہ، ہمیں بس اتنا پتہ تھا، ہم سنی اور وہ شیعہ ہیں تو کیوں ہیں؟ اس بات سے ہم لاعلم تھے۔ پھر جب شفٹنگ کے بعد نئے اسکول میں جانا پڑا تو وہاں پہلی بار شیعہ لوگوں سے سامنا ہوا۔ محرم کے دنوں میں معلوم ہوا کہ میری فیورٹ ٹیچر شیعہ ہیں، مجھ سے پچھلی نشست پر بیٹھنے والی میری فرینڈ شیعہ ہے۔ مجالس کیا ہوتی ہیں اور وہاں کیا ہوتا ہے، سب چھٹی کلاس میں معلوم ہوا۔ نویں اور دسویں محرم کے روزے رکھنے شروع کئے، پھر جب دو سال گزرے تو تجسس تیسرے سال حد سے سوا ہوگیا، اس بارے میں اماں سے پوچھا تو میری ان پڑھ جھلی اماں نے ایک لفظ کافر ہیں کہہ کر چپ کروا دیا، بابا نے اتنا بتایا کہ حضرت امام حسین نواسہ رسول (ص) کے خاندان کو شہید کر دیا گیا تھا۔ اصل کربلا ہے کیا؟ یہ تب معلوم ہوا جب آٹھویں جماعت میں محرم کی دو چھٹیاں ہوئیں، دس محرم کو گھر پر ٹی وی بند ہوتا کہ ٹی وی پر بھی شیعہ لوگ تھے، دس محرم صبح دس بجے یونہی ریڈیو پر ایف ایم 101 پر کوئی آواز سنی تو ٹھہر گئی۔ موضوع بتایا گیا، واقعہ کربلا تب پہلی بار معلوم ہوا یزید کون تھا۔؟ ابن زیاد کون تھا۔؟ پانی کیوں بند کیا گیا۔؟ اور کس حد تک بند کیا گیا۔؟ علی اصغر کون تھے۔؟ بی بی سکینہ کون تھیں۔؟ بی بی زینب کی بددعا کیا تھی اور کیوں تھی۔؟ اس دن اس وقت اس لمحے، ہر چیز ٹھہر گئی تھی، آنسو کسی سیلابی ریلے کی طرح آنکھوں سے نکل کر جھولی میں جذب ہو رہے تھے، بات ظلم سے شروع ہو کر شہادت پر ختم ہوئی۔ ایف ایم پر آر جے کی سسکیاں لیتی آواز تھی اور واقعہ کربلا تھا۔ اتنا ظلم اس حد تک کہ جس کی کوئی حد نہیں اور پھر اتنا صبر اس حد تک کہ جس کی کوئی حد نہیں، اس دن پہلی بار مجھے روزہ کھولنے کا انتظار نہیں رہا، پانی کو دیکھ کر ہچکیاں لے کر روئی، شام غریباں نے کئی دن مجھے خود میں جکڑے رکھا، سارا منظر خود بخود آنکھوں کے سامنے بنتا گیا۔ ننھے علی اصغر کی پیاس، حضرت امام حسین کی فجر کی نماز، بازار کوفہ، بی بی زینب کی دربار یزید میں حاضری، شہدائے کربلا کے سر۔ ماتم کی بات نہیں، آنسوؤں کی بات ہو رہی ہے۔ ویسے ہی جیسے جب کوئی ہمارا فوجی جوان شہید ہوتا ہے، تو اس پر آنے والے مصائب پر پہلے ہماری آنکھوں سے آنسو آتے ہیں، پھر شہادت پر صبر آ جاتا ہے۔ نواسہ رسول (ص) وہ جنہیں ہمارے پیارے نبی (ص) نے اپنی نماز کے دوران پشت پر بٹھائے رکھا اور سجدہ طویل کیا، انہیں کس طرح سے شہید کیا گیا۔ اللہ سوہنا، اگر چاہتا تو کیا یزید اور اس کے ساتھیوں کو نیست و نابود کرنا ناممکن تھا؟ امام حسین (ع) کے صبر میں ہمارے لئے سبق رکھا گیا تھا، مگر ہم نے اپنے بچوں کو بوڑھا کرکے بتانا ہے، کربلا کیا ہے، درس کربلا کیا ہے۔؟ ہمارے نصاب میں واقعہ کربلا کیوں نہیں ہے؟ ہم اپنے بچوں کو صبر کی اس عظیم الشان حقیقت سے دور کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ کل بھی ٹیوشن سے آئے بچوں سے پوچھا تو سب خاموشی سے نظریں جھکا گئے، ہم اپنے بچوں کو اسکولوں میں ہر قسم کی نصابی غیر نصابی سرگرمیاں کرواتے ہیں تو پھر ہم اپنے بچوں کو دین کے اس عظیم الشان صبر کی مثال کیوں نہیں سمجھا رہے۔؟ فیڈرل بورڈ سے پڑھی ہوں میں اور وہاں نصاب میں واقعہ کربلا شامل نہیں اور یہاں پنجاب بورڈ میں چھٹی جماعت تک تو میں دیکھ چکی ہوں اس میں واقعہ کربلا نہیں ہے۔ ہمارے نصاب کو واقعہ کربلا کی ضرورت ہے۔ ہمارے نصاب میں واقعہ کربلا کیوں نہیں ہے؟ اور اگر ہے تو ہمارے بچے لاعلم کیوں ہیں؟ کوئی انہیں صحیح سے سمجھا نہیں پاتا، یہاں تک کہ بچے بڑے ہو کر خود کوشش کرتے ہیں سمجھنے کی یا پھر کچھ تو ایسے ہیں، ابھی بھی لاعلم ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ دین سمجھائیں نفرتیں نہ بڑھائیں۔ میرے لفظوں سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت۔ یہ تحریر اپنی اہمیت، تاثیر اور افادیت کے باعث نقل کی گئی ہے۔(ادارہ)