اسلام ٹائمز 16 May 2022 گھنٹہ 18:45 https://www.islamtimes.org/ur/article/994547/مردہ-باد-امریکہ-ایک-تنظیمی-نعرے-سے-قومی-بیانیے-تک -------------------------------------------------- ٹائٹل : مردہ باد امریکہ۔۔۔ ایک تنظیمی نعرے سے قومی بیانیے تک -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: حالیہ واقعات میں امریکہ مخالف جذبات، جلسوں سے لیکر اسمبلیوں تک امریکہ مخالف نعرے عوامی شعور و بیداری کا نتیجہ ہیں۔ اب اگر یہ شعور پاکستان میں عام ہو رہا ہے تو یہ عوامی بیداری اور بصیرت کا سبب ہے۔ ناگا ساگی سے ہیروشیما تک، ویت نام سے افریقہ تک، افغانستان سے پاکستان و عراق اور شام تک، جتنے انسانوں کو امریکہ نے قتل کیا ہے، کسی بھی ملک نے قتل نہیں کیا۔ جتنی جمہوری حکومتوں کو امریکہ نے سازش سے ہٹایا ہے، کسی نے نہیں ہٹایا۔ اسرائیلی مظالم کی جتنی حمایت امریکہ و برطانیہ نے کی ہے، کسی نے نہیں کی۔ اسی لئے امریکہ و برطانیہ مردہ باد ہیں اور انکے جو بھی یار ہیں، وہ غدار ہیں۔ متن : تحریر: محمد بشیر دولتی سولہ مئی بہت اہم دن ہے۔ اسے مردہ باد امریکہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آج کل اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ایک زمانہ تھا، جب پاکستان میں صرف آئی ایس او کے دوست ہی مردہ باد امریکہ و مردہ باد برطانیہ کے نعرے لگاتے تھے اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ نعرہ صرف آئی ایس او اور آئی ایس او کے بانی ڈاکٹر محمد علی نقوی تک ہی محدود ہے، لیکن آج پاکستانی بچے بچے کی زبان پر مردہ باد امریکہ کا نعرہ ہے۔ اب یہ نعرہ ہماری تنظیمی شناخت کے بجائے ہمارا مُلکی و قومی بیانیہ بن چکا ہے۔ اس نعرے کو قومی بیانیہ بنانے، پاکستان کی پارلیمنٹ میں مردہ باد امریکہ کے نعرے لگوانے، امریکی جرائم پر تقاریر کروانے اور عوام کو مردہ باد امریکہ کہنے کیلئے سڑکوں پر لانے میں جہاں آئی ایس او سمیت بہت ساری انقلابی شخصیات اور تنظیموں کا کلیدی کردار ہے، وہیں اس میں پاکستان کی سب سے بڑی قومی سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف اور اسی طرح پاکستانی اہلِ تشیع کی بھی ایک بڑی مذہبی سیاسی پارٹی مجلس وحدت مسلمین کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ 16 مئی یعنی دشمن شناسی کا دن۔ دشمن کو پہچاننے، اس کے مقابلے کی تیاری کرنے، اس کے حوالے سے عوام کو شعور دینے اور اس کے خلاف زبان کھولنے کا دن۔ سولہ مئی وہ دِن ہے، جب اقوام متحدہ میں امریکہ نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ پندرہ مئی 1948ء کو اسرائیل وجود میں آیا تھا۔ وجود میں آنے کے ایک دن کے بعد سولہ مئی کو امریکہ نے اسرائیل کو تسلیم کرکے اُسے دنیا میں قانونی حیثیت دی۔ بعد ازاں اسرائیل کے خاتمے کی جتنی بھی کوششیں کی گئیں، انہیں امریکہ و برطانیہ نے کامیاب نہیں ہونے دیا۔ پانچ جون 1967ء کی چھ روزہ تیسری عرب اسرائیل جنگ میں امریکہ و برطانیہ کی مدد کے سبب غاصب اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط و وسیع ہوگیا۔ یوں اس زہریلے خنجر کو مسلسل مسلمانوں کے قلب میں گھونپا گیا۔ اس وقت اسرائیل میں پینسٹھ لاکھ یہودی آباد ہیں جبکہ فلسطینی عربوں کی تعداد پچپن لاکھ تک ہیں۔ کثیر تعداد ہونے کے باوجود فلسطینیوں کو اپنے ہی ملک میں بےگھر و بے وطن کیا جا رہا ہے۔ آج بھی اسرائیلی فلسطینیوں کا گھر مسمار کرکے انہیں اپنی آبائی وطن سے بےدخل کر رہے ہیں۔ افریقہ، یمن، یوکرائن سمیت مختلف ممالک سے یہودیوں کو لاکر بسایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذریعے فلسطین کو محدود اور اسرائیل کو وسعت دی جا رہی ہے۔ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کے عیسائیوں کو اقوام متحدہ کے ذریعے ہی آزادی ملی، لیکن کشمیر اور فلسطین کے مسلمان اب بھی اپنے ہی وطن میں بےوطن اور اپنے ہی گھر میں مظلوم و اسیر ہیں۔ اسرائیلی افواج کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار جبکہ ریزرو آرمی کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ نہیں۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی جوانوں کی ماری گئی اینٹوں کی مذمت، لیکن اسرائیل کے کیمیکل بموں پر خاموشی چھائی رہتی ہے۔ امریکی مندوب روس کے یوکرائن پر حملے پر افسوس اور اقوام متحدہ کو روکنے کا ذمہ دار قرار دیتا ہے اور فلسطین و یمن اور کشمیر کے مظلومین کے حق میں قرارداد آئے تو خود امریکہ بہادر اس پر ویٹو پاور استعمال کرتا ہے۔ یہی امریکہ ہے، جو حماس اور الجھاد کو چھوٹے دفاعی میزائل پہنچانے پر ایران کے خلاف پابندیاں لگاتا ہے، جبکہ 2006ء کی لبنان اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل کو ایف سولہ کی فراہمی نہیں روکی، جبکہ تیس سال قبل ایف سولہ کے لئے پاکستان سے پیسے لے کر بھی اسے ایف سولہ نہیں دیئے، اسرائیل کی آبادی پاکستان سے بیس گنا کم، مگر دفاعی بجٹ ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔ اسرائیل ہتھیار بنانے والا دنیا کا آٹھواں اور ڈرون برآمد کرنے والا پہلا ملک ہے۔ اسلحے کی برآمد نو ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اسرائیل کے پاس چار کے قریب ایٹم بم موجود ہیں، امریکہ سمیت عالمی دنیا اس پر آنکھ بند کرکے بیٹھی ہے۔ اسرائیل جنگی روبوٹس، رات کے اندھیرے میں دیکھنے والے جنگی آلات، دیوار کے دوسری طرف انسانی نقل و حرکت جانچنے والے سنسر آلات بھی خود تیار کرتا ہے۔ باون لڑاکا طیارے اور چھبیس سو سے زائد ٹینکس ہیں۔ اسرائیل کا میزائل ڈیفنس سیسٹم آئیرن ڈوم کہلاتا ہے۔ آئیرن ڈوم ڈرون اور راکٹ کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے فضا میں تباہ و برباد کرسکتا ہے۔ پورا اسرائیل رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ہمارے کراچی سے کئی گنا چھوٹا ہے۔ اس مختصر رقبے کو آئیرن ڈوم سے گویا ڈھانپ کر ہی رکھا ہوا ہے۔  یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جدید سے جدید اسلحے اور پڑوس میں موجود فلسطین کے غدار حکمرانوں کے ہوتے ہوئے اسرئیل کے سخت سکیورٹی و حساس آلات نصب ہونے کے باوجود اسرائیل کی جیل سے حماس کے قیدی بآسانی فرار ہوئے ہیں۔ جذبہ جہاد سے لبریز حماس جب چاہے غزہ کی پٹی سے ایران کے دیئے ہوئے میزائل برسا لیتی ہے۔ ایمانی جذبے سے سرشار حزب اللہ جب چاہے، اسرائیل میں گھس کر ان کے فوجی پکڑ کر لے جاتی ہے پھر اپنی شرائیط پر واپس کرتی ہے۔ جب چاہے لبنان سے میزائلوں کی بارش کرکے اسرائیلیوں کو زیر زمین چھپنے پر مجبور بھی کرتی ہے۔ کئی ممالک ان جدید اسلحوں سے اتنے مرعوب ہیں کہ وہ اپنے دفاع کے لئے ان مہنگے اسلحوں کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں۔ عرب ممالک تیزی سے اسرائیل کے ساتھ دوستی بڑھا رہے ہیں۔ صدی کی ڈیل اسی دوستی،(اسرائیل کی مضبوطی) اور فلسطینیوں سے غداری کا نتیجہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اس وقت اسرائیل نے پورے اسرائیل کو دبئی میں منتقل کر دیا ہے، گویا اسرائیل نابود بھی ہو جائے تو صیہونیزم ختم نہ ہو۔ آج بھی دنیا میں تیس کے قریب ایسے ممالک ہیں، جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ مجھے فخر ہے کہ میرے ملک خداداد پاکستان نے ابھی تک اس غاصب ملک کو تسلیم نہیں کیا۔ اس بارے میں جب سابق وزیراعظم سے سوال کیا تو عمران خان نے سینہ تان کر کہا تھا کہ قائد اعظم نے اسرائیل کو غاصب ملک کہا ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کریں۔ اسی طرح کے بیانات مصر کے سابق صدر محمد مرسی نے بھی دیئے تھے، مگر افسوس کہ ان کی حکومت بھی گرا دی گئی اور غیر محسوس انداز میں انہیں قتل کر دیا گیا۔ اب مصر میں امریکہ، سعودیہ اور اسرائیل کے دوست سیسی کی حکومت ہے۔ ان دنوں پاکستان میں بھی انہی کے دوستوں و طرف داروں کی حکومت آگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی بار سننے میں آیا ہے کہ ہمارے سرکاری ٹی وی کے ایک عہدیدار اس وقت اسرائیل میں موجود ہیں۔ ایسے میں پاکستانی عوام کو مزید عقل و شعور اور بصیرت کی ضرورت ہے۔ حالیہ واقعات میں امریکہ مخالف جذبات، جلسوں سے لے کر اسمبلیوں تک امریکہ مخالف نعرے عوامی شعور و بیداری کا نتیجہ ہیں۔ اب اگر یہ شعور پاکستان میں عام ہو رہا ہے تو یہ عوامی بیداری اور بصیرت کا سبب ہے۔ ناگا ساگی سے ہیروشیما تک، ویت نام سے افریقہ تک، افغانستان سے پاکستان و عراق اور شام تک، جتنے انسانوں کو امریکہ نے قتل کیا ہے، کسی بھی ملک نے قتل نہیں کیا۔ جتنی جمہوری حکومتوں کو امریکہ نے سازش سے ہٹایا ہے، کسی نے نہیں ہٹایا۔ اسرائیلی مظالم کی جتنی حمایت امریکہ و برطانیہ نے کی ہے، کسی نے نہیں کی۔ اسی لئے امریکہ و برطانیہ مردہ باد ہیں اور ان کے جو بھی یار ہیں، وہ غدار ہیں۔