اسلام ٹائمز 19 Aug 2022 گھنٹہ 19:36 https://www.islamtimes.org/ur/news/1009993/کوئٹہ-وزیراعلی-کی-بلوچستان-یونیورسٹیز-کیلئے-گرانٹ-ان-ایڈ-ریلیز-کرنیکی-منظوری -------------------------------------------------- ٹائٹل : کوئٹہ، وزیراعلیٰ کی بلوچستان کی یونیورسٹیز کیلئے گرانٹ ان ایڈ ریلیز کرنیکی منظوری -------------------------------------------------- ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے صوبے کی 10 یونیورسٹیز کیلئے اڑھائی ارب روپے کی گرانٹ ان ایڈ کی اجراء کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں ہماری یونیورسٹیوں کا معیار اتنا بلند ہو کہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل ہو سکیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان کی دس یونیورسٹیز کیلئے اڑھائی ارب روپے کی گرانٹ ان ایڈ فوری طور پر ریلیز کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے صوبے کی یونیورسٹیوں کو گرانٹ ان ایڈ کی فراہمی سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ وائس چانسلرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔ چیف سیکرٹری عبدالعزیز عقیلی اور سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن حافظ عبدالماجد بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ صوبے کی یونیورسٹیوں کی مالی معاونت کے لئے صوبائی بجٹ میں اڑھائی ارب روپے مختص ہیں۔ جنہیں طے شدہ فارمولے کے مطابق دس یونیورسٹیوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گرانٹ ان ایڈ کی تقسیم کے فارمولے میں تمام عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اجلاس میں یونیورسٹیوں کے مالی امور اور اسٹرکچر کا جائزہ لیتے ہوئے آمدنی اور اخراجات میں تناسب پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ یونیورسٹیاں خود مختار ادارے ہیں اور بہتر مالی نظم و نسق کے ذریعہ انہیں خود انحصار بنایا جا سکتا ہے، جیسا کہ ملک اور دنیا کی دوسری یونیورسٹیاں ہیں۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو نیشنل فنانس کمیشن کے فارمولے کے تحت صوبے کی یونیورسٹیوں کو 9 فیصد حصہ دینا چاہئیے۔ لیکن صوبے کی یونیورسٹیوں کو ملنے والا حصہ 4.5 فیصد ہے۔ جس کے باعث یونیورسٹیوں کو مالی مسائل درپیش ہیں اور مجموعی طور یونیورسٹیوں کو سالا نہ 2.9 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یونیورسٹیوں کی فیسوں کی مد میں اپنی مجموعی آمدنی 1.4 ارب روپے ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے 3.4 ارب روپے ملتے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت 2.5 ارب روپے کی گرانٹ ان ایڈ دیتی ہے۔ اس موقع پر طے پایا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان بڑی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ہمراہ چئیرمین ایچ ای سی سے ملاقات کرینگے اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کی یونیورسٹیوں کو 9 فیصد حصہ کے مطابق گرانٹ کی فراہمی کی بات کی جائے گی، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان اس حوالے سے وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کرینگے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر وائس چانسلرز کو صوبے کی یونیورسٹیوں کے مسائل کے دیرپا حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود کہ صوبہ اس وقت شدید مالی مسائل سے دوچار ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ یونیورسٹیوں کے مالی مسائل کے حل کے لیے بھرپور معاونت کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے یونیورسٹیوں میں ڈسپلن کے قیام اور معیار تعلیم کی بہتری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری یونیورسٹیوں کا معیار اتنا بلند ہو کہ وہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل ہو سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کی منزل تعلیی نظام کی بہتری اور اپنے نوجوانوں کو علم و ہنر سے آراستہ کر کے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ طلباء، والدین، اساتذہ اور معاشرے کو تعلیم کے حوالے سے سنجیدہ طرز عمل اپنانا ہوگا اور اصلاحات اور دیرپا منصوبہ بندی کے زریعہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انقلابی تبدیلیاں لانی ہونگیں۔ بصورت دیگر ہم ہمیشہ پسماندگی کا شکار رہیں گے اور دنیا ہم سے بہت آگے نکل جائے گی۔