اسلام ٹائمز 30 May 2019 گھنٹہ 23:59 https://www.islamtimes.org/ur/article/797141/سعودی-عرب-یمن-کی-دلدل-سے-نکلنے-کیلئے-کوشاں -------------------------------------------------- ٹائٹل : سعودی عرب یمن کی دلدل سے نکلنے کیلئے کوشاں -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: سعودی حکام کی جانب سے یمن کے خلاف جارحیت روک دینے کے اشارے موصول ہو رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یمن میں شدید عوامی مزاحمت کے بعد اب اس دلدل سے باہر نکلنے کیلئے کوشاں ہیں۔ متن : تحریر: فاطمہ صالحی 2015ء میں جب سعودی عرب نے اتحاد تشکیل دے کر یمن پر حملہ کیا تھا تو شاید اس وقت سعودی حکام نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ جنگ کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ آج یمن سعودی عرب کیلئے ایک ایسی دلدل بن چکا ہے جہاں وہ بری طرح پھنس گیا ہے اور اسے نہ آگے جانے کیلئے اور نہ ہی پیچھے ہٹنے کیلئے کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ اس وقت سعودی حکام ایک طرف تو یمن جنگ سے دامن چھڑانا چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی نہیں چاہتے کہ ان کی شکست عیاں ہو جائے اور اس طرح انہیں ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ جائے۔ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے عبداللہ المعلمی نے یمن جنگ کے دوران عام یمنی شہریوں کے قتل عام کا اعتراف کرتے ہوئے جنگ بندی کیلئے اس شرط کا اعلان کیا ہے کہ حوثی قبائل اپنے زیر قبضہ علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں۔ سعودی عرب یمن جنگ کے اختتام کیلئے شرائط کا اعلان کر رہا ہے تاکہ دنیا والوں کو یہ تاثر دے سکے کہ وہ جنگ بند کرنے پر مجبور نہیں ہے۔ عبداللہ المعلمی نے کہا: "جب تک حوثی جنگجو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 پر عملدرآمد نہیں کرتے جنگ بندی ممکن نہیں ہو گی۔ اگر حوثی اپنے مورچوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو انہیں امان دے دی جائے گی اور ان پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ لیکن حوثی جنگجووں کی پسماندگی اور ہتھیار پھینکنے سے متعلق معاہدے کے بغیر جنگ بندی حقیقی نہیں ہو گی۔ ریاض کی سربراہی میں عرب اتحاد عام شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی لانے میں کامیاب ہو چکا ہے!"۔ عالمی برادری کی جانب سے شدید دباو کے بعد سعودی حکام بالآخر اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ یمن میں عام شہریوں کا جانی نقصان ہوا ہے۔ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے نمائندے عبداللہ المعلمی نے کہا: "بعض غلطیاں انجام پائی ہیں اور ان کی وجہ انسانی، تکنیکی یا دیگر نقائص ہیں۔ ان غلطیوں کا جائزہ لیا جائے گا اور جانی نقصان کا شکار ہونے والے گھرانوں کو تاوان ادا کیا جائے گا۔ جنگ میں جانی نقصان جنگ کا لازمہ ہے اور ویت نام، افغانستان، عراق اور یمن کہیں بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں"۔ عبداللہ المعلمی نے دعوی کیا کہ شام کی جنگ کی نسبت یمن میں عام شہریوں کا بہت کم نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے گذشتہ چند سالوں میں یمن پر سعودی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے 60 ہزار عام شہریوں کی تعداد کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا: "یمن کی جنگ میں صرف 60 ہزار عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جو شام میں ہلاک ہونے والے 6 لاکھ شہریوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔" یمن آرمی اور عوامی رضاکار فورس انصاراللہ کی بے مثال مزاحمت اور استقامت کے نتیجے میں یمن کی جنگ سعودی عرب کیلئے ایک تھکا دینے والی جنگ بن چکی ہے۔ یمن آرمی اور جنگجو کم ترین وسائل کے ساتھ اپنے ملک و قوم کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں اور ان کی شجاعانہ مزاحمت کے نتیجے میں اب سعودی عرب یمن جنگ ختم کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ سعودی حکام کے اس فیصلے میں حال ہی میں یمن آرمی اور انصاراللہ کے ان ڈرون حملوں کا بھی بنیادی کردار ہے جن کے ذریعے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہی حملوں کے بعد سعودی فرمانروا نے مکہ میں ہنگامی اجلاس کی کال دے کر درپیش مشکلات کے حل کیلئے مناسب حکمت عملی تلاش کرنے کی کوشش کا آغاز کر دیا تھا۔ البتہ عالمی سطح پر سعودی عرب کے خلاف رائے عامہ کے دباو اور یمن جنگ کے فوجی میدان میں سعودی عرب کی شکست کے ساتھ ساتھ یمن آرمی اور انصاراللہ کی بڑھتی ہوئی ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کی طاقت بھی سعودی حکمرانوں کے اس فیصلے کا باعث بنی ہے کہ اب یمن جنگ اختتام پذیر ہو جانی چاہئے۔ اب یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ سعودی عرب یمن جنگ سے پیچھے ہٹ جائے گا اور یہ جنگ بندی مشروط ہی سہی کم از کم عام شہریوں کے قتل عام اور تباہی و بربادی کا سلسلہ رک جائے گا۔ اس وقت عالمی رائے عامہ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ ان مغربی ممالک کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے جو سعودی حکمرانوں کو جدید اسلحہ فروخت کرنے میں مصروف ہیں۔ ان مغربی ممالک میں امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی سرفہرست ہیں۔