اسلام ٹائمز 1 Dec 2021 گھنٹہ 21:19 https://www.islamtimes.org/ur/news/966431/نئے-پنڈتوں-کی-واپسی-دور-بات-اب-جو-کشمیر-میں-قیام-پذیر-تھے-وہ-بھی-واپس-بھاگ-رہے-ہیں-عمر-عبدﷲ -------------------------------------------------- ٹائٹل : نئے پنڈتوں کی واپسی تو دور کی بات اب جو کشمیر میں قیام پذیر تھے وہ بھی واپس بھاگ رہے ہیں، عمر عبدﷲ -------------------------------------------------- این سی کے نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے دورِ حکومت میں 2014ء تک بیشتر علاقے ملی ٹینسی سے خالی ہوگئے تھے، وادی بھر میں بنکر ہٹائے گئے صرف شہر سرینگر میں ہی 40 سے زیادہ بنکر منہدم کئے گئے لیکن آج کی صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف اُن پرانی جگہوں پر واپس بنکر قائم ہوئے ہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیراعلٰی عمر عبدﷲ نے بدھ کے روز کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد مودی حکومت نے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا وعدہ کیا تھا لیکن ڈھائی سال کا عرصہ ہوگیا کوئی پنڈت واپس گھر نہیں آیا ہے، اُلٹا جو یہاں پر قیام پذیر تھے وہ بھی واپس بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 370 کی بحالی کی خاطر نیشنل کانفرنس اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان باتوں کا اظہار این سی کے نائب صدر نے ڈاک بنگلہ بدرواہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد اب لوگوں سے روشنی کی زمینیں چھینی جارہی ہے۔؟ انہوں نے کہا کہ اب یہ کہا جارہا ہے کہ جموں و کشمیر میں جب حالات مکمل طور پر پُرامن ہوجائیں گے، ملی ٹنسی کے واقعات اور شہری ہلاکتیں بند ہوجائیں گی تبھی جاکر ریاست کا درجہ واپس دیا جائے گا۔ عمر عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر آج یہاں کے حالات خراب ہوگئے ہیں اور ملی ٹنسی میں اضافہ ہوا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے۔؟ عمر عبداللہ نے کہا کہ نئی دہلی میں بھاجپا کی حکومت ہے اور اسی حکومت نے جموں و کشمیر میں لیفٹنٹ گورنر کو بھیجا ہے، اگر سکیورٹی کا نظام خراب ہوا ہے، لوگوں کو مارا جارہا ہے، تو یہ کس کا قصور ہے۔؟ انہوں نے کہا کہ بھاجپا یہ کہہ کر عوام کو سزا دے رہی ہے کہ حالات مکمل طور پر ٹھیک ہونے کے بعد ہی ریاست کا درجہ بحال ہوگا، ناکامی آپ کی اور سزا یہاں کے لوگ بھگتیں گے، یہ کہاں کا انصاف ہے۔؟ این سی کے نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے دورِ حکومت میں 2014ء تک بیشتر علاقے ملی ٹینسی سے خالی ہوگئے تھے، وادی بھر میں بنکر ہٹائے گئے صرف شہر سرینگر میں ہی 40 سے زیادہ بنکر منہدم کئے گئے لیکن آج کی صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف اُن پرانی جگہوں پر واپس بنکر قائم ہوئے ہیں بلکہ اُس سے دوگنی تعداد میں نئی جگہوں پر بنکر کھڑے کئے گئے ہیں۔ عمر عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے دورِ حکومت میں شادی بیاہ اور دیگر تقاریب کے لئے کمیونٹی ہال بنائے گئے تھے آج صورتحال یہ ہے کہ لوگوں کے آرام و آسائش کے لئے تعمیر کئے گئے ان کمیونٹی ہالوں کو فورسز کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملی ٹینسی اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب کشمیر کا کوئی بھی علاقے ملی ٹینسی سے خالی نہیں، نئے پنڈتوں کی واپسی تو دور کی بات اب جو کشمیر میں قیام پذیر تھے وہ بھی واپس بھاگ رہے ہیں۔ عمر عبدﷲ کے مطابق پوری دنیا نے دیکھا کہ گذشتہ ماہ کس طرح سے لوگوں کو چن چن کر مارا جارہا تھا، بندرو جس نے 1990ء کی پُرآشوب دور میں بھی اپنی دکان بند نہیں کی، کو کسی طرح نشانہ بنایا گیا۔