اسلام ٹائمز 20 Jan 2023 گھنٹہ 19:03 https://www.islamtimes.org/ur/news/1036650/توہین-صحابہ-اہلبیت-بل-بدنیتی-پر-مبنی-ہے-علامہ-سید-جواد-نقوی -------------------------------------------------- ٹائٹل : توہین صحابہؓ و اہلبیتؑ بل بدنیتی پر مبنی ہے، علامہ سید جواد نقوی -------------------------------------------------- جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں ٹی بی یو ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر بل پیش کرنیوالوں کی نیت میں صداقت ہوتی  تو پیغام پاکستان کے نام سے جو دستاویز کو قانون کا فتنہ دلواتے، جس میں تمام مسالک کے بڑے علماء کرام کے دستخط موجود ہیں۔ اس دستاویز میں بھی یہی لکھا ہے کہ تکفیریت، دہشتگردی، توہینِ مذہب جائز نہیں۔ اس دستاویز کی خوبی یہ ہے کہ اس پر تمام مسالک کا اتفاق ہے اور مذہبی قانون سازی کا طریقہ و ادب بھی یہ ہے کہ مسالک کے اکابرین کی مشاورت اور انہیں اعتماد میں لیکر قانون سازی کی جائے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ اور جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے لاہور میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ کی نسبت کی وجہ سے امہات المومنین، اصحاب کرام اور اہلبیت اطہار کا احترام مسلمات میں سے ہے، جس پر تمام مسالک متفق ہیں اور اس کیلئے ملک میں قانون بھی موجود ہے، لیکن یہ نیا قانون چند اعتبار سے بدنیتی پر مبنی ہے، اولاً یہ بے موقع و بے محل ہے، چونکہ اس وقت ملک بدترین سیاسی و معاشی بحرانوں کا شکار ہے، دہشتگردی کے سائے منڈلا رہے ہیں اور اس پر فرقہ واریت کی تیلی جلا دی گئی ہے، جس کا ثبوت میڈیا پر اس بل سے متعلق عکس العمل ہے۔ دوم یہ قانون صحابیت، امہات اور اہلبیت کے دفاع کیلئے نہیں بنوایا گیا بلکہ اس کا مقصد بنی اُمیہ کی کچھ متنازع شخصیات کو صحابیت کا لباس پہنا کر انہیں اصحاب رسول والا تقدس و احترام دلوانا ہے، جو اہلسنت کے ہاں بھی متنازعہ ہیں اور جن پر اہلسنت میں شیعہ کی نسبت زیادہ اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور اس اختلاف رائے کو توہین کہہ کر اس قانون سے غلط استفادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہون نے کہا کہ اس بل کو پیش کرنے کا مقصد پاکستان میں موجود متشدد و تکفیریت پسند طبقے کے ووٹ حاصل کرنے کی خواہش ہے، جو از خود مذہب کی توہین ہے، چونکہ یہ مذہب کا سیاست و اقتدار کے حصول میں بطور اوزار استعمال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں محبت سے زیادہ نفرت کی بنیاد پر ووٹ پڑتے ہیں اور یہی کام ہندوستان میں مودی نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے قوانین کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل، متحدہ علماء بورڈ جیسے پلیٹ فارمز موجود ہیں، اگر کوئی مذہبی بل پاس کرنا مقصود ہو تو اسے پہلے ان اداروں میں پیش کیا جاتا ہے, پھر یہاں بحث کے بعد اسے قانونی شکل دینے کیلئے پارلیمنٹ میں بھیجا جاتا ہے، لیکن اس بل کو اتنی عجلت میں پاس کیا گیا، جیسے کوئی بیرونی دباو تھا، جسے یہ برداشت نہیں کر رپا رہے تھے۔  علامہ سید جواد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ اگر بل پیش کرنیوالوں کی نیت میں صداقت ہوتی تو پیغام پاکستان کے نام سے جو دستاویز کو قانون کا فتنہ دلواتے، جس میں تمام مسالک کے بڑے علماء کرام کے دستخط موجود ہیں۔ اس دستاویز میں بھی یہی لکھا ہے کہ تکفیریت، دہشتگردی، توہینِ مذہب جائز نہیں۔ اس دستاویز کی خوبی یہ ہے کہ اس پر تمام مسالک کا اتفاق ہے اور مذہبی قانون سازی کا طریقہ و ادب بھی یہ ہے کہ مسالک کے اکابرین کی مشاورت اور انہیں اعتماد میں لے کر قانون سازی کی جائے۔