اسلام ٹائمز 14 Feb 2018 گھنٹہ 23:30 https://www.islamtimes.org/ur/interview/704927/شامی-قدیم-میزائل-کا-اسرائیلی-جدید-جنگی-طیارہ-مار-گرانا-اسرائیل-کیلئے-نفساتی-طور-پر-تباہ-کن-ہے-پروفیسر-ڈاکٹر-طلعت-عائشہ-وزارت -------------------------------------------------- داعش کی شکست کے بعد ایران، عراق، شام و لبنان کی چین بننے سے خطے میں اسرائیلی بالادستی میں بہت بڑی دراڑ پڑ چکی ہے ٹائٹل : شامی قدیم میزائل کا اسرائیلی جدید جنگی طیارہ مار گرانا اسرائیل کیلئے نفساتی طور پر تباہ کن ہے، پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت شام میں داعش کی شکست، بشار الاسد کی مضبوطی، حزب اللہ کی اسرائیلی سرحد پر موجودگی اسرائیل کیلئے شدید خوف کا باعث ہے -------------------------------------------------- جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سابق چیئرپرسن اور ماہر عالمی امور کا "اسلام ٹائمز" کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ عرب اسپرنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا اور اسرائیل نے شامی صدر بشار الاسد کو ہٹانے کی کوششیں کیں، لیکن اب داعش کی شکست کے بعد بشار الاسد بہت زیادہ مضبوط ہو گئے ہونگے، بشار الاسد کا اسرائیل مخالف نکتہ نظر بھی مزید مضبوط ہوگا، شام میں داعش کی شکست میں کلیدی کردار ادا کرنے والی حزب اللہ سمیت تمام تنظیمیں، تحریکیں و گروہ بھی اور مضبوط ہو گئے ہیں، اب شام میں حزب اللہ کو بہت تقویت مل چکی ہے، جس نے شام کی جنگ میں حصہ لے کر داعش کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا، اب حزب اللہ شام کی جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی سرحد کے بالکل نزدیک آ چکی ہے، حزب اللہ سمیت یہ تمام عناصر اب شام میں کہاں کہاں موجود ہیں، اسرائیل سے کتنے دور و نزدیک ہیں، پھر یہ سب عناصر صرف تربیت یافتہ ہی نہیں، بلکہ بہترین جنگی تجربہ رکھنے والے بن چکے ہیں، اسی طرح غزہ میں اسرائیل مخالف حماس بہت مضبوط حیثیت کے ساتھ پہلے سے موجود ہے، لہٰذا یہ سب اسٹراٹیجک نکتہ نظر سے اسرائیل کیلئے بہت زیادہ خوف کا باعث بن چکا ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔ متن : پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت ملکی و عالمی امور کی ماہر اور معروف سیاسی و خارجہ پالیسی تجزیہ کار ہیں، آپ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔ آپ نے جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا، اس کے بعد آپ نے 1977 78 میں اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولینا، امریکا سے بھی government and international studies میں ماسٹرز کیا۔ اس کے بعد آپ نے جامعہ کراچی سے Strategies for Peace and Security in the Persian Gulf کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کیا۔ آپ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں 34 سال سے زائد عرصہ تدریسی خدمات سرانجام دے چکی ہیں، اس کے بعد آپ نے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی میں آٹھ سال تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ آپ اکثر و بیشتر ملکی و غیر ملکی ٹی وی اور ریڈیو چینلزمیں فورمز اور ٹاک شوز پر بحیثیت تجزیہ کار ملکی و عالمی امور پر اپنی ماہرانہ رائے پیش کرتی نظر آتی ہیں، جبکہ آپ کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ آپ آج کل کراچی کے معروف تعلیمی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ کے شعبہ سینٹر فار پالیسی اینڈ ایریا اسٹیڈیز کی سربراہ ہیں۔ ”اسلام ٹائمز نے پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت کے ساتھ ”شام کی جانب سے اسرائیلی جنگی طیارے کو گرائے جانے کے حوالے سے ان کے آفس میں میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ اسلام ٹائمز: شام کے قدیم میزائل سے اسرائیل کے جدید جنگی طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنا کر گرانے کو کس نگاہ سے دیکھتی ہیں۔؟ پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت: اسرائیل کے یہ جنگی طیارے دنیا کے جدید ترین طیارے میں شمار ہوتے ہیں، غزہ سمیت مقبوضہ فلسطین اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں ان جدید جنگی طیاروں کا یہ بے دریغ استعمال کرتے رہے ہیں، عرب ممالک سے جب بھی ان کا کوئی تنازعہ ہوتا ہے، تو اسرائیل انہیں جنگی طیاروںکا استعمال کرتا ہے، غالباً عراق کے ایٹمی مراکز کو تباہ کرنے میں بھی اسرائیل نے ایف سولہ جنگی طیاروں کا ہی استعمال کیا تھا، ایک زمانے میں سمجھا جاتا تھا کہ اسرائیل کے ایف سولہ جنگی طیاروں کا کوئی توڑ نہیں ہے عرب ممالک کے پاس، یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ایران، عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان یہ جو ٹیکنالوجی فاصلہ ہے، وہ اتنا زیادہ ہے کہ اسے ختم نہیں کیا جا سکتا، شام کی جانب سے پہلے کہا جاتا رہا ہے کہ ہم اسرائیلی فضائی کارروائی کے مقابلے میں یہ کر لیں گے، وہ کر لیں گے، لیکن کبھی ردعمل نظر نہیں آئی، لیکن مجھے اب یہ ایک انتہائی خوش آئند چیز نظر آرہی ہے کہ شام جیسے تباہ حال ملک نے اسرائیل کا جدید ترین ایف سولہ جنگی طیارہ مار گرایا ہے، اور جیسا کہ اطلاعات ہیں کہ شام نے اسرائیلی جدید جنگی طیارے کو ایک بہت قدیم میزائل ڈیفنس سسٹم کے ذریعے مار گرایا ہے، ہو سکتا ہے کہ شام نے اس ڈیفنس سسٹم کو اپ گریڈ کر دیا ہو، بہرحال اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ٹیکنالوجی امتیاز جو اسرائیل کے حق میں جاتا تھا، وہ اب شاید ختم ہو جائے، شام کی جانب سے اسرائیلی جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد اسرائیل کی جو فضائی بالادستی سمجھی جاتی تھی، اسے انتہائی بڑا دھچکہ لگا ہے، اگر شام کے پاس یہ میزائل سسٹم بڑی تعداد میں موجود ہیں تو اس سے ناصرف اسرائیلی فضائی کارروائیاں بھی ختم ہو جائیں گی، بلکہ امید ہے کہ اس سے اسرائیل کی فضائی بالادستی بھی ختم ہو جائے گی۔ اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ شام نے ایک اسرائیلی جنگی ایف سولہ طیارہ کو نہیں گرایا بلکہ اسرائیلی حیثیت اور دھاک کو برباد کرکے رکھ دیا ہے، کیا کہیں گی اس حوالے سے۔؟ پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت: یہ ایک بہت اہم پوائنٹ ہے، جیسا کہ میں نے کہا کہ ٹیکنالوجی فاصلہ تقریباً ختم ہو گیا ہے، اسرائیل کے جو جنگی ساز و سامان تھا، وہ اب اس نوعیت کا نہیں رہا ہے کہ جیسا وہ اسرائیل کو خطے میں بالادستی فراہم کرتا تھا، پھر سب جانتے ہیں کہ جنگی سسٹم اور اس طرح کے تنازعات میں نفسیاتی فوائد بہت بڑے اور اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، اسی نفساتی فوائد کے حصول کیلئے تمام قومیں کوششیں کرتی ہیں، ماہرین نفسیات کو اس کام میں لگاتی ہیں، پچھلے دنوں سپر بلیو بلڈ مون کے نام سے جو چاند گرہن لگا تھا، حتی اسے بھی اسرائیل نے اپنے نفسیاتی فوائد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی، شام کی جانب سے جنگی طیارہ مار گرایا جانا اسرائیل کیلئے بہت بڑی تباہ کن نفساتی آفت ہے، کیونکہ وہ اپنی فضائیہ کو ریڑھ کی ہڈی سمجھتے تھے، اسے اپنی برتری و بالادستی کا باعث سمجھتے تھے، وہ چیز ختم ہو گئی ہے، جسے شام نے چیلنج کرکے ختم کر دیا ہے، اسرائیل کیلئے یہ نفسیاتی طور پر تباہ کن ہے۔ اسلام ٹائمز: کیا آئندہ بھی اسرئیل کے خلاف اس قسم کی مزاحمت متوقع ہے۔؟ پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت: اس سلسلے کا ایک بار شروع ہونے کے بعد مجھے رکتا ہوا نظر نہیں آتا، لیکن اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ شام کے پاس ایسے میزائل اور ڈیفنس سسٹم مزید کتنے ہیں، اگر یہ وافر مقدار میں موجود ہیں تو میرے خیال میں یہ کارروائی تو ابتداءہے، بلکہ ایران سمیت خطے کے جن ممالک کے پاس یہ سسٹم موجود ہے، وہ بھی اس کا استعمال کرینگے، اور اسرائیل کی جو خام خیالی تھی کہ وہ جب جہاں جو چاہے کر سکتا ہے، وہ ختم ہو جائے گی۔ اسلام ٹائمز: امریکا اور اسرائیل کی پوری کوشش رہی کہ داعش کے ذریعے بشار حکومت کا خاتمہ کرکے خطے میں اپنے خلاف مزاحمت کا بھی خاتمہ کردے، لیکن اسرائیلی کوشش اسکے خلاف مزاحمت کو اس کے ہی دورازے پر لے آئی، اس حوالے سے آپ کیا کہیں گی۔؟ پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت: پہلی بات تو یہ کہ اب اس حقیقت میں کسی بھی قسم کا کوئی شک باقی نہیں رہا کہ داعش امریکی پیداوار ہے، داعش کا سرغنہ ابو بکر البغدادی بدنام زمانہ امریکی جیل گوانتاناموبے میں تھا، میں نے خود وہ ویڈیو دیکھی تھی کہ امریکی جنرل وہاں موجود تھا، ابوبکر البغدادی کو وہاں سے بہت ہی دوستانہ ماحول میں رہا کیا جا رہا تھا، اطلاعات کے مطابق امریکا جب بھی کسی کو گوانتاناموبے جیل سے رہا کرتا ہے، تو اس کے جسم میں ایک چپ (chip) ڈال دیتے ہیں، جس سے ہمیشہ انکی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے، یقیناً اس کے جسم میں بھی چپ ڈالی گئی ہوگی، انہیں مانیٹر کرنے کے باوجود مارا نہیں جانا ثبوت ہے کہ یہ امریکا کیلئے کام کر رہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ جب داعش شام میں لڑ رہی تھی تو شام اور اسرائیل کی سرحد پر داعش کیلئے ٹینٹ کے اسپتال بنائے گئے تھے، جہاں داعش کے دہشتگردوں کا علاج، آپریشن، سرجری، دوائیں سب اسرائیلی ڈاکٹرز کر رہے تھے، عراقی فورسز نے ایک جہا گرایا جو کہ نیٹو کا جہاز نکلا، جو داعش کیلئے اسلحہ لے کر جا رہا تھا، اب یہی امریکا داعش کو شام اور عراق میں شکست کے بعد افغانستان پہنچا رہا ہے، لہٰذا اب کوئی شک باقی نہیں رہا ہے کہ داعش کس نے بنائی اور یہ کس کیلئے کام کر رہی تھی۔ عرب اسپرنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا اور اسرائیل نے شامی صدر بشار الاسد کو ہٹانے کی کوششیں کیں، لیکن اب داعش کی شکست کے بعد بشار الاسد بہت زیادہ مضبوط ہو گئے ہونگے، بشار الاسد کا اسرائیل مخالف نکتہ نظر بھی مزید مضبوط ہوگا، شام میں داعش کی شکست میں کلیدی کردار ادا کرنے والی حزب اللہ سمیت تمام تنظیمیں، تحریکیں و گروہ بھی اور مضبوط ہو گئے ہیں، اب شام میں حزب اللہ کو بہت تقویت مل چکی ہے، جس نے شام کی جنگ میں حصہ لے کر داعش کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا، اب حزب اللہ شام کی جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی سرحد کے بالکل نزدیک آ چکی ہے، حزب اللہ سمیت یہ تمام عناصر اب شام میں کہاں کہاں موجود ہیں، اسرائیل سے کتنے دور و نزدیک ہیں، پھر یہ سب عناصر صرف تربیت یافتہ ہی نہیں، بلکہ بہترین جنگی تجربہ رکھنے والے بن چکے ہیں، اسی طرح غزہ میں اسرائیل مخالف حماس بہت مضبوط حیثیت کے ساتھ پہلے سے موجود ہے، لہٰذا یہ سب اسٹراٹیجک نکتہ نظر سے اسرائیل کیلئے بہت زیادہ خوف کا باعث بن چکا ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔ اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اسرائیل کی سلامتی مزید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے اور وہ مزید خوف کا شکار ہو چکا ہے۔؟ پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت: میرا خیال ہے کہ اسرائیل بہت زیادہ دباؤ کا شکار تو ہو جائے گا، کیونکہ ایک تو شام کی جانب سے اس کا جدید جنگی طیارہ گرانے کی وجہ سے اسے بہت بڑی نفسیاتی شکست کا سامنا ہے، لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ شام میں موجود مزاحمتی تنظیمیں اپنے پاس موجود اسلحہ کو مزید بہتر کیسے بنا پاتی ہیں، آپ میں تعاون کو کیسے بہتر بناتی ہیں، بہت ضروری ہے کہ حزب اللہ کا تعاون شام میں موجود اپنی جیسی دیگر مزاحمتی تنظیموں کے ساتھ، شامی، ایرانی حکومتوں کے ساتھ مزید بہتر ہو، پھر شام و دیگر ممالک میں موجود اسرائیل مخالف تنظیموں کے درمیان مزاحمتی الائنس، اتحاد بننا چاہیئے، کیونکہ یہ بہت بہترین موقع ہے، کیونکہ ان مزاحمتی تنظیموں کو بھی اسرائیلی جنگی طیارہ گرائے جانے سے نفسیاتی تقویت ملی ہے۔ اسلام ٹائمز: اسرائیل مخالف مزاحمتی بلاک نے داعش کو شکست دیکر عراق اور شام کو ایران کے ساتھ ایک لڑی میں پرو دیا ہے، اس کا اسرائیل پر کیا اثر پڑیگا۔؟ پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت: جی یہی وجہ ہے کہ وہ اسرائیل جو ہمیشہ جنگوں میں پہل کرتا تھا، لیکن آج میں ڈان اخبار میں پڑھا کہ اب اسرائیل جنگ سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے، مثلاً لبنان کے خلاف وہ فوری کارروائی کرتا تھا، لبنان چونکہ چھوٹا سا ملک ہے، وہ اس طرح سے ردعمل ظاہر نہیں کر پاتا تھا، لیکن لکھا ہے کہ اسرائیل اب لبنان کے ساتھ بھی جنگ سے پرہیز کر رہا ہے۔ پھر داعش کی شکست کے بعد ایران، عراق، شام کی چین کے چین کے بننے، جن کا لبنان بھی حصہ ہے، اس سے اسرائیل پر نفسیاتی کے ساتھ ساتھ بہت بڑے اسٹراٹیجک اثرات پڑیں گے، اس لئے کہ اب اسرائیل مخالف ان چاروں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے، آمدورفت میں کوئی رکاوٹ نہیں، آپس میں سپلائی میں کوئی رکاوٹ نہیں، یعنی جو اسلحہ یا دیگر چیز کسی ایک کے پاس ہے تو وہ اب چاروں کے پاس ہے، اس چین سے خطے میں عسکری توازن تبدیل ہوگا، اس چین سے خطے میں جو اسرائیلی برتری یا بالادستی تھی، اس میں بہت بڑی دراڑ پڑ چکی ہے، لہٰذا یہ جو بھی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں، یہ سب اسرائیل مخالف مزاحمتی تنظیموں، تحریکوں کے حق میں جاتی ہیں، فلسطینیوں کے حق میں جاتی ہیں۔