اسلام ٹائمز 5 Apr 2020 گھنٹہ 10:06 https://www.islamtimes.org/ur/news/854750/پاکستان-میں-کورونا-تبلیغی-جماعت-نے-پھیلایا-نہ-زائرین-طاہر-اشرفی-لائن-پر-آگئے -------------------------------------------------- کورونا اللہ کا عذاب ہے تو ہم اس سے لڑ نہیں سکتے، توبہ کرنا ہوگی ٹائٹل : پاکستان میں کورونا تبلیغی جماعت نے پھیلایا نہ زائرین نے، طاہر اشرفی لائن پر آگئے -------------------------------------------------- لاہور میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل کا کہنا تھا کہ کورونا شیعہ ہے نہ سنی، تفتان سے آنیوالے ہمارے شیعہ بھائی تو زیارات کیلئے گئے تھے، انہیں اگر پتہ ہوتا کہ وہاں کورونا ہے تو وہ نہ جاتے، اس میں تو زائرین کا کوئی قصور نہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں ایران سے آنیوالے زائرین کو کورونا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے کر پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری تھا کہ تبلیغی جماعت کے ارکان میں کورونا کا انکشاف ہوگیا، جس کے بعد زائرین پر ہونیوالی تنقید نے رخ بدل لیا۔ اس صورتحال میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی بھی کوشش کی گئی، مگر معاملہ الٹا پڑنے پر بہت سی شخصیات کو وحدت کا خیال آنے لگا۔ اس حوالے سے پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا زائرین سے پھیلا نہ تبلیغی جماعت سے بلکہ حکومت کی ناقص حکمت عملی سے پھیلا ہے، فرقہ وارانہ الزامات کا سلسلہ افسوس ناک ہے۔ لاہور میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ کرونا اللہ کا عذاب ہے تو ہم اس سے لڑ نہیں سکتے، بلکہ ہمیں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہریوں کو کتنے دنوں تک گھروں میں قید رکھ سکیں گے، حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ وہ امید ہی نہیں دلا سکے۔ وہ اپوزیشن کیساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، جبکہ اپوزیشن بھی سیاست کر رہی ہے۔ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ یہاں تو کورونا کو بھی شیعہ اور سنی بنا دیا گیا، وحدت کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے، مگر اس معاملے میں وحدت کو زد پہنچائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو چاہیئے تین ماہ کیلئے سیاست چھوڑ دیں اور طے کر لیں کہ عوام کو اس عذاب سے نجات دلانی ہے، اس میں اپوزیشن بھی اس کیساتھ تعاون کرے۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ تفتان میں نالائقی ہوئی، اس وجہ سے کورونا کا مرض پاکستان میں بڑھ گیا، یہ نالائقی زائرین سے نہیں انتظامیہ سے ہوئی۔ اس کے بعد دو مشیروں نے عمرہ پر بات شروع کر دی۔ عمرہ سے آنیوالوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا شیعہ ہے نہ سنی، تفتان سے آنیوالے ہمارے شیعہ بھائی تو زیارات کیلئے گئے تھے، انہیں اگر پتہ ہوتا کہ وہاں کورونا ہے تو وہ نہ جاتے، اس میں تو زائرین کا کوئی قصور نہیں۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ دونوں جانب سے غیر ذمہ دار لوگ ہیں اور دونوں جانب سے متنازع باتیں کی گئی ہیں، جو افسوسناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے امیر نے اجتماع کے بعد فوراً ہدایات دیں کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں، میڈیا حقائق توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔ بارہ کہو میں بھی تبلیغی جماعت والوں نے خود چیک اپ کا مطالبہ کیا، لیکن پمز والوں نے انہیں چیک کرنے کے بجائے واپس بھیج دیا، حکومت تبلیغی جماعت کے ارکان کو مسجد میں رہنے نہیں دیتی، گھروں کو جانے نہیں دیتی تو بتایا جائے وہ کہاں جائیں۔؟ انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر مفتی سیاسی معاملات کی سوجھ بوجھ رکھتا ہو، لیکن کراچی والوں کو چاہیئے کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کریں، زمینی و سیاسی حقائق کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں سے مشاورت کرتے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ہم کراچی کے علماء کے علم کے قائل ہیں، ان کا دل سے احترام کرتے ہیں، مگر اس معاملے میں انہیں چاہیئے تھا کہ وہ مشاورت کرتے۔ کعبے اور طواف کی بندش کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں طاہر اشرفی نے کہا کہ لگتا ہے کہ اللہ ہم سے ناراض ہے اور اس نے ہمارے لئے اپنے دروازے بند کر دیئے ہیں، اس لئے ہمیں اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیئے، توبہ استغفار کرنا چاہیئے۔