اسلام ٹائمز 16 Jul 2019 گھنٹہ 20:23 https://www.islamtimes.org/ur/news/805376/بلوچستان-میں-7-ہزار-انجینئرز-کے-بیروزگار-ہونے-سے-مایوسی-پھیل-رہی-ہے-گرینڈ-الائنس -------------------------------------------------- ٹائٹل : بلوچستان میں 7 ہزار انجینئرز کے بیروزگار ہونے سے مایوسی پھیل رہی ہے، انجینئرز گرینڈ الائنس -------------------------------------------------- پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجینئرز نے کہاکہ حکومت ہمارے ان مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرے، جن میں ٹیکنیکل/ پروفیشنل الائنس کی فراہمی اور سروس اسٹرکچر کی منظوری، نان ٹیکنیکل اسٹاف کی جگہ ٹیکنیکل اسٹاف کی تعیناتی، بی ڈی اے انجینئرز کی ریگولرائزیشن، لوکل گورنمنٹ انجینئرز کے لئے الگ ٹیکنیکل ونگ کے قیام جیسے مطالبات شامل ہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ انجینئرز گرینڈ الائنس بلوچستان کے نمائندگان و سابق صدر ینگ انجینئرز ایسوسی ایشن بلوچستان انجینئر نسیم اقبال، سابق صدر ینگ انجینئرز ایسوسی ایشن بلوچستان انجینئر وسیم زہری، انجینئر ظہور احمد، انجینئر لیاقت علی موسیانی، انجینئر ظفراللہ اقبال زہری، انجینئر منصور احمد ڈائریکٹر سلطان احمد، انجینئر حمیداللہ، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ، انجینئر نوید زہری، انجینئر ہدایت اللہ، اسسٹنٹ انجینئر لوکل گورنمنٹ انجینئر صدام بولچ، انجینئر شیر جان، انجینئر گلزار احمد و دیگر نے خضدار پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہے کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ انجینئرز بدحال و بے روزگار زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس وقت 7000سات ہزار بے روزگار انجینئرز ہیں جنہیں روزگار و ملازمتیں نہیں دی جارہی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں فنی مہارت سے لیس تعلیم یافتہ انجینئرز کو بے روزگار رکھنا ظلم و زیادتی،اور انصاف کے برخلاف مبنی اقدامات کے مترادف ہے، ان انجینئرز نے بڑی مشکل سے مہارت حاصل کی ان کو روزگار دیکر صوبہ ملک کے لئے ان کی خدمات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ بے روزگار رہنے سے انجینئرز اوور ایج ہو رہے ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجینئرز نے کہاکہ حکومت ہمارے ان مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرے، جن میں ٹیکنیکل/ پروفیشنل الائنس کی فراہمی اور سروس اسٹرکچر کی منظوری، نان ٹیکنیکل اسٹاف کی جگہ ٹیکنیکل اسٹاف کی تعیناتی، بی ڈی اے انجینئرز کی ریگولرائزیشن، لوکل گورنمنٹ انجینئرز کے لئے الگ ٹیکنیکل ونگ کے قیام جیسے مطالبات شامل ہیں، لیکن ان مسائل کو حل نہیں کیا جا رہا ہے، جبکہ اب اور زیادہ مصیبت کھڑی کی جا رہی ہے کہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو بورڈ میں تبدیل کیا جارہا ہے، ایک ایسا محکمہ جو صوبے کے لئے بہتر انداز میں خدمات پیش کر رہا ہے اور اس میں ٹیکنیکل افراد موجود ہیں، لیکن اس کو بورڈ بنانے کے بارے میں سوچنا یا منصوبہ بنانے کی کسی بھی طرح اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ انجینئرز انتہائی کٹھن صورتحال سے دوچار ہیں اور ایسی ہی مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگار انجینئرز کے ساتھ پیش آنے والے دل خراش واقعات کا تو سب کو علم ہے کہ بے روزگاری سے تنگ آکر ڈیزل سپلائی جیسے کاروبار سے ایک انجینئر منسلک ہو کر اپنی زندگی گنوا بیٹھا، انجینئر نظر محمد کا زندہ جل جانا پورے معاشرے کے لئے ایک المیہ سے کم نہیں ہے، ایسے کئی اور واقعات ہیں کہ جن سے ہم چشم پوشی اختیار نہیں کرسکتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے انجینئرز کے مطالبات تو منظور ہوئے ہیں اور باقاعدہ ان کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوا ہے، سندھ کے انجینئرز کے مطالبات تسلیم ہونے والے ہیں لیکن بلوچستان کے انجینئرز محرومیوں کے شکار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان وہ واحد صوبہ ہے کہ جہاں انجینئرز سمیت دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد بے روزگارہیں اور مسائل سے دوچار ہیں۔ انجینئرز الائنس نے اپنے مطالبات کے حق میں آج سے باقاعدہ احتجاج کا آغاز کردیا ہے اور آج 15جولائی سے قلم چھوڑ اور تالہ بندی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے، اور یہ احتجاج مطالبات کے تسلیم ہونے تک جاری رہیگا۔ حکومت سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انجینئرز کے ان جائز مطالبات کو فوری تسلیم کرے اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو بورڈ بنانے سے گریز کرے۔