اسلام ٹائمز 9 May 2019 گھنٹہ 9:42 https://www.islamtimes.org/ur/article/793128/امریکی-وزیر-خارجہ-کی-عراق-گردی -------------------------------------------------- ٹائٹل : امریکی وزیر خارجہ کی عراق گردی -------------------------------------------------- خطے میں امریکی سیاست کے بارے میں ایک بڑا مختصر اور جامع جملہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ علاقے میں ہر کام اسرائیل کو محفوظ بنانے اور ایران کو نقصان پہنچانے کیلئے انجام دیتا ہے۔ اسرائیل کے تحفظ اور ایران کے اسلامی نظام کو ختم کرنے کیلئے کبھی طالبان کھڑے کیے جاتے ہیں، کبھی القاعدہ کو استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی شام و عراق میں داعش کا ہوا کھڑا کرکے ایران کا محاصرہ کیا جاتا ہے۔ متن : اداریہ ایران کے خلاف امریکہ کی خفیہ اور اعلانیہ سازشیں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے شروع ہوئیں اور آج چالیس سال گزرنے کے بعد بھی ان میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اس میں آئے روز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ میں ریپبلیکنز برسراقتدار آئیں یا ڈیموکریٹس ایران سے امریکہ کی دشمنی میں کوئی فرق نہیں آتا۔ امریکہ کبھی آہنی ہاتھوں سے ایران کو کاٹتا ہے اور کبھی ریشمی دستانوں میں چھپے اپنے تند و تیز ہاتھوں سے ایران کو جڑ سے کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ خطے میں امریکی سیاست کے بارے میں ایک بڑا مختصر اور جامع جملہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ علاقے میں ہر کام اسرائیل کو محفوظ بنانے اور ایران کو نقصان پہنچانے کے لیے انجام دیتا ہے۔ اسرائیل کے تحفظ اور ایران کے اسلامی نظام کو ختم کرنے کے لیے کبھی طالبان کھڑے کیے جاتے ہیں، کبھی القاعدہ کو استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی شام و عراق میں داعش کا ہوا کھڑا کرکے ایران کا محاصرہ کیا جاتا ہے۔ ایرانو فوبیا امریکی حکام کا پسندیدہ شغل اور علاقے کے لیے ان کی پسندیدہ ہابی ہے۔ واشنگٹن سے اٹھ کر مشرق وسطیٰ آنے والا ہر امریکی عہدیدار پہلے ایران کو خطے کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرتا ہے، بعد میں کوئی دوسری بات کرتا ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئیو کا عراق کا حالیہ ہنگامی دورہ ہے۔ چند گھنٹوں کے اس دورے میں امریکہ وزیر خارجہ نے عراق کے صدر اور وزیراعظم دونوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مرکزی نقط ایران تھا۔ عراقی صدر برہم صالح اور عراقی وزیراعظم عادل المھدی کی ملاقاتوں کے نتیجے کا عراق کے ان دونوں حکام کے دفاتر سے جاری کردہ بیانات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عراقی وزیراعظم عبدالمھدی نے مائیک پمپئیو سے ملاقات میں کہا ہے کہ عراق کے خارجہ تعلقات قومی مفادات پر استوار ہیں جبکہ عراقی صدر کے دفتر نے یہ بتایا ہے کہ صدر برہم صالح نے امریکی وزیر خارجہ پر واضح کر دیا ہے کہ بغداد تہران کے ساتھ اپنی دوستی کا پابند ہے۔ امریکی صدر کے رات کے اندھیرے میں انجام پائے دورے میں عراقی حکام نے ٹرامپ سے ملنے سے گریز کیا تھا، لیکن امریکی وزیر خارجہ سے روشنی میں انجام پانے والی ملاقاتوں میں ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ عراق کو ایران کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی وزیر خارجہ کی ایران کے ہمسایہ عرب ممالک کی خارجہ گردی جاری ہے، دیکھیں وہ ان دوروں میں اسرائیل کے کتنے حامی اور ایران کے کتنے مخالف عرب حکمران اکٹھے کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔؟