اسلام ٹائمز 13 Jan 2022 گھنٹہ 20:22 https://www.islamtimes.org/ur/news/973425/متوقع-صوبہ-سینیٹ-میں-گلگت-بلتستان-کی-سیٹیں-بڑھانے-کیلئے-قرارداد-لانے-تیاریاں -------------------------------------------------- ٹائٹل : متوقع صوبہ، سینیٹ میں گلگت بلتستان کی سیٹیں بڑھانے کیلئے قرارداد لانے کی تیاریاں -------------------------------------------------- زرائع نے اسلام ٹائمز کو بتایا کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے اپوزیشن کو مکمل اعتماد میں لا کر قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری چاہتی ہے جس کیلئے اپوزیشن سے رابطے شروع کر دیئے گئے ہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ متوقع عبوری صوبے کے تناظر میں سینیٹ میں گلگت بلتستان کی سیٹیں بڑھانے کیلئے جی بی اسمبلی میں قرارداد لانے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ زرائع نے اسلام ٹائمز کو بتایا کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے اپوزیشن کو مکمل اعتماد میں لا کر قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری چاہتی ہے جس کیلئے اپوزیشن سے رابطے شروع کر دیئے گئے ہیں۔ عبوری صوبہ بننے کی صورت میں سینیٹ میں جی بی کو چار سیٹیں دینے کی تجویز زیر غور ہے تاہم جی بی حکومت اس میں مزید اضافے کیلئے کوششیں کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ جی بی اسمبلی سے ایک قرارداد کی متفقہ منظوری دی جائے جس میں خطے کو سینیٹ میں سیٹیں زیادہ دینے کا مطالبہ کیا جائے۔ قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری حکومت کیلئے چیلنج ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین الفاظ کا تصادم روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ تاہم زرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ عبوری صوبہ کے حوالے سے حکومت کے ساتھ اپوزیشن بھی متفق ہے اس لیے اپوزیشن کی جانب سے مزاحمت نہیں کی جائے گی۔ یاد رہے کہ دو سال قبل وزیر اعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا جس کیلئے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی۔ کمیٹی نے مختلف سفارشات تیار کی ہیں اور وزیر اعظم کو پیش بھی کر دی ہیں۔ ان سفارشات کی روشنی میں جی بی کو قومی اسمبلی و سینیٹ میں چار چار سیٹیں دینے کی تجویز ہے۔ قومی اسمبلی میں تین جنرل جبکہ ایک مخصوص نشست کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح سینیٹ میں دو جنرل، ایک ٹیکنوکریٹ اور ایک خواتین کیلئے سیٹ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری جانب جی بی کو عبوری صوبہ بنانے کیلئے آئین کے آرٹیکل ون میں ترمیم کرنے کی بجائے آرٹیکل 258 اے میں ترمیم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ آرٹیکل ون پاکستان کی جغرافیائی حدود کا تعین کرتا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کی مخالفت کے بعد آرٹیکل 258 اے میں ترمیم کی نئی سفارشات تیار کی گئی تھیں۔ وزارت قانون کا موقف ہے کہ آرٹیکل ون کی بجائے آئین پاکستان کے آرٹیکل 258 اے میں ترمیم کرکے عبوری صوبہ بنانے سے مسئلہ کشمیر پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔