اسلام ٹائمز 31 Aug 2019 گھنٹہ 20:10 https://www.islamtimes.org/ur/article/813594/کراچی-میں-کچرا-سیاست-جاری-عوام-کا-جینا-محال -------------------------------------------------- ٹائٹل : کراچی میں کچرا سیاست جاری، عوام کا جینا محال -------------------------------------------------- محرم الحرام کے آغاز میں ایک روز باقی ہے، جلوس ہائے عزا کے راستوں میں اور امام بارگاہوں و مساجد کے اطراف گندگی اورکچرے کا ڈھیر لگا ہوا ہے، لائٹس کا مناسب انتظام نہیں ہے، گڑھوں کی بھرمار ہے، سڑکوں کی استرکاری کا مسئلہ تاحال برقرار ہے، بدترین صورتحال سندھ و شہری حکومت کی نااہلی و غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ متن : رپورٹ: ایس حیدر ڈھائی کروڑ آبادی کا شہر کراچی، گلی گلی کچرے کا ڈھیر کون کرے گا صاف، حکمرانوں میں چھیڑ گئی اختیارات کی جنگ، کراچی کے کچرے سمیت شہریوں کے بنیادی مسائل ہمیشہ سے ہی سیاست کی نظر رہے ہیں، دیگر جماعتوں کے بعد پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے بعد تحریک انصاف بھی کراچی کی گندگی پر سیاست کرنے کیلئے کود پڑی، کراچی کچرے پر سیاست کی نذر ہوگیا، میئر کراچی اختیار کا رونا رو رہے ہیں، تو وزیر بلدیات اپنی کارکردگی کے قصے بتا رہے ہیں۔ لیکن اختیارات کی جنگ میں کراچی کا کچرا تاحال صاف نہ ہو سکا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کا دارالخلافہ اور ملک کا سب سے بڑے شہر کراچی میں بارش سے تباہی نے جہاں متعلقہ اداروں اور ذمہ داران کا پول کھول دیا، وہیں شہر میں پھیلے کچرے پر شروع ہونے والی سیاست ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی یوں تو ہمیشہ ہی مسائل کا شکار اور سیاست کی نظر رہا ہے، لیکن حال ہی میں شہر کا کچرا تمام سیاستدانوں کی سیاست کا محور بنا ہوا ہے، ایم کیو ایم پاکستان ہو یا پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی ہو یا مسلم لیگ نون سب ہی نے کراچی کی گندگی پر سیاست کرنے کی طبع آزمائی کی ہے۔حالیہ بارشوں کے بعد شہر میں بڑھتی گندگی پر تحریک انصاف بھی کچرا سیاست کے میدان میں کود پڑی ہے، پی ٹی آئی کے وفاقی وزیر علی زیدی نے کراچی کے کچرے پر سیاست کرنے کیلئے کئی تنظیموں، مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں، اداکاروں اور گلوکاروں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ سندھ اور وفاقی حکومت کی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کے بعد میئر کراچی اور مصطفیٰ کمال بھی میدان میں اترے، ایک دوسرے پر الزام لگانے لگے، لیکن علی زیدی کی اپنی سیاست چمکانے کی نیت سے شروع کی جانے والی یہ گندگی کو صاف کرنے والی مہم کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس طرح وفاقی حکومت بھی کراچی میں صفائی کے لئے موثر اقدامات میں ناکام ہوگئی اور وفاقی وزیر علی زیدی کی صفائی مہم کے کوئی اثرات شہر میں دیکھنے کو نہیں ملے۔ علی زیدی کی مہم کو شہر کے تمام حلقوں کی جانب سے بھرپور پذیر ائی ملی، لیکن وفاقی وزیر کی جانب سے کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آئی، صفائی مہم کے بجائے وفاقی وزیر علی زیدی نے اس مہم کو بھی چندہ مہم میں بدل دیا، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صفائی کے لئے ایک ارب 75 کروڑ روپے کی ضرورت ہے، یہ بات انہوں نے مہم کے دوسرے دن کہی، اس کا مطلب یہ کہ وفاقی وزیر بغیر کسی حکمت عملی کے صفائی مہم کا آغاز کیا۔ اہلیان کراچی مکھیوں، مچھروں، وبائی بیماریوں، بہتے گٹروں، کچرے کے ڈھیروں، ٹوٹی سڑکوں، پانی کی نایابی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ، قاتل کے الیکٹرک کے رحم و کرم پر ہیں، لاوارث کراچی وارث تلاش کر رہا ہے، لیکن ارباب اقتدار سوائے سیاسی بیان بازی اور الزام تراشی کے کچھ نہیں کر رہے، دنیا کے کئی ملکوں سے بڑا شہر کراچی غیر ذمہ دار لوگوں کے رحم و کرم پر ہے، کراچی کی یہ حالت تباہی کا باعث بنے گی، کراچی کو صرف سیاست کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ محرم الحرام کے آغاز میں ایک روز باقی ہے، جلوس ہائے عزا کے راستوں میں اور امام بارگاہوں و مساجد کے اطراف گندگی اورکچرے کا ڈھیر لگا ہوا ہے، لائٹس کا مناسب انتظام نہیں ہے، گڑھوں کی بھرمار ہے، سڑکوں کی استرکاری کا مسئلہ تاحال برقرار ہے، بدترین صورتحال سندھ و شہری حکومت کی نااہلی و غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دوسری جانب کراچی کے تاجروں نے شہر میں ایمرجنسی کا مطالبہ کر دیا، تاجر برادری کا کہنا ہے کہ پورا کراچی بارش کے بعد کچرے اور گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے، کراچی کی تمام شاہراہیں اور تجارتی مراکز تباہی اور بربادی کا منظر پیش کر رہی ہیں، وفاقی حکومت فوری طور پر کراچی شہر میں ایمرجنسی کا نفاذ کرے، جس میں نالوں اور کچرے کی صفائی سمیت شہر کی سڑکوں کی مرمت کی جائے، جو بارش کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ کراچی کے شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر کو آخری آرام گاہ بنا دیا گیا ہے، کراچی کو اس وقت کسی دور دراز علاقے سے بھی بدتر حالات کا سامنا ہے، صفائی کی بدترین صورت حال ہے، جگہ جگہ گٹر ابل رہے ہیں، کچرا کنڈیاں بھری ہوئی ہیں، مکھی مچھروں کی بہتات اور مختلف بیماریاں عوام پر حملہ آور ہیں، لیکن وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی حکومتیں شہریوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگا کر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے تینوں کو اپنی سیاست چمکانے کا موقع ہاتھ آگیا ہے، ایک دوسرے پر گند اُچھالنے والے شہر کا گند کب صاف کریں گے۔ کراچی میں کچرا اٹھانے کا نظام تقسیم ہے، مرکزی سڑکوں کی صفائی کی ذمہ داری بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ہے، مرکزی نالوں کی صفائی کی ذمہ داری بھی کے ایم سی کی ہے، جبکہ چھوٹے اور علاقائی نالوں کی صفائی کی ذمہ داری ڈی ایم سیز کی ہے، گلیوں محلوں کی صفائی کی ذمہ داری ڈی ایم سیز کی ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں 17 لینڈ کنٹرول کرنے والے ادارے ہیں اس میں 6 کنٹونمنٹ بورڈ بھی ہیں اور وہ اپنی حدود میں صفائی کے انتظامات دیکھتے ہیں، کراچی میں یومیہ 13 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، لیکن ذرائع کے مطابق 7 سے 8 ہزار ٹن یومیہ کچرا نہیں اٹھ پاتا، جس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں کچروں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، جو کچرا شہر سے اٹھتا ہے۔ وہ بھی لینڈ فل سائٹ تک نہیں پہنچتا۔ ہزاروں ٹن کچرا بڑے برساتی نالوں میں پھینک دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے برساتی نالے کچروں سے بھرے ہوئے ہیں، جن کی صفائی کیلئے کے ایم سی کو کروڑوں روپے دیئے گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود شہر میں برساتی نالے صاف نہیں ہو سکے، کچرے کی وجہ سے بارشوں میں پانی کی نکاسی میں شدید مشکلات ہوتی ہیں۔ بلدیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں عارضی بنیادوں پر تو کچرا اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن مستقل بنیادوں پر کچرا اٹھانے کیلئے مربوط قسم کی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی، کراچی میں صفائی کی ذمہ داری میئر کے پاس ہونی چاہیئے اور جو مکمل طور بااختیار ہو۔ تحریک انصاف کے وفاقی علی زیدی نے ایک ارب پچہتر کروڑ روپے چندہ جمع کرکے کراچی کو صاف کرنے کا اعلان کیا تھا، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور ایم کیو ایم کی شہری حکومت بھی اس طرح کے اعلانات کر چکی ہیں، لیکن شہر میں کچرے کے ڈھیر اور گٹر کے پانی میں نہاتی سڑکیں آج بھی ویسے کی ویسی نظر آرہی ہیں، کراچی کے اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتیں باتیں اور اعلان تو بہت کر جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر ایک دن سے زیادہ کوئی بھی میدان میں نظر نہیں آتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گندگی سمیت کراچی کے تمام مسائل پر سیاست کرنے والوں کو پہلے اپنے ذہنوں کی صفائی کرکے مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا، باقی سیاست نے تو اس شہر کو تباہی کے سوا اب تک کچھ بھی نہیں دیا۔