اسلام ٹائمز 6 Jul 2022 گھنٹہ 2:35 https://www.islamtimes.org/ur/news/1002964/صحافی-عمران-ریاض-خان-کو-پولیس-نے-گرفتار-کرلیا -------------------------------------------------- ٹائٹل : صحافی عمران ریاض خان کو پولیس نے گرفتار کرلیا -------------------------------------------------- پولیس حکام نے عمران ریاض خان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں شہری ملک مرید عباس نامی شہری کی جانب سے درج کیے جانے والے مقدمے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ متن : اسلام ٹائمز۔ حکومت پر تنقید کرنے والے معروف صحافی عمران ریاض خان کو پولیس نے گرفتار کرلیا، جس کی صوبائی وزیر قانون اور عمران ریاض کے وکیل نے بھی تصدیق کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق عمران ریاض خان لاہور سے واپس اسلام آباد آرہے تھے کہ اس دوران انہیں اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب گرفتار کیا گیا، اس موقع پر پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ’لاہور سے موصول ہونے والی ہدایت کے بعد عمران ریاض کو گرفتار کر کے اُن کا موبائل فون، بٹوا سمیت دیگر تمام اشیا پولیس نے قبضے میں لے لیں، پہلے تو گرفتاری کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی تھی مگر پھر فوٹیج سامنے آنے کے بعد اٹک پولیس نے گرفتاری کی تصدیق کی‘۔ عمران ریاض خان کی گرفتاری کو لیڈ کرنے والی ٹیم کی سربراہی آر پی او راولپنڈی نے کی اور تصدیق کی کہ انہیں تھانہ ایئرپورٹ منتقل کردیا گیا ہے۔ عمران ریاض کو الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت درج ہونے والے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، پولیس پولیس حکام نے عمران ریاض خان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں شہری ملک مرید عباس نامی شہری کی جانب سے درج کیے جانے والے مقدمے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ (یہ مقدمہ دیگر درج 17 مقدمات کے علاوہ ہے)۔ ترجمان پولیس کے مطابق عمران ریاض خان کے خلاف تھانہ سٹی اٹک میں الیکٹرانک کرائم ایکٹ اور دیگر 6 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں شہری نے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اُس نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں عمران ریاض خان نے پاک فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ وزیر قانون پنجاب ملک احمد خان نے تصدیق کی کہ عمران ریاض خان کو ضلع اٹک، راولپنڈی ڈویژن سے گرفتار کیاگیا، اُن کے خلاف پنجاب میں مقدمات درج ہیں اس لیے انہیں صوبے کی حدود سے ہی گرفتار کیا گیا‘۔ واضح رہے کہ صحافی عمران ریاض نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے متعلقہ حکام کو انہیں گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی اور صحافی کو تحقیقات میں تعاون کرنے کی ہدایت کی تھی۔ دوسری جانب عمران ریاض خان کے وکیل میاں علی اشفاق نے بھی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جس وقت گرفتاری عمل میں آئی وہ میرے ساتھ موبائل فون پر بات کر رہے تھے۔ میاں علی اشفاق نے بتایا کہ عمران ریاض خان کے خلاف پنجاب بھر میں 17 مقدمات درج تھے، جس پر ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تو عدالت نے ملک بھر کے متعلقہ اداروں کو گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔