اسلام ٹائمز 30 Jul 2013 گھنٹہ 5:05 https://www.islamtimes.org/ur/news/288084/ڈی-آئی-خان-جیل-پر-طالبان-کے-حملے-میں-شیعہ-قیدی-اختر-عباس-بلوچ-شہید -------------------------------------------------- ٹائٹل : ڈی آئی خان جیل پر طالبان کے حملے میں شیعہ قیدی اختر عباس بلوچ شہید -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز:اختر عباس بلوچ پر ایڈووکیٹ افتخار سلیم کے قتل کا الزام تھا جس میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے انہیں سزا موت کا حکم دیدیا تھا، تاہم خصوصی عدالت کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اور یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ متن : اسلام ٹائمز۔ گذشتہ شب ڈی آئی خان جیل پر 200سے زائد طالبان دہشتگردوں کے حملے میں اسیر امامیہ اختر عباس بلوچ بھی شہید ہو گئے۔ اختر عباس بلوچ پر ایڈووکیٹ افتخار سلیم کے قتل کا الزام تھا جس میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے انہیں سزا موت کا حکم دیدیا تھا، تاہم خصوصی عدالت کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اور یہ کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا۔ سماعت کے دوران اخترعباس بلوچ کے بھائی غضنفر عباس بلوچ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا۔ پرعزم اور باہمت 27سالہ اخترعباس بلوچ پچپن سے ہی دینی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیتا تھا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل کے اندر ایک قیدی کا گلا کاٹ کر شہید کیا گیا ہے، صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ جس قیدی کا گلا کاٹا گیا ہے وہ اختر بلوچ ہی تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اختر بلوچ جیل میں نمایاں شیعہ قیدی تھا جو اپنے عقیدے کی وجہ سے معروف تھا، گذشتہ روز حملے میں دہشتگردوں نے جہاں اپنے درجنوں کارندے آزاد کرائے وہیں اس شیعہ قیدی کو بھی شہید کر دیا گیا۔ ڈی آئی خان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے اسلام ٹائمز کو رابطہ کرنے پر بتایا کہ عجیب صورتحال ہے کہ شہر کے وسط میں واقعہ جیل سے دہشتگرد اپنے تمام ساتھی آزاد کر کے چلتے بنے لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی گرفتار نہ ہوسکا۔ انہوں نے بتایا کہ ستم کی بات تو یہ ہے کہ دہشتگر لاوڈ اسپیکر پر اپنے قیدیوں کے نام لیکر پکارتے رہے کہ رمضان تم باہر آجاو، عمر تم بھی آزاد ہو، ہم تمہاری مدد کو پہنچ چکے ہیں۔ لیکن سیکیورٹی کے ذمہ دار ادارے خواب خرگوش میں سوتے رہے، شب بھر قوم کو بتایا جاتا رہا کہ پاک فوج کے تازہ دم دستے دہشتگردوں کو نکیل ڈالنے کیلئے پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عجب صورتحال ہے کہ دہشتگرد بھاگ گئے لیکن شہر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال بنوں جیل پر طالبان نے حملہ کیا تھا اور اپنے تمام لوگ آزاد کرا گئے تھے لیکن سیکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر ایک زخم تک نہیں آیا تھا۔ یہی وجہ بنی دہشتگردوں نے ایک بار پھر خیبرپختونخوا حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے اپنے تمام لوگ آزاد کرا لیے ہیں، لیکن پاک فوج کے جوان ان دہشتگردوں کیخلاف کئی گھنٹے سے جاری آپریشن میں کچھ نہ کر سکے۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں نے ان دعوؤں پر سوال اٹھانا شروع کردیا ہے کہ ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں کیسے ہے؟۔