اسلام ٹائمز 12 Jan 2022 گھنٹہ 23:02 https://www.islamtimes.org/ur/news/973281/پاکستان-کے-اداروں-کا-سیاست-سے-دور-رہنا-ملک-مفاد-میں-ہے-ڈاکٹر-عبدالمالک-بلوچ -------------------------------------------------- ٹائٹل : پاکستان کے اداروں کا سیاست سے دور رہنا ملک کے مفاد میں ہے، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ -------------------------------------------------- میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک کے اپنے تمام ہمسایوں سے کشیدہ تعلقات ہیں جو مثبت بات نہیں ہے، افغانستان میں ہم کوئی مداخلت نہ کریں جو نظام وہ لاتے ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے کہا ہے کہ ریکوڈیک منصوبے پر بلوچ عوام کی رائے کا احترام کیا جائے، اداروں کا سیاست دور رہنا ملک کے مفاد میں ہے۔ وہ کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کراچی پریس کلب میں نو منتخب صدر فاضل جمیلی اور دیگر عہداروں کو مبارک دی اور پھول پیش کیے۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی اور مرکزی رہنما واجہ ابوالحسن بھی موجود تھے۔ کراچی پریس کلب پہنچنے پر صحافی سعید سربازی، عارف بلوچ، اکرم بلوچ، حفیظ بلوچ اور دیگر صحافیوں نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ بلوچستان کے گیس کے ذخائر اب بہت کم ہوکر رہ گئے ہیں، جس سے بلوچستان کی آمدنی بھی کم ہوگی ہے، ایک وقت تھا پاکستان کی 70 فیصد گیس کی ضروریات بلوچستان پورا کررہا تھا اب 20 فیصد ہوگیا ہے، بلوچستان کے لوگوں کی امیدیں اب ریکوڈیک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ سے وابستہ ہیں لیکن حالیہ سرکار سے خیر کی امید رکھنا اپنے عوام کو دھوکہ دینے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ادارے سیاست جتنا دور رہیں گے اتنا ہی ملک و جمہوریت اور ہم سب کے مفاد میں ہوگا، پارلیمانی سیاست میں جو بھی ڈیل کرکے آئے گا ذلیل و خوار ہوگا۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک کے اپنے تمام ہمسایوں سے کشیدہ تعلقات ہیں جو مثبت بات نہیں ہے۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ہم کوئی مداخلت نہ کریں، جو نظام وہ لاتے ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے لیکن شاید ویسٹ سے اپنی ناکامی ہضم نہیں ہورہی ہے اور وہ افغانستان کو قبول کرنے کو تیار بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی کے نام پر چیک پوسٹوں پر لوگوں کی تذلیل کی جارہی ہے جو ناقابل برداشت ہے، کراچی میں بلوچستان کی گاڑیوں کو ہر چوراہے پر روک کر لوگوں کو پریشان کیا جاتا ہے اس پر حکومت سندھ کو نوٹس لینا ہوگا، بائی روڈ کراچی میں داخل ہونے والوں کو پولیس روک کر ان کو لوٹتی ہے اور تنگ کرتی ہے۔