اسلام ٹائمز 30 Jun 2022 گھنٹہ 3:08 https://www.islamtimes.org/ur/news/1001875/یوکرائن-نے-شام-کے-ساتھ-اپنے-تعلقات-منقطع-کر-لئے -------------------------------------------------- ٹائٹل : یوکرائن نے شام کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لئے -------------------------------------------------- نجی نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے شامی وزارت خارجہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ہم دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے فریم ورک پر اتفاق کرنے کیلئے کام کرینگے، جس میں قائم کردہ قواعد کے مطابق سفارتی تعلقات قائم کیے جائیں گے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ یوکرائن کے صدر نے دمشق کے خود ساختہ جمہوریہ ڈونیٹسک اور لوہانسک کے بارے میں فیصلے کے بہانے شام سے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ یوکرائن کی حکومت نے آج جمعرات کی صبح شامی حکومت سے مکمل طور پر تعلقات منقطع کرنے کی خبر دی ہے۔ یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے ایسا دمشق کی جانب سے خود ساختہ جمہوریہ ڈونیٹسک اور لوہانسک کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے ردعمل میں کیا ہے۔ زیلنسکی نے اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ یوکرائن اور شام کے درمیان مزید تعلقات نہیں رہیں گے۔ دوسری جانب شام کی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے بدھ کی شام ایک نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام نے عوامی جمہوریہ لوہانسک اور عوامی جمہوریہ ڈونیٹسک کی آزادی اور خود مختاری کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شامی اہلکار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے فریم ورک پر اتفاق کرنے کے لیے کام کریں گے، جس میں قائم کردہ قواعد کے مطابق سفارتی تعلقات قائم کیے جائیں گے۔ اس سے قبل شام کے صدر بشار الاسد نے روس اور خود ساختہ جمہوریہ ڈونیٹسک کے مشترکہ وفد سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ دہشت گرد اور نازی یوکرائن کو امریکہ رہنمائی (Guide Line) کر رہا ہے۔ وفد کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ شام کے ساتھ تمام شعبوں میں اپنے تعلقات کو مضبوط اور اس کی سطح کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ڈونیٹسک کے وزیر خارجہ نے ملک کے صدر کی طرف سے بشار کو ایک پیغام پہنچایا، جس کا شامی صدر کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا۔ شامی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دمشق، ڈونیٹسک کے ساتھ اپنے تعلقات کو سیاسی سطح پر اور زیادہ بڑھانے کی کوشش کرے گا۔ بشار الاسد نے ڈونباس کے بیشتر علاقے کی آزادی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ روس اور شام ایک دشمن کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، کیونکہ دہشت گردوں اور نازیوں کی رہنمائی (Guide Line) کرنے والا ہمارا مشترکہ دشمن امریکہ ہی ہے۔