اسلام ٹائمز 10 Mar 2019 گھنٹہ 18:09 https://www.islamtimes.org/ur/article/782517/پاکستان-ایران-تعلقات-کی-تاریخ-چند-اہم-نکات -------------------------------------------------- ٹائٹل : پاکستان ایران تعلقات کی تاریخ، چند اہم نکات -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ایران ایف فور فینٹم فائٹر بمبار طیارے فراہم کرنے پر آمادہ تھا، لیکن پاکستان میں ناکافی لاجسٹک سہولیات کیوجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔ یاد رہے کہ 1970ء کے عشرے میں بھارت کیساتھ ایران کے تعلقات بھی 1965ء کی نسبت زیادہ بہتر تھے۔ اسکے باوجود 26 دسمبر 1971ء کو روزنامہ سن میں بھارتی فوجی کمان کا یہ موقف شائع ہوا کہ ایران نے پاکستان کو اسلحہ فراہم کیا تھا۔ 1971ء میں بھارت کا ارادہ صرف مشرقی پاکستان نہیں تھا بلکہ وہ بیک وقت کشمیر، بلوچستان اور پشتونستان کی سازش پر عمل پیرا تھا، اگر ایران کی مدد نہ ہوتی تو 1971ء کے بعد نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ جس نوعیت کی مدد اور حمایت طول تاریخ میں ایران نے کی ہے، اسکی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ ایران جیسا پاکستان کا کوئی بھی دوسرا دوست اور مددگار ملک دنیا میں کہیں وجود ہی نہیں رکھتا۔ متن : تحریر: عرفان علی دنیا میں اس وقت درجنوں ممالک موجود تھے، لیکن جس نے پاکستان کو دنیا بھر میں سب سے پہلے ایک علیحدہ آزاد و خود مختار مملکت قبول کیا، اس ملک کا نام ایران ہے۔ اقوام متحدہ نے پاکستان کو ستمبر 1947ء میں رکنیت دی تو اس کے پیچھے بھی ایران کی حمایت کارفرما تھی۔ ایران ہی وہ پہلا ملک تھا، جس نے شروع سے کشمیر ایشو پر پاکستان کے موقف کی تائید کی، جو ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد بھی بلا تعطل جاری ہے۔ ایران نے باقاعدہ رسمی معاہدوں کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کو منظم قانونی خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا تھا، لیکن بعض وجوہات کی بناء پر پہلے ٹریٹی سطح کے معاہدے پر دستخط ہونے میں کچھ تاخیر ہوئی۔ جس وقت دنیا کے کسی بھی ملک کا کوئی بھی حکمران اس نئی مملکت آنے پر تیار نہیں تھا، تب مارچ 1950ء میں جس ملک کے سربراہ مملکت نے سب سے پہلے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا، وہ بھی صرف اور صرف ایران کا حکمران تھا! دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کا قومی ترانہ بھی ایران کی قومی فارسی زبان میں ہی ہے اور انٹر اسٹیٹ تعلقات کی تاریخ کے تناظر میں کہیں تو ایرانی سربراہ مملکت کی آمد پر یہ ترانہ پہلی مرتبہ بجایا گیا تھا۔ 1950ء میں ایران اور پاکستان کے مابین ٹریٹی آف فرینڈ شپ یعنی دوستی کے اعلیٰ ترین سطح کے رسمی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ 1956ء میں ایران و پاکستان کے درمیان ثقافتی معاہدے اور 1957ء میں فضائی سفر کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ دو سال کے مذاکراتی عمل کے بعد 6 فروری 1958ء وہ تاریخی دن تھا جب پاکستان اور ایران نے مشترکہ سرحدوں پر اتفاق کر لیا۔ مشترکہ سرحدوں پر اتفاق پا جانا خود ایک بہت ہی اہم پیش رفت تھی کیونکہ پاکستان کی زمینی سرحدوں پر تینوں پڑوسی ممالک کی سرحدوں کا تعین نہیں کیا گیا تھا، نہ صرف جموں و کشمیر یا شمالی علاقہ جات کی طرف بھارت اور چین اور فاٹا قبائلی علاقہ جات کی طرف افغانستان کے ساتھ سرحدیں متنازعہ تھیں بلکہ رن آف کچھ کی طرف ایک وسیع علاقے میں پاکستان اور بھارت کی سرحدوں کا تعین کرنا ابھی باقی تھا۔ اس طرح ایران وہ پہلا ملک تھا، جس سے سرحدی معاملات سب سے پہلے طے ہوئے۔ 1965ء میں رن آف کچھ والی پاک بھارت سرحدوں پر تنازعہ کے حل کے لئے اقوام متحدہ کے تحت جنیوا میں ثالثی ہو رہی تھی، جہاں پاکستان نے اپنی نمائندگی کے لئے ایرانی سفارتکار نصراللہ انتظام کو منتخب کیا، وہاں بھارت کی نمائندگی یوگوسلاویہ نے کی، جبکہ ثالثی فورم کا سربراہ سوئیڈن سے تعلق رکھتا تھا۔ ایرانی سفارتکار نے پاکستان کا مقدمہ لڑا اور مسئلہ پاکستان کی خواہش کے مطابق حل ہوا۔ ظاہر شاہ کے دور حکومت میں افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے، سبب یہ تھا کہ افغانستان پاکستان میں پشتونستان (پختونستان) کا حامی اور مددگار تھا، لیکن ایران نے افغان حکمران ظاہر شاہ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے انہیں مذکورہ ایشو پر نرم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے میں کامیاب کردار ادا کیا۔ یہ بھی 1960ء کے عشرے ہی کی بات ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں 1955ء کے معاہدہ بغداد یا سینٹو کے تحت اتحادی تھے۔ دونوں ملکوں کے حکمرانوں میں قربتیں اور دوستی ہوا کرتی تھی اور دونوں ملکوں کی اندرونی سیاست اور تبدیلیوں سے پاکستان کی ایران سے دوستی متاثر نہیں ہوا کرتی تھی۔ اس ضمن میں ایک مثال جنرل ایوب خان کی دی جاسکتی ہے، جنہوں نے پاکستان کے پہلے صدر ریٹائرڈ میجر جنرل اسکندر مرزا کو زبردستی صدارت سے ہٹاکر فوجی آمریت قائم کر دی تھی۔ اسکندر مرزا بھی شاہ ایران کے دوست تھے، لیکن ان کو استعفیٰ پر مجبور کرکے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بھی ایران کے ساتھ تعلقات خراب نہیں ہوئے بلکہ پاکستان کا کلیدی اتحادی ایران ہی رہا۔ 9 تا 18 نومبر 1959ء جنرل ایوب خان نے ایران کا ریاستی سطح کا دورہ کیا۔ اس دورے میں انہوں نے فوجی مشقوں اور کھیلوں کے میلے میں شرکت کی، تہران یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈگری جاری کی۔ مشہد میں جنرل ایوب خان نے امام رضا (ع) کے حرم مطہر میں حاضری بھی دی اور ضریح مقدس کی زیارت بھی کی اور اصفہان و شیراز سمیت مختلف شہر بھی گھومے۔ ایوب خان نے اپنے میزبان ایرانی سربراہ مملکت سے کہا کہ ہم یعنی پاکستان اور ایران دینی لحاظ سے بھی ایک ہیں اور ثقافتی ورثہ بھی مشترکہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدیوں سے ایران کی زبان (فارسی) اور ادب نے ہم پر اثرانداز رہا ہے۔ جنرل ایوب نے شاہ ایران سے کہا کہ ایران کا ادب ہمارا ادب ہے، ایران کے ہیرو ہمارے ہیرو ہیں، ایران کے دوست پاکستان کے دوست، ایران کے دشمن پاکستان کے دشمن اور پاکستان و ایران دو بدن ہیں مگر ان میں روح ایک ہی ہے۔ حیرت انگیز ضرور ہے لیکن دلچسپ حقیقت یہی ہے کہ امریکا اور دیگر بڑی طاقتوں کے بھارت کی طرف جھکاؤ اور پاکستان کی مدد نہ کرنے کی ڈکٹیشن کے باوجود ایران پاکستان ہی کی مدد کرتا رہا۔ پاکستان، کمیونزم کے خلاف امریکا و برطانیہ کا اتحادی تھا، لیکن یہ دونوں ملک پاکستان کو مشروط معاونت فراہم کرتے تھے اور ان کی شرط یہ تھی کہ انکا فراہم کردہ اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے جبکہ پاکستان کے ساتھ جنگیں لڑتا ہی بھارت تھا۔ چین سے قربت کی وجہ سے امریکی حکومت ذوالفقار علی بھٹو کو ناپسند کرتی تھی۔ پاکستان، ایران اور ترکی تینوں سینٹو اتحاد کے رکن ممالک تھے، لیکن امریکی و برطانوی حکومتوں نے 1965ء کی جنگ کے وقت ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ پاکستان کی مدد نہ کریں۔ ان کی مخالفت کے باوجود ایران نے پاکستان کی فوجی و سفارتی مدد کی، بھارتی حملے کو جارحیت کہہ کر بھارت کو جارح قرار دیا، ایران کی اس حمایت کی وجہ سے بھارت پاکستان کو بین الاقوامی سفارتکاری کے محاذ پر تنہا کرنے میں ناکام رہا۔ 8 ستمبر 1965ء کو انگریزی روزنامہ پاکستان ٹائمز نے خبر شائع کی کہ ریڈیو تہران کے مطابق ایرانی حکومت نے کہا کہ ایران خود کو پاکستان کی مدد کرنے کا پابند سمجھتا ہے۔ اس جنگ کے لئے حکومت ایران کی طرف سے پاکستان کو کسی حد تک ملٹری بیک اپ فراہم کیا، جس میں چھوٹا اسلحہ و ایمونیشن، پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کو ایندھن اور گیسولین کی فراہمی اور بھارت کے ممکنہ حملوں سے بچانے کی نیت سے پاکستانی فضائیہ کے کئی طیارے جو ایران بھیجے جاتے رہے، ان کو وہاں اترنے اور رہنے کی اجازت۔ نیو یارک ٹائمز کی خبر مورخہ 14 ستمبر 1965ء کے مطابق بڑی تعداد میں ایرانی جوان گروہ در گروہ تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے باہر پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے جمع ہوئے اور انہوں نے پاکستان کی طرف سے جنگ میں رضاکارانہ شرکت کی پیشکش کی۔ 1967ء میں ایران نے پاکستان کو پچاس ایف 86 سیبر طیارے فراہم کئے، جو کینیڈا کے لائسنس کے تحت تیار کرکے جرمنی کو فروخت کئے گئے تھے اور وہاں سے ایران نے خریدے تھے۔ 1971ء کی جنگ میں بھی ایران ہی تھا، جس نے پاکستان کی مدد کی تھی۔ بقول جنرل جہانداد خان جب وہ کرنل رینک کے افسر کی حیثیت سے جی ایچ کیو میں ماتحت افسر کی حیثیت سے تعینات تھے، تب بھارتی حملے کے پیش نظر اسلحہ اور فوجوں کی نقل و حرکت کی منصوبہ بندی کی خاطر انہیں کئی مرتبہ ایران جانا پڑا۔ پاکستانی تاریخ کے مشہور سفارتکار جمشید مارکر کے مطابق (اکتوبر 1971ء میں جب ایران میں اڑھائی ہزار سالہ جشن شہنشاہیت کی تقریبات میں دنیا بھر کی حکمران شخصیات جمع تھیں) تب شاہ ایران نے سوویت یونین کے دو بڑے مدبرین پوڈ گورنی اور کوسائیجین کی جنرل یحیٰ ٰخان سے ملاقات کروائی تھی، تاکہ پاکستان اور سوویت یونین کے حکام غلط فہمیاں دور کرکے تعلقات کو بہتر کریں، لیکن دونوں طرف نشے میں دھت فریقین نے ایک دوسرے کو دھمکی آمیز اور نازیبا فقرے اور جوابی فقرے کسے۔ اس کے بعد سوویت یونین نے اگست 1971ء کے بھارت کے ساتھ ٹریٹی آف فرینڈشپ یعنی دوستی کے اعلیٰ ترین سطح کے معاہدے کے تحت بھارت کی بھرپور مدد کرنا شروع کر دی۔ جس دن جمشید مارکر اسلام آباد سے ماسکو کے لئے روانہ ہوئے، جنگ کا پہلا دن تھا اور اس طرح پاکستان کو دولخت کر دیا گیا۔ اگر ایران کی اس کوشش کا فائدہ اٹھا کر سوویت یونین سے تعلقات بہتر کر لئے جاتے تو سقوط مشرقی پاکستان سے بچا جا سکتا تھا۔ ایران نے کوشش کی تھی کہ پاکستان و سوویت حکام کی ملاقات کے ذریعے مشرقی پاکستان کے معاملات میں سوویت حکومت کی جانب سے بھارت کی طرفداری کو ختم کیا جاسکے۔ اسی طرح ایران کا مشورہ تھا کہ مشرقی پاکستان میں طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ 1971ء ہی میں پاکستان کو جب صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مسلح تحریکوں کا سامنا تھا، تب بھی ایران نے پاکستان کو فوجی ہیلی کاپٹر فراہم کئے تھے۔ یہ وہ سال تھا جب پاکستان نے امریکا کے لئے اتنی بڑی خدمت انجام دی تھی کہ چین کے ساتھ اس کے انتہائی خفیہ رکھے گئے مذاکرات کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا، اسکے ہوتے ہوئے امریکا نے پاکستان کی مدد نہیں کی، تب پاکستان کے حکمران جنرل یحییٰ خان صدر نکسن کے سامنے گڑگڑائے کہ کم از کم ایران کے ذریعے مدد کو نہ روکیں۔ یہ وہ ایام تھے کہ جب پیسے سے زیادہ سلحے کی اہمیت تھی، کیونکہ رقم کے ہوتے ہوئے آپ اسلحہ نہیں خرید سکتے تھے کہ امریکا اور دیگر بڑی طاقتوں کی طرف سے پابندیوں کا سامنا تھا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان پر سمندری اور فضائی حملے کئے جا رہے تھے، پاکستان کو کہیں سے بھی کوئی مدد مل نہیں سکتی تھی۔ تب پاکستان کو 60 ہزار بیرل یومیہ تیل کی ضرورت تھی اور ایران اس وقت پاکستان کو 50 ہزار بیرل یومیہ تیل فراہم کر رہا تھا۔ ایران ایف فور فینٹم فائٹر بمبار طیارے فراہم کرنے پر آمادہ تھا، لیکن پاکستان میں ناکافی لاجسٹک سہولیات کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔ یاد رہے کہ 1970ء کے عشرے میں بھارت کے ساتھ ایران کے تعلقات بھی 1965ء کی نسبت زیادہ بہتر تھے۔ اس کے باوجود 26 دسمبر 1971ء کو روزنامہ سن میں بھارتی فوجی کمان کا یہ موقف شائع ہوا کہ ایران نے پاکستان کو اسلحہ فراہم کیا تھا۔ 1971ء میں بھارت کا ارادہ صرف مشرقی پاکستان نہیں تھا بلکہ وہ بیک وقت کشمیر، بلوچستان اور پشتونستان کی سازش پر عمل پیرا تھا، اگر ایران کی مدد نہ ہوتی تو 1971ء کے بعد نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ جس نوعیت کی مدد اور حمایت طول تاریخ میں ایران نے کی ہے، اس کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ ایران جیسا پاکستان کا کوئی بھی دوسرا دوست اور مددگار ملک دنیا میں کہیں وجود ہی نہیں رکھتا۔ (یہ پاکستان ایران تعلقات کی تاریخ کے چند اہم نکات ہیں، جنہیں اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان ایران فوجی تعلقات میں بہتری کی امید کے عنوان سے ایک تحریر پیش کی گئی تھی، یہ تحریر اسی کا تسلسل ہے۔ آئندہ بھی دیگر اہم نکات پیش کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس تحریر میں بعض ممالک کے حکومتی اداروں کی دستاویزات جو اسکالرز نے اپنی تصانیف میں ریفرنس کے طور پیش کی ہیں، ان سے بھی استفادہ کیا گیا ہے جبکہ بعض حوالہ جات یہاں تحریر کئے گئے ہیں۔) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ریفرنس: Pakistan and Iran: A Study in Neighbourly Diplomacy by Khalida Qureshi published in Pakistan Horizon in third quarter 1968 Pakistan s Foreign Policy: A Historical Analysis by S.M. Burke (OUPP 1973) ٖForeign Policy of New Pakistan by Shirin Tahir Kheli published in Orbits (Fall 1976) Pakistan: Leadership Challenges by Lt.Gen. Jahandad Khan 1999 Cover Point: Impressions of Leadership by Jamsheed Markar (OUP 2016)