اسلام ٹائمز 9 Sep 2019 گھنٹہ 23:09 https://www.islamtimes.org/ur/news/815411/جبری-شیعہ-گمشدگان-کی-ا-واز-پورے-پاکستان-میں-پھیل-چکی-ہے-علامہ-امین-شہیدی -------------------------------------------------- ٹائٹل : جبری شیعہ گمشدگان کی آواز پورے پاکستان میں پھیل چکی ہے، علامہ امین شہیدی -------------------------------------------------- کراچی میں 9 محرم کے جلوس عزا میں جبری شیعہ گمشدگان کیلئے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ امت واحدہ نے کہا کہ ہم مظلوم کی حمایت کیلئے استقامت دکھائیں گے، چاہے وہ شام کے مظلوم ہوں، یمن کے مظلوم ہوں، کشمیر و افغانستان کے مظلوم ہوں اور چاہے وہ پاکستان کے جبری گمشدہ افراد ہوں، نہ تو ان کیلئے ہماری آواز روکی جاسکتی ہے اور نہ ہی ہمارے قدم روکے جا سکتے ہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ اُمت واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ جبری شیعہ گمشدگان کی آواز پورے پاکستان میں پھیل چکی ہے اور پاکستان میں بسنے والے 5 کروڑ سے زائد شیعان حیدر کرار کے دل کی آواز ہے، اور جہاں یہ صدا پہنچے گی وہاں لبیک کی صدا بلند ہوگی، ریاستی ادارو! ڈرو اس دن سے کہ جب اس ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کا ہاتھ تمہارے نجس گریبانوں پر ہوگا۔ کراچی میں 9 محرم الحرام کے جلوس عزا میں جبری شیعہ گمشدگان کے حوالے سے منعقدہ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ہمارے دشمن نے ہمیشہ پیروان مکتب اہلِ بیت (ع) کو سمجھنے میں غلطی کی، اور ہمیشہ ذلت اٹھائی ہے، ہم وہ ہیں کہ جنہوں نے کربلا کی تپتی زمین سے لے کر آج پاکستان کی اس سرزمین تک ہمیشہ یزیدیت کا پیچھا کیا ہے اور حسینیت کا ساتھ دیا ہے۔ علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ چاہے وہ یزید ابنِ معاویہ کا دور ہو یا آج کے یزید کا دور ہو، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم مظلوم کی حمایت سے پیچھے ہٹیں گے اور ظالم کے ظلم پر سکوت اختیار کریں گے تو یہ اس کی بھول ہے، اُس نے نہ حسینؑ ابن علیؑ کو پہچانا ہے نہ حسین ؑ کے پیروکاروں کو، ہم وہ ہیں کہ جن کی رگوں میں کربلا کا پاکیزہ خون دوڑتا ہے، ہم وہ ہیں کہ جنہوں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک زندگی کی آخری سانس ہے اور ہم کسی بھی کربلا یا کسی بھی عاشورا میں ہوں، ظلم کی سرکوبی کے لئے کھڑے رہیں گے اور مظلوم کی حمایت کیلئے استقامت دکھائیں گے، چاہے وہ شام کے مظلوم ہوں، یمن کے مظلوم ہوں، کشمیر و افغانستان کے مظلوم ہوں اور چاہے وہ پاکستان کے جبری گمشدہ افراد ہوں، نہ تو ان کیلئے ہماری آواز روکی جا سکتی ہے اور نہ ہی ہمارے قدم روکے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں حکومتی ایوانوں اور اداراوں تک یہ بات پہنچانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم آج ان جبری گمشدگان اور دیگر مظلوموں کی حمایت میں نہ نکلے، تو یہ جو 14 سو سال سے ہم اس طرح سیاہ پوش ہوکر مظلوم کا علم اُٹھا کر یزیدیت کے چہرے سے نقاب کھرچ رہے ہیں یہ ہم آخر کیوں کر رہے ہیں؟ وہ اس لئے کہ جس سرزمین پر بھی ظلم ہوگا ہم وہاں کربلا بنائیں گے، چاہے ہم شہید کردیئے جائیں یا اسیر کر دیئے جائیں۔ علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ یہ جلوس اور سیاہ علم مظلوم کی حمایت کیلئے ہیں، چاہے وہ 61 ہجری کی کربلا کے مظلوم ہوں یا 1441 ہجری میں پاکستان کے جبری گمشدہ افراد ہوں، ہم ہمیشہ مظلوم کے حامی و ناصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئی زیادتی برداشت نہیں کریں گے، ان اسیروں کے لواحقین سے جو مذاکرات رمضان میں ہوئے تھے، جو وعدے کئے گئے تھے انہی وعدوں پر عمل درآمد ہم مانگتے ہیں اور کچھ نہیں، جو تم نے خود کہا تھا وہ کرکے دکھاؤ۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج کا یہ احتجاج صرف ان مظلوموں کی طرف سے نہیں ہے بلکہ یہ پوری ملت کی آواز ہے، اب یہ جبری شیعہ گمشدگان کی آواز پورے پاکستان میں پھیل چکی ہے اور پاکستان میں بسنے والے 5کروڑ سے زائد شیعان حیدر کرار کے دل کی آواز ہے اور جہاں یہ صدا پہنچے گی وہاں لبیک کی صدا بلند ہوگی، ڈرو اس دن سے کہ جب اس ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کا ہاتھ تمہارے نجس گریبانوں پر ہوگا۔