1
Monday 20 Jun 2022 15:16

یوکرین جنگ میں برطانیہ کی فتنہ انگیزیاں

یوکرین جنگ میں برطانیہ کی فتنہ انگیزیاں
تحریر: سید رحیم نعمتی
 
برطانوی وزیراعظم بوریس جانسن نے گذشتہ ہفتے یوکرین کا دورہ کیا ہے۔ یہ گذشتہ ایک ماہ میں ان کا یوکرین کا دوسرا دورہ تھا۔ اسی طرح یہ دورہ خفیہ طور پر انجام پایا اور اس کا پیشگی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کچھ خاص وجوہات کی بنا پر ہنگامی طور پر یوکرین گئے تھے اور اس دورے کے اہداف کا اندازہ بھی اسی تناظر میں لگایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بوریس جانسن کا دورہ یوکرائن تین دیگر یورپی ممالک کے اعلی سطحی حکام کے دورہ یوکرین سے مربوط ہے جنہوں نے ان سے ایک دن پہلے کیف کا دورہ کیا تھا۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے بارے میں برطانیہ دیگر یورپی ممالک کو اپنا حریف سمجھتا ہے لہذا اس مسئلے میں انہیں بنیادی کردار ادا کرتا نہیں دیکھ سکتا۔
 
بوریس جانسن کا حالیہ دورہ بھی اسی تناظر میں انجام پایا ہے جس کا مقصد ان سے ایک دن پہلے کیف کا دورہ کرنے والے دیگر یورپی ممالک کے اعلی سطحی حکام کے کردار پر اثرانداز ہونا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کے یوکرین دورے سے ایک دن پہلے جرمنی کے صدر اعظم اولانف شولتز، فرانس کے صدر ایمونوئل میکرون اور اٹلی کے وزیراعظم میریو ڈراگی نے کیف کا دورہ کیا تھا۔ اگرچہ یہ تینوں رہنما بظاہر یوکرین سے اظہار ہمدردی کرنے اور اس بات کا اظہار کرنے کیف گئے تھے کہ یورپی یونین اس جنگ میں یوکرین کا حامی ہے لیکن بعد میں سامنے آنے والی خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد یوکرینی حکام کو روس کے ساتھ مذاکرات پر راضی کرنا تھا۔ یوں وہ یوکرین جنگ کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔
 
اس مقصد کیلئے جرمنی کے صدر اعظم، فرانس کے صدر اور اٹلی کے وزیراعظم نے یوکرینی حکمرانوں کو یہ لالچ بھی دیا کہ اگر وہ روس کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہو جاتے ہیں تو یوکرین کو یورپی یونین کی رکنیت عطا کرنے کے عمل میں تیزی لائی جائے گی۔ یہ بات ان تین یورپی رہنماوں کے دورہ یوکرین کے ایک دن بعد یورپی کمیشن کے سربراہ آرزولا فینڈرلائن کے بیان میں سامنے آئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یوکرین کیلئے "یورپی یونین میں رکنیت کیلئے نامزد" کی حیثیت تسلیم کر لی گئی ہے جو یورپی یونین میں یوکرین کی رکنیت کی سمت اہم قدم شمار ہوتا ہے۔ جرمنی، فرانس اور اٹلی کے سربراہان نے اس کے بدلے یوکرین سے نہ صرف روس سے مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے بلکہ ولادیمیر زیلنسکی پر یوکرین کے بعض علاقوں پر روس کا قبضہ قبول کر لینے کیلئے دباو بھی ڈالا ہے۔
 
لہذا یورپی یونین کے تین اہم رکن ممالک کے سربراہان نے نہ صرف کیف کو روس کے ساتھ پرامن طریقے سے مسئلہ حل کرنے کیلئے یورپی یونین میں رکنیت کا لالچ دیا ہے بلکہ اس پر اپنے کچھ علاقوں پر روس کا قبضہ قبول کر لینے کیلئے دباو بھی ڈالا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو برطانوی وزیراعظم بوریس جانس کو انتہائی ناگوار گزری ہے اور انہوں نے ایک دن بعد ہی ہنگامی طور پر یوکرین کا دورہ کرنا ضروری سمجھا ہے۔ یہ دورہ ان کی نظر میں اس قدر اہم تھا کہ اس کی خاطر انہوں نے جمعہ کے روز شمالی برطانیہ میں اپنے پارٹی اراکین کے ساتھ پہلے سے طے شدہ میٹنگ بھی کینسل کر دی۔ مختلف سیاسی تجزیہ کار بارہا اس بات کی جانب اشارہ کر چکے ہیں کہ برطانوی وزیراعظم بوریس جانسن اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ گویا اس وقت وینسٹن چرچل کا زمانہ ہے۔
 
بوریس جانسن خود کو آج کا وینسٹن چرچل تصور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں یوکرین جنگ میں وہی کردار ادا کرنا ہے جو چرچل نے دوسری عالمی جنگ میں ادا کیا تھا۔ یوں بوریس جانسن صرف ایک مقصدر کیلئے سرگرم عمل ہیں اور وہ روس کو اس جنگ میں شکست سے دوچار کرنا ہے۔ یہ مقصد ان کے سر پر بری طرح سوار ہو چکا ہے اور وہ ہر قیمت پر اسے حاصل کرنے کی ٹھان چکے ہیں۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اس مقصد کی خاطر یوکرین تباہ و برباد ہو جائے یا پورے یورپی یونین حتی پوری دنیا کی سلامتی خطرے سے دوچار ہو جائے۔ لہذا بوریس جانسن نے یوکرینی حکام کو برطانوی فوج کی جانب سے 120 دن کے اندر اندر 10 ہزار فوجیوں کی تربیت کرنے کی پیشکش بھی کر دی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جدید فوجی ہتھیار فراہم کرنے کا وعدہ بھی دیا ہے۔
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ برطانوی وزیراعظم جس پالیسی پر گامزن ہیں وہ یورپی یونین کے اہم ممالک کی پالیسی سے مکمل طور پر متضاد ہے۔ بوریس جانسن نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ذہن میں روسی فوج کے خلاف فتح یاب ہونے کا وہم ایجاد کرنے کی کوشش کی ہے۔ برطانوی وزیراعظم کا یہ اقدام یقیناً امریکہ کی حمایت اور آشیرباد سے انجام پایا ہے کیونکہ واشنگٹن بھی اب تک اس جنگ میں جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتا آیا ہے۔ یوں امریکہ اور برطانیہ یوکرین جنگ کی شدت میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے ساتھ ساتھ مغرب میں بھی سفارتی جنگ شروع ہو چکی ہے جس کے ایک طرف امریکہ اور برطانیہ جبکہ دوسری طرف یورپی یونین ہے۔
خبر کا کوڈ : 1000194
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش