0
Friday 24 Jun 2022 21:33

اللہ سے دوستی 

اللہ سے دوستی 
تحریر: اسماء طارق

مجھے بچپن میں یقین نہیں تھا کہ مدد الہٰی جیسی کوئی چیز سچ میں ہوتی ہے۔ یہ تو بتایا گیا تھا کہ خدا ہوتا ہے، مگر یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ بندے کا سب سے اچھا دوست کیسے بنتا ہے۔ ہم عبادت کرتے تھے، جیسے بڑے بزرگ کہتے تھے۔ انہیں فالو کرتے تھے، لیکن میرے لیے یہ محض ایک جسمانی سرگرمی ہوتی تھی یا ایک موقع جہاں آپ کو دوسروں کو بتاتے ہو کہ آپ کتنے اچھے اور نیک ہو، کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ صرف مذہبی لوگ ہی اچھے ہیں۔ لوگ قسمت کے بارے میں بہت بات کرتے تھے کہ قسمت ہی سب کچھ ہے۔ وہی ملتا ہے، جو قسمت میں ہوتا ہے۔ یہ چیز مجھے بہت پریشان کرتی تھی۔ میں اکثر اس کے متعلق اپنی ماما سے سوال کرتی تھی کہ پھر محنت کیوں کریں، جب سب قسمت نے طے کر رکھا ہے۔ وہ مجھے جو بھی جواب دیتی تھی، مجھے اس سے تسلی نہیں ہوتی تھی۔ آخر تک آکر انہوں نے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا۔

ان کی عادت تھی کہ وہ کچھ کتابیں پڑھا کرتی تھیں، جس سے مجھے بھی ان میں دلچسپی ہونے لگی۔ ایک دن ایسے ہی ان کا کوئی میگزین اٹھا کر پڑھنے لگی، جس میں بڑی مزے مزے کی کہانیاں تھیں، جنہیں میں بہت انجوائے کرنے لگی۔ جب انہیں پتہ چلا تو وہ مجھے کتاب پڑھنے اور تجزیئے کے سیشنز میں شامل کرنے لگیں، جس سے جہاں تجسس بڑھنے لگا، وہیں ساتھ ساتھ کچھ سوالوں کے جواب بھی ملنا شروع ہوگئے، جو میرے ذہن کو پریشان کرتے رہتے تھے۔ ایک وقت آیا، جب کچھ وجوہات کی وجہ سے میں نے اپنے دوستوں کو کھو دیا۔ اب کوئی تھا ہی نہیں، جس کے ساتھ کھیلا جائے، وقت گزارا جائے۔ اب میں نے وقت گزارنے کی خاطر کچھ نئی سرگرمیاں تلاش کرنا شروع کر دیں۔ میں نے ہمیشہ خود کو نیچر سے بہت اٹیچ پایا تھا۔ مجھے اچھا لگتا تھا فطرت کا مشاہدہ کرنا، پھولوں کا کھلنا، پھل بننا، پرندوں کا اڑنا، چیونٹیوں کی چال، کوئل کی سرگم، آسمان کی شفافیت، بادلوں کے ترتیب، ستاروں کی ہم آہنگی، چاند کی چاندنی۔۔۔۔

سب میں ایک دنیا چھپی ملتی ہے۔ کبھی ان کا مشاہدہ کریں تو ایک الگ کائنات کا گمان ہوتا ہے۔۔۔ حقیقت کا ادراک ہونے لگتا ہے۔۔۔۔ اس کاریگری کو دیکھ کر یقین ہونے لگتا ہے کہ کوئی تو کاریگر ہے، جس نے ہر چیز کو بڑی چاہت سے سینچا ہے۔ اب اس کے ہونے کا یقین تو ہونے لگا، مگر اس سے ناتا کیسے قائم کیا جائے، اسے اپنا دوست کیسے بنائیں۔ ان دنوں کی بات ہے، جب میں چوتھی پانچویں میں پڑھتی تھی۔ ایک دن میں نے سکول کی کتاب میں پڑھا کہ آپ کو ہر چھوئی سی چھوٹی چیز کے لیے اللہ سے مدد مانگنی چاہیئے۔ اسی سلسلے میں ایک حدیث کا بھی تذکرہ کیا گیا تھا، جسکا مفہوم کچھ یوں ہے: "آدمی کو اپنی تمام تر ضرورتیں اور حاجتیں اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنی چاہیئں، یہاں تک کہ اگر جوتے کا تسمہ (جو کہ ایک معمولی قسم کی چیز ہے) ٹوٹ جائے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سے مانگیں اور اگر (کبھی) نمک (وغیرہ جیسی ہلکی چیز) کی بھی ضرورت پڑ جائے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سے مانگیں۔‘‘ (ترمذی)

اس چیز نے تھوڑا سوچ میں ڈالا کہ اتنے بڑے رب کو جو ہر چیز کا مالک ہے، اسے اتنی معمولی سی چیز کے لیے کیوں تنگ کرنا، مگر یہ چیز بھی دماغ میں گھر کر چکی تھی کہ آپ کو ہر چیز اللہ سے مدد مانگنی چاہیئے۔ پھر غزہ احد اور فتح مکہ کے واقعات نے بہت متاثر کیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی جستجو اور تلاش نے بھی اندر ایک دیا جلایا۔ سمجھا کہ تلاش کرنا بہت ضروری ہے، مانگنے سے، کھوجنے سے سب ملتا ہے، آپ جستجو تو رکھیں۔ مجھے بچپن سے ہی دوسروں کو کچھ کہنے میں بڑی ہچکچاہٹ ہوتی تھی۔ کوئی بھی بات کرنے میں بہت شرم آتی تھی، حتی کہ اپنے اماں ابا سے بھی۔ میں بمشکل ہی انہیں کبھی بتا پائی کہ مجھے کیا چاہیئے۔ بولنا ہی نہیں آتا تھا، بات کرنے لگو تو لفظ منہ میں ہی دم توڑ جائیں، اسی چکر میں بے شمار خواہشیں من میں ہی دم توڑ جاتیں۔

جب سے اللہ سے مدد والی بات دماغ میں بیٹھی تھی تو سوچا کیوں نہ اسے اپنایا جائے، اللہ سے رابطہ کیا جائے، اسے پکارا جائے۔ اب ہر چھوٹی سے چھوٹی خواہش کا تذکرہ بھی اللہ سے ہونے لگا۔ اگر کوئی مسئلہ پڑ جاتا تو اللہ جی آپ پلیز ٹھیک کر دیجئے گا اور وہ کر دیتا۔ اللہ جی ماما پاپا سے یہ چیز چاہیئے، انہیں بولیں نہ لا دیں اور جانے کیسے میجک ہوتا اور وہ میسج ان تک پہنچ جاتا اور وہ چیز آجاتی۔ اللہ جی فلاں نے ایسے کیوں کہا۔ اللہ جی مجھے یہ سوچیں کیوں پریشان کر رہیں۔ اللہ جی یہ ہوگیا۔۔۔۔ اللہ جی وہ ہوگیا۔۔۔ اللہ جی یہ سنبھال لیجیے، وہ سنبھال لیجیے اور وہ سب سنبھال لیتا ہے۔ گویا کہ ہر چیز اس سے ڈسکس ہونے لگی اور وہ سننا بھی ہے۔ حل بھی بتاتا ہے، کبھی کبھی مجھے سمجھنے میں دیری ہو جاتی ہے۔ مجھ میں بچپن سے ہی ایک لا پرواہی اور اکتاہٹ ہے، جس کی وجہ سے اکثر بہت مار کھاتی ہوں، مگر وہاں بھی اللہ ایسے ایسے بچا لیتا ہے کہ کئی کئی دن سوچ میں گزر جاتے ہیں کہ ہوا کیسے۔

انسان ہے نہ، بھٹکے کا بھی۔۔۔۔ ابھی بھی ہوتا ہے ایسا۔۔۔ دو چار چیزیں اچھی ہو جائیں تو انسان کو لگتا ہے اب تو وہ ایکسپرٹ بن گیا ہے، اسے اب کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ وہ سب خود سنبھال سکتا ہے۔ سب کنٹرول کرسکتا ہے اور یہاں پر ہی پڑتی ہے مار۔۔۔۔ یہ خطا اکثر سرزد ہو جاتی ہے، پھر اللہ کو آپ کو بتاتا پڑتا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہو۔ آپ جتنا مرضی بڑے انکاری ہوں، مگر ایک دن آپ کو اسے ماننا ہی پڑتا ہے اور اسے اپنے آپ کو منوانا آتا ہے۔ اسے پتہ ہے کہ آپ کو کیسے اپنے سامنے جھکانا ہے۔ وہ بس آپ کے انکار کی حد دیکھنا چاہتا ہے اور پھر وہ اتنے زور سے آپ کو توڑتا ہے کہ آپ گھٹنوں کے بل رینگتے ہوئے اس کے حضور پیش ہوتے ہیں اور گڑگڑاتے ہیں، معافی مانگتے ہیں۔ بس دعا کیا کریں کہ کبھی یہ موڑ نہ آئے کہ اسے آپ کو توڑنا پڑے۔ جب آپ اس سے مانگنے لگ جاو تو پھر آپ کو مخلوق سے مانگنا راس نہیں آتا۔ آپ کو مخلوق سے جڑنے کے لیے بھی اسی کے در پر جانا پڑتا ہے۔

انسان بڑا پریکٹیکل بنتا ہے تو ایسے میں کبھی کبھی سوچ آتی کہ کہیں یہ سب وہم تو نہیں۔ مگر یہ سب بھروسے اور فیتھ کی باتیں ہیں، جو جتنا مضبوط ہوگا، اتنا ہی یہ تعلق مضبوط ہو جائے گا۔ ایک مشہور کہاوت ہے کہ آپ بھروسے اور فیتھ کے بنا پانی پر چل نہیں سکتے۔ آپ اپنے تمام خیالات و حالات، تمام ایمانداری کے ساتھ اس کے سامنے رکھیں اور اس سے رہنمائی مانگیں۔ اسے کہیں کہ وہ آپکی حفاظت کرے اور آپ کا ساتھ دے۔ وہ ضرور آپ کی راہنمائی کرے گا۔ وہ تو چاہتا ہے کہ آپ اس سے مانگیں۔ اس کی طرف رجوع کریں۔ اس نے آپ کے لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی رستہ ضرور نکالا ہوتا ہے۔ آپ ہی کو کبھی کبھی سمجھنے میں دیر لگ جاتی ہے۔ کبھی کبھی آپ اپنی الجھنوں میں خود کو اتنا الجھا لیتے ہیں کہ آپ کو اور کچھ نظر نہیں آتا۔ اس کی طرف سے ہر جگہ بہت سارے اشارے اور میسجز ہیں، جو آپ کی راہنمائی کے لیے موجود ہیں۔

وہ آپکی مدد کے لیے کئی وسیلے بھیجتا ہے، آپ کو صرف اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔ بس آپ اپنے اور اس کے ساتھ جھوٹ مت بولو، آپ کو ہر الجھن کی وضاحت مل جائے گی۔ اسے ہر معاملے میں اپنا سرپرست بنا لو، وہ کبھی مایوس نہیں کرے گا۔ یہ آپ کی زندگی کی سب سے بہترین سرمایہ کاری ہے۔ آجکل ہمارے لیے زندگی کافی مشکل ہے۔ پل میں بدلتی دنیا، بے شمار الجھنیں، کمپیٹیشن، پریشر، ذہنی دباؤ، سٹریس، انتہاء پسندی، بے شمار چیزیں ہر وقت ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ ہر طرف اندھیرا ہے، روشنی دکھتی نہیں۔ ایسے میں یوتھ نے فرار کی راہ اختیار کر لی ہے، جو ممکن نہیں۔ بہت ضروری ہے کہ ہم اللہ سے کنیکٹ کرنا سیکھ لیں اور اسے اپنا دوست بنا لیں۔ تبھی ہم اپنا توازن کھوئے بغیر اس چیلنجنگ دنیا کا سامنا کرسکتے اور اپنی زندگیوں میں روشنی بھر سکتے ہیں اور فیتھ کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ اس کے لیے بھی اللہ سے ہی دعا کرنی ہے، اسی سے مانگنا ہے کہ وہ ہمیں استقامت عطا فرمائے۔
خبر کا کوڈ : 1000928
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش