0
Sunday 26 Jun 2022 00:39

تفہیم بین المسالک ہم آہنگی ورکشاپ

تفہیم بین المسالک ہم آہنگی ورکشاپ
تحریر: محمد احمد فاطمی

شعور فاونڈیشن برائے تعلیم و آگہی پاکستان کے زیر اہتمام جامعہ بنوریہ العالمیہ کراچی میں چار روزہ تفہیم بین المدارس ایکسچیج پروگرام کے تحت ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں تین مکاتبِ فکر کے مدارس دینیہ کے اساتذہ کرام اور طلابِ عظام نے شرکت فرمائی۔ شرکت کرنے والے محترم حضرات کا تعلق مسلک اہل سنت دیوبند، مسلک اہل سنت بریلوی اور مسلک اہل تشیعُ سے تھا۔ چار روزہ تربیتی ورکشاپ کے دو سیشنز بالترتیب 18-21 اور 19-22 جون 2022ء کو منعقد کیے گے۔ سماج میں بڑھتے ہوئے فکری و نفسیاتی تناؤ اور اجتماعی اضطراب کی کیفیت میں فروغِ امن اور قیامِ وحدت کے لیے ایک منظم اور مربوط تربیتی سرگرمی کسی نعمت سے کم نہیں ہے، یہی آج کا فریضہ ہے اور یہی وراثتِ انبیاءؑ و اولیاءؒ ہے۔ ان خیالات کا اظہار محترم جناب مولانا سید محمد شہروز حسین زیدی نے اختتامی تقریب میں کیا۔

ڈاکٹر علامہ راغب حسین نعیمی، ڈاکٹر عمار خان ناصر اور علامہ ڈاکٹر ندیم عباس  جیسی ملک کی مایہ ناز تربیت کار اور مربی شخصیات نے شرکاء کی تربیت کا عمل بطریقِ احسن انجام دیا، چاروں ایام میں دروس کے علاوہ شرکاء سے مختص موضوعات پر مختلف گروہی سرگرمیاں بھی کروائی گئیں اور ان کو سماجی سطح پر اس پیغام کو پھیلانے کے لیے جناب سمیع خان پراجیکٹ مینیجر اور ان کے معاون نے سماجی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کو نہ صرف ڈسکس کیا بلکہ اس کی عملی تربیت بھی دی گی۔ سمیع خان (پراجیکٹ مینیجر تفہیم) کا کہنا تھا کہ شعور فاونڈیشن اور تفہیم پراجیکٹ کا ہدف مختلف مسالک و مذاہب کے علماء کرام و طلابِ عِظام کو ایک ساتھ بیٹھانا ہے، تاکہ افہام و تفہیم پیدا کرسکیں، ایک دوسرے کے اداروں کا دورہ کریں، آپسی روابط قائم کریں اور آپسی ہم آہنگی و وحدت کو فروغ دیں۔

مولانا احمد فاطمی نے اختتامی تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نفرتوں کے موحول میں تفہیم ایک بہار کے جھونکے کی مانند ہے، جہاں مختلف العقیدہ مسلمانوں کے ہمراہ گفتگو کرنا، وقت گزارنا، ممسائل و سوالات حل کرنا، اپنائیت کا اظہار، ایک دوسرے کا روزانہ انتظار جیسی نعمتیں میسر آئیں، جو کہ آج ناپید نظر آتی ہیں۔ تفہیم پراجیکٹ نے افتراق اور انتشار سے بھرے سماج میں ان چار دنوں میں ایک  چھوٹا سا پُرامن سماج تخلیق کرکے اور ہم سب کو اُس میں جینے کا موقع دے کر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم سب کو صرف ایک چھت تلے ہی عارضی طور پر  ایسے ماحول اور سماج کی ضرورت نہیں، بلکہ باہر عام معاشرے میں بھی ایسا ہی ماحول ایجاد کرنا ہوگا۔ اس خُوِ وحدت و رواداری کو روزمرہ کی زندگی میں بھی اپنانا ہوگا، جو کہ وحدت آفرین صبح کا آٖغاز ہوگا۔

تفہیم پراجیکٹ ایک پُرامن و وحدت پرور، تفرقے اور نفرت سے پاک پاکستان کی صبحِ نَو کے لیے مطلع الفجر حیثیت رکھتا ہے۔ اس ورکشاپ کی کامیابی پر ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس ورکشاپ میں گروہی اختلافات اور طبقاتی رنجشیں، تشکیل معاشرہ میں تنوع اور اختلاف کی اہمیت، مابعد استعماری دور میں شناخت کا بحران، پاکستانی معاشرے کی صورت حال، نوجوان نسل کا اضطراب اور دو انتہائیں، آداب الاختلاف، اختلاف سے متعلق اسلامی زاویہ نگاہ، اختلاف اور اجتماعیت، اختلاف اور نفسانیت، تنقید اور اختلاف کا ضابطہ اخلاق، غیر سازی کے منفی و تخریبی اثرات، غیر سازی کا رویہ، اختلاف اور تکفیر، منحرف گروہوں سے متعلق آسمانی شریعتوں کی تعلیم، اختلاف اور منافرت، تنازعے کو حل کرنے کی مختلف صورتیں، سماجی رابطہ کاری، سماجی رابطہ کاری کی اہمیت، رابطہ کاری کے متوقع فوائد، رابطہ کاری کی ممکنہ مشکلات، امت سازی اور قیادت، مشترک مقاصد کے لیے گفتگو اور مذاکرات۔

اسکے علاوہ پراجیکٹس کی تشکیل و تنفیذ کے مراحل، صورت حال کا جائزہ، صلاحیتوں اور کمزوریوں کا جائزہ، پرامن بقائے باہمی کے طریقہ کار، مثبت سماجی تبدیلی، پُرتشدد رویئے اور انتہاء پسندی کی روک تھام کی منصوبہ بندی، دنیا کے 09 بڑے معاشرتی مسائل، مثبت سرگرمیوں کے ذریعے سماجی تبدیلی، پرتشدد انتہاء پسندی، انتہاء پسندی اور تشدد کے اثرات ذہنی اور ریاست، حکومت اور مالیاتی نظم و نسق، ریاست کی تعریف اور بنیادیں، حکومت کی اقسام، مالیاتی نظاموں کا تعارف، تنازعات کا پرامن حل، انسانی حقوق کا عالمی منشور، بین المسالک ہم آہنگی کا تفصیلی جایزہ، شدت پسندی کے معاشرتی اثرات، مذہبی شدت پسندی کے عوامل، نفرت انگیز گفتگو کے اسباب و عوامل و نتائج، شناخت، نفرت انگیز تقاریر کا سد باب، لاتعلق اور عدمِ مکالمہ جیسے اہم سماجی موضوعات پر محترم تربیت کاروں نے لیکچرز دیئے اور شرکاء نے باہمی تبادلہ خیال و سوالات و جوابات کے ذریعے چاروں دن ماحول کو پُررونق رکھا۔