1
Tuesday 28 Jun 2022 15:55

لبنان میں اسرائیل کی جاسوسی سرگرمیاں

لبنان میں اسرائیل کی جاسوسی سرگرمیاں
تحریر: علی احمدی
 
لبنان مشرق وسطی کا ایک اہم ملک ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کی نظر میں اس ملک کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب وہ اسے اسلامی مزاحمت کے گڑھ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان علاقائی سطح پر ایک انتہائی موثر اور طاقتور اسلامی مزاحمتی گروہ ہے۔ دوسری طرف اسلامی مزاحمت کا ایران سے بھی گہرا تعلق پایا جاتا ہے اور اس تناظر میں بھی مغربی طاقتوں نے لبنان کو اپنی خاص توجہ کا مرکز بنا رکھا ہے۔ اس اہمیت اور توجہ کا ایک نتیجہ مغربی ممالک خاص طور پر اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے لبنان میں وسیع جاسوسی سرگرمیوں کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ان جاسوسی سرگرمیوں کی ایک بڑی وجہ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ لبنان کو اپنا اصلی دشمن سمجھنا ہے۔
 
دوسری طرف تاریخی حقائق کی بنیاد پر حزب اللہ لبنان اور حتی لبنانی فوج بھی اسرائیل کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں۔ لہذا لبنان کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے بھی پوری طاقت سے اسرائیل کی جاسوسی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ لبنان کے سکیورٹی اداروں نے چند اسرائیلی جاسوس گرفتار کر کے اسرائیل کا جاسوسی نیٹ ورک تباہ کر دیا ہے۔ لبنان کے ایک اعلی سطحی سکیورٹی عہدیدار نے ڈیلی الاخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ غاصب صہیونی رژیم نے لبنان کے اندر دسیوں جاسوسی نیٹ ورک قائم کر رکھے ہیں۔ ان جاسوسی نیٹ ورکس کی اکثریت سوشل میڈیا کی آڑ میں سرگرمیاں انجام دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جاسوسی نیٹ ورکس عوام کی فلاح و بہبود پر مشتمل سرگرمیوں کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
 
لبنان کے اس اعلی سطحی سکیورٹی عہدیدار نے مزید بتایا کہ اسرائیل کے جاسوسی ادارے سوشل میڈیا پر روزگار کا لالچ دے کر لبنانی شہریوں سے رابطہ برقرار کرتے ہیں۔ یوں وہ اپنے اس رابطے کو بالکل نارمل ظاہر کرتے ہیں اور بعض اوقات تو ویڈیو چیٹنگ کی صورت میں افراد سے رابطہ برقرار کیا جاتا ہے۔ اس باخبر ذریعے نے مزید بتایا کہ اسرائیل نے لبنان میں جاسوسی سرگرمیوں کیلئے بہت بڑا بجٹ مخصوص نہیں کر رکھا اور اپنے جال میں پھنس جانے والے لبنانی شہریوں کو جاسوسی سرگرمیوں کے بدلے صرف 100 سے 200 ڈالر تک معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ البتہ زیادہ کام کرنے والوں کو زیادہ اجرت دی جاتی ہے اور یہ رقم لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپ میں قائم منی ٹریڈنگ کمپنیوں کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔
 
لبنان میں اسرائیل کیلئے جاسوسی سرگرمیاں انجام دینے کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد کی اکثریت سے جب پوچھ گچھ کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ جن اداروں کیلئے کام کر رہے تھے ان کے حقیقی تشخص سے لاعلم تھے۔ وہ یہ خیال کر رہے تھے کہ درپیش معیشتی مشکلات اور بحران کے تناظر میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بعض حکومتی تنظیموں کیلئے کام انجام دے رہے ہیں۔ جب ان افراد سے ان کے کام کی نوعیت کے بارے میں تفتیش کی گئی تو معلوم ہوا کہ ان میں سے بعض کو کچھ مخصوص قسم کے پیکٹس کچھ خاص ایڈریسز پر پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ لہذا لبنان کے سکیورٹی ادارے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی سے چشم پوشی نہیں کرنا چاہئے۔
 
گرفتار ہونے والے افراد سے انجام پانے والی تفتیش کے نتیجے میں کئی جاسوسی نیٹ ورکس پکڑے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں لبنان کے جنوب میں واقع علاقے العرقوب میں چند اسرائیلی جاسوس گرفتار ہوئے ہیں۔ یہ افراد گذشتہ ہفتے لبنانی سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھ لگے جن میں ایک خاتون اور دو مرد شامل ہیں۔ العرقوب کا علاقہ وہ ہے جو لبنان پر اسرائیل کی فوجی جارحیت سے پہلے فلسطین کاز کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور اسے فتح کی سرزمین کہا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں اسرائیل کی جاسوسی سرگرمیاں بھی زیادہ ہیں۔ اس علاقے کے باسی اپنے علاقے میں اسرائیلی جاسوسوں کی موجودگی پر شدید غصے کا شکار ہیں۔ لبنان کے رکن پارلیمنٹ قاسم ہاشم نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شدید اقتصادی مشکلات کے باعث بعض افراد جاسوسی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
 
قاسم ہاشم نے مزید بتایا کہ جنوبی لبنان میں واقع العرقوب کا علاقہ ہمیشہ سے اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنتا آیا ہے۔ انہوں نے لبنان کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس علاقے کے مکینوں کو اسرائیل کی جاسوسی سرگرمیوں اور جاسوس بھرتی کرنے کے ہتھکنڈوں سے آگاہ کریں تاکہ مزید افراد کو اسرائیل کیلئے جاسوسی کے جال میں پھنسنے سے بچایا جا سکے۔ کچھ ماہ پہلے لبنان کے سکیورٹی اداروں نے اعلان کیا تھا کہ وہ لبنان میں اسرائیل کے 15 جاسوسی نیٹ ورکس پکڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار افراد کی زیادہ تر تعداد جوانوں پر مشتمل ہے اور انہوں نے اپنے اس کام کی بڑی وجہ اقتصادی اور معیشتی مسائل بیان کی ہے۔ ان میں سے اکثریت ایسے افراد کی بھی ہے جو یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ این جی اوز کیلئے کام کر رہے ہیں.
خبر کا کوڈ : 1001611
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش