0
Saturday 2 Jul 2022 19:20

لویہ جرگہ کا انعقاد

لویہ جرگہ کا انعقاد
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

اس تحریر کو لکھتے وقت افغانستان کے لویہ جرگہ کا اجلاس جاری ہے، جس کی میزبانی طالبان حکومت نے کی ہے۔ لویہ جرگہ میں اس ملک کے دینی اور مذہبی عمائدین کی موجودگی کا مقصد طالبان گروہ کی حکمرانی کے لیے داخلی حمایت حاصل کرنا ہے۔ موصولہ خبروں کے مطابق افغان مذہبی شخصیات اور علماء کی موجودگی کے ساتھ لویہ جرگہ کا تین روزہ اجلاس جمعرات سے کابل میں بند دروازوں کے پیچھے اور طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی موجودگی میں چل رہا ہے۔ لویہ جرگہ کے اجلاس میں، جس میں افغانستان کے 34 صوبوں سے 3000 سے زائد مذہبی اسکالرز اور قبائلی عمائدین شرکت کر رہے ہیں، اس لویہ جرگہ میں سکیورٹی، سیاسی، سماجی، قومی اتحاد اور طالبان حکومت کے لیے عوام کی حمایت پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ لویہ جرگہ کے اجلاس کے شروع ہوتے ہی افغانستان کے بعض ذرائع نے کابل میں اس اجلاس کے مقام کے قریب فائرنگ اور لڑائی کی آوازیں سنیں۔ نیشنل فریڈم فرنٹ کے نام سے مشہور گروپ نے لویہ جرگہ کے اجلاس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس محاذ کے بیان کے مطابق، یہ حملہ طالبان کو تباہ کرنے کے مقصد سے ڈیزائن اور انجام دیا گیا تھا۔ افغان لویہ جرگہ کے اس تین روزہ اجلاس میں، جس کی میزبانی طالبان حکومت کر رہی ہے، ماضی کے برعکس اس ملک کی کئی اہم سیاسی شخصیات کی نشستیں خالی ہیں۔

لویہ جرگہ ایک ایسا اجلاس ہے، جس میں قبائلی عمائدین اور بااثر مذہبی اور سیاسی شخصیات حساس اور اہم قومی مسائل پر فیصلے کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں اور جس کا مقصد حکومت کو تعطل سے نکلنے کے لیے مشاورتی آراء فراہم کرنا ہے۔ دراصل لویہ جرگہ افغانستان کے آئین میں "عوام کی مرضی کے اعلیٰ ترین مظہر" کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ لویہ جرگہ کے اجلاس کی اہمیت اس لیے ہے کہ افغانستان کے پچھلے سو سالوں کے آئین میں لویہ جرگہ کو ایک خاص مقام دیا گیا ہے۔ 1924ء سے لے کر موجودہ آئین تک آٹھ آئینوں میں سے سات کی منظوری لویہ جرگے کی طرف سے دی گئی ہے۔ افغانستان میں لویہ جرگہ کا آخری اجلاس 2020ء میں ہوا، جو اس وقت کے صدر محمد اشرف غنی نے بلایا تھا۔ اس جرگہ میں حکومت نے طالبان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ اس اجلاس کے ارکان کے فیصلے پر چھوڑ دیا تھا۔ ایسی صورت حال میں کہ جب طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے تعطل کا سامنا ہے، طالبان نے ملک میں دینی اور مذہبی عمائدین سے اندرونی حمایت حاصل کرنے اور قانونی حیثیت منوانے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔

اگرچہ طالبان افغانستان میں لویہ جرگہ کا اجلاس منعقد کرنے میں کامیاب ہوئے، لیکن اس اجلاس میں ملک کی اہم مذہبی و سیاسی شخصیات کی غیر موجودگی (بالخصوص جنہوں نے کم از کم گذشتہ تین دہائیوں سے قومی اور مقامی مسائل میں کردار ادا کیا) نے اس اجلاس کی سب سے اہم کمزوری کو واضح اور اس کی تاثیر کو متاثر کر دیا ہے۔ افغانستان میں گذشتہ ایک سال میں طالبان کی حکومت کی نوعیت ایسی رہی ہے کہ اس ملک میں لویہ جرگہ کا اجلاس مکمل طور پر آزادانہ اور جبر کے بغیر منعقد ہونا ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب طالبان حکومت کی افغانستان میں ایک جامع حکومت کی عدم تشکیل اور اس ملک میں دیگر نسلی گروہوں کو شامل کرنے پر عدم آمادگی کی وجہ سے اس کے پاس لویہ جرگہ کے اجلاس میں شرکت کرنے والوں کی حمایت کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ طالبان حکومت کو امید ہے کہ لویہ جرگہ کے اجلاس کے اختتام پر اس گروپ کی حکمرانی کے لیے شرکاء کی حمایت کے اعلان سے اسے نسبتاً قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی اور اس سے فائدہ اٹھا کر وہ بین الاقوامی برادری کو طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے پر قائل کرسکیں گے۔

لویہ جرگہ کے عنوان سے قبائلی عمائدین کا اجلاس منعقد کرنے کا معاملہ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے طالبان کو پیش کیا تھا، تاکہ وہ اس کے انعقاد سے داخلی جواز حاصل کرسکیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کا افغانستان میں کافی تجربہ ہے، تاہم روایتی لویہ جرگہ کے ارکان کو تبدیل کرکے علماء کو مدعو کرکے اور اسے لویہ جرگہ ہال میں منعقد کرکے طالبان صرف ان کی بیعت کا اعلان کرکے مذہبی جواز حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب طالبان حکومت کی انفرادی اور سماجی پابندیوں کی وجہ سے انہیں شدید اندرونی اور بیرونی تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر افغانستان میں خواتین کے کام اور تعلیم پر پابندی کے موقف نے طالبان کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے عالم میں اگر لویہ جرگہ کا اجلاس طالبان کی حکمرانی کی حمایت کرتا ہے اور اس کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے تو اس سے نہ صرف جرگے کی حیثیت متاثر ہوگی بلکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس ادارے کی ساکھ متاثر ہوگی اور طالبان کو بھی اس سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچے گا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ طالبان گروپ کو اپنی پالیسیوں میں اصلاح کرکے افغانستان کے اندر اور باہر اپنے رویئے میں تبدیلی کے لیے زمین تیار کرنی چاہیئے۔ دوسری طرف افغان خواتین نے کابل میں خواتین کی موجودگی کے بغیر لویہ جرگہ کے اجلاس کے انعقاد کو تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا ماننا ہے کہ اس اجلاس میں خواتین کی عدم موجودگی کا مطلب نصف افغان آبادی کو نظر انداز کرنا ہے۔ افغان خواتین نے حالیہ برسوں میں مختلف سائنسی، سماجی، ثقافتی اور حتیٰ کہ قانون سازی اور سیاسی شعبوں میں ترقی کی ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں کے استعمال کی توقع رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی شناخت اور تنہائی کے لیے، طالبان کو عالمی سطح پر اور اسلامی ممالک میں قبول کیے گئے طرز حکمرانی کے معیارات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، جن میں سب سے اہم تمام شہریوں بشمول خواتین کے لیے شہریت کے حقوق کی پاسداری ہے،کیونکہ افغانستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے، جنہیں تعلیم اور فیصلہ سازی کے میدانوں میں شرکت سمیت تمام پہلوؤں میں اپنے حقوق پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

افغان امور کے ماہر فرہاد ابرار کہتے ہیں: "طالبان کا لویہ جرگہ مکمل نہیں ہے اور اس کے فیصلے بھی نامکمل ہیں، جبکہ سب کو توقع تھی کہ خواتین کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔" اگرچہ لویہ جرگہ کا انعقاد، طالبان کے اپنی مطلوبہ طرز حکمرانی کے لیے اجتماعی اتفاق رائے کے نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس عمل میں افغان معاشرے کے ایک اہم حصے کو نظر انداز کرنا اس کی حیثیت کو کم کرسکتا ہے۔ افغانستان کے اندر، طالبان کو تمام داخلی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر خواتین کو علمی اور فیصلہ سازی کے شعبوں میں شامل کرنا لازم ہے۔ خواتین کو حقوق دینے کے ساتھ وسیح البنیاد حکومت کی تشکیل ایک بنیادی ضرورت ہے، جس کے بغیر عالمی برادری طالبان کو ماننے کے لئے تیار نظر نہیں آرہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 1002364
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش