1
Monday 4 Jul 2022 20:31

ما عاشق شہادتیم یعنی کیا؟

ما عاشق شہادتیم یعنی کیا؟
تحریر: سویرا بتول

شہید قاسم سلیمانی کا ایک جملہ بعد از شہادت بہت مشہور ہوا۔ تقریباً ہر شخص شہید کا یہ جملہ کہتا دکھاٸی دیا *ما ملت امام حسینیم، ما عاشق شہادتیم۔* اس مختصر سے جملے میں بہت سارے اسرار و رموز پنہاں ہیں۔ اگر ہم درک کرنے کی کوشش کریں تو ہمیں علم ہو کہ شہید کا یہ جملہ آج بھی بہت سے معنی رکھتا ہے۔ شہید کے اس فانی دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طور اپنی موجودگی کا احساس ضرور دلاتا ہے اور شہید قاسم سلیمانی کا یہ جملہ آج بھی عاشقان قاسم کو شہادت کی یاد دلاتا ہے۔ شہادت درحقيقت ہے کیا اور انسان کیوں اپنی زندگی میں شہادت کی طلب کرے؟ یہ وہ سوال ہے، جو اکثر احباب ہم سے پوچھتے دکھاٸی دیتے ہیں۔ شہادت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ زندگی بسر کرو تو صرف خدا کے لیے۔ شہادت ہلاکت نہیں بلکہ زندگی کا نام ہے، ایسی زندگی جو صرف رضاٸے الہیٰ کے حصول کے لیے ہو۔ یعنی انسان دنیا کا ہر کام انجام دے مگر صرف اور صرف اپنے رب کی خوشنودی کے لیے، تو گویا اُس نے شہادت کی زندگی بسر کی۔

ہم میں سے جو لوگ شہادت کو موت سے تعبیر کرتے ہیں، وہ درحقيقت اِس راز سے آشنا نہیں کہ شہادت موت نہیں بلکہ زندگی کا نام ہے۔ ایسی زندگی جس میں ہر کام معشوق حقیقی کی رضا کے لیے انجام دیا جا رہا ہے۔ شہادت کی زندگی میں حتیٰ کہ کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا جیسے چھوٹے امور بھی اپنے رب کی رضا کی خاطر انجام دیئے جاتے ہیں۔ شہادت کا لفظ سنتے ہی جو پہلا خیال عموماً ذہن میں ابھرتا ہے، وہ گولی، خون بھری لاش، نفسا نفسی کا عالم اور موت کے ڈیرے مراد لیا جاتا ہے، جو سراسر غلط ہے۔ شہادت موت نہیں بلکہ زندگی کا نام ہے۔ رب کی رضا کے حصول کی خاطر اپنی پوری زندگی قربان کر دینے کا نام شہادت ہے۔ ہم جب اپنے حلقہ احباب میں شہادت کے اس مفہوم کو بیان کرتے ہیں تو پہلا سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ آج کونسی جنگ جاری ہے، جو اتنے زور و شور سے شہادت کا تذکرہ کیا جا رہا؟ ایسے لوگوں کے لیے کربلا فقط سن اکسیٹھ ہجری کا ایک سانحہ تھا۔ کل یوم عاشورہ فقط ایک نعرہ تھا، پکار نہیں۔ ھل من ناصر کی صدا اُس دور کے لیے تھی، آج کے لیے نہیں۔

آیئے شہداء کی مناجات کے ذریعے شہادت کے مفہوم کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر یہ دیکھتے ہیں کہ آج کی کربلا میں مدافعین حرم و ولایت نے کیا کام انجام دیا اور کیسے امام دوراں (عج) کے حقیقی سپاہی کہلاٸے۔ ایک شہید اپنی مناجات میں کہتے دکھاٸی دیتے ہیں کہ خدایا اگر تیرا دین خطرے میں ہو تو میرے اس سر کی کیا قدر و قمیت؟ بار الہا! تیرے دین کی حفاظت کے لیے مجھ ناچیز کا سر بھی حاضر ہے۔ خدایا مجھے بھی اس شہادت کی شیرنی چکھا دےو جس کے لیے تیرے مخلص بندے گریہ و زاری کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک شہید شب کی تاریکی میں یہ مناجات کرتے دکھاٸی دیتے ہیں کہ ممکن نہیں ہے کہ ہم شہادت کے مفہوم سے آشنا ہی نہ ہوں اور امام حسین علیہ السلام سے عشق کریں۔ یعنی اگر کوٸی خود کو عاشق حسین کہتا ہے تو لازمی ہے کہ وہ شہادت کے مفہوم سے آشنا ہو۔ عاشق حسین علیہ السلام، عاشق شہادت ہوتا ہے۔

شہید مرتضی آوینی کہا کرتے تھے کہ جو موت سے خوفزدہ رہتے ہیں، وہ کربلا سے دور کر دیئے جاتے ہیں۔ یہ وہ شہداء تھے، جو قول و فعل میں حسین ابن ِعلی کے عاشق تھے اور حسین علیہ السلام کے اس فرمان کے عملی مصداق تھے کہ بستر پر ایڑیاں رگڑتے رگڑتے مرنے سے بہتر ہے کہ انسان خدا کی راہ میں تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاٸے۔ شہادت کے مفہوم کو جاننے کے بعد یہ ضروری ہے کہ ہم جانیں کہ کیسے شہادت کے جذبے کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے؟ اس حوالے سے شہید مصطفیٰ صدر زادہ کہتے ہیں کہ اگر آپ چاہتٕے ہیں کہ آپ کی زندگی کے کاموں میں برکت ہو تو شہداء کے گھر والوں کی ملاقات کو جایا کریں۔ شہداء کا زندگی نامہ پڑھیں، کوشش کریں کہ آپ کے اندر شہادت کے جذبے کی پرورش ہو۔ وہ احباب جو شہادت کے مفہوم سے بخوبی آشنا ہیں، وہ معاشرے میں آکر کام نہیں کرتے، اُن کا اعتقاد ہے کہ گمنامی کی زندگی بسر کریں۔

اس میں کوٸی شک نہیں کہ گمنامی میں عافیت ہے، مگر امام کے اس فرمان کا ہرگز مطلب نہیں کہ ہم معاشرے سے جدا ہو جاٸیں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے امور انجام نہ دیں۔ گمنامی کا یہ مفہوم سراسر غلط ہے اور ہمیں گمنامی کے اصل مفہوم سے آشنا ہونے کی ضرورت ہے۔ گمنامی یعنی کام کریں تو فقط رضاٸے الہیٰ کے لیے۔ گمنامی فقط شہداء کے لیے نہیں۔ اگر ہم بھی چاہتے ہیں کہ حضرت زہراء کے گمنام سپاہی بنیں تو لازم ہے کہ خدا کے لیے کام کریں، نہ کہ خلق خدا کے لیے اور یہ کتنی خوبصورت گمنامی ہے۔ یہی وہ گمنامی ہے جسے مدافعین حرم نے شب کی تاریکیوں میں حضرت فاطمہ زہراء سلام علہیا سے مانگا۔

مدافعین حرم وہ جوان تھے، جنہوں نے اپنی پاکیزہ جوانیاں سیدہ زینب سلام علیہا کے حرم پر قربان کر دیں۔ یہ بھی آپ اور میری طرح کے عام جوان تھے، اِن کی بھی ہزاروں خواہشیں تھیں، مگر یہ دنیا کے حریص نہ تھے۔ یہ سبک رفتار تھے۔ انہوں نے کربلا کو ہر چیز پر فوقیت دی اور بتایا کہ شہادت اتفاق نہیں انتخاب ہے، ایک آگاہانہ انتخاب۔ آج اگر کوٸی ہم سے کہے کہ ظہور ہونے والا ہے تو ہمارا دل ڈوبنے لگتا ہے۔ بے ساختہ دل سے آواز آتی ہے کہ اتنی جلدی؟ ابھی ہم تیار نہیں۔ اگر ہم آج ظہور کے معرکے کے لیے تیار نہیں تو کل امام وقت کی نصرت کے لیے جان کی قربانی کیسے پیش کریں گے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ شہداء کی زندگیوں کا مشاہدہ کریں، تاکہ درس لیں کہ کیسے اپنے فانی وجود کو بلند مقام تک لے جایا جاسکتا ہے۔ شجاعت، جرات، وفا، صبر و استقامت کا درس لیں اور اپنے نفس سے جہاد کا آغاز کریں، تاکہ ما عاشق شہادتیم کے مفہوم کو سمجھ سکیں۔
خبر کا کوڈ : 1002717
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش