0
Sunday 31 Jul 2022 14:30

اسلام کی بقاء ہے کربلا

اسلام کی بقاء ہے کربلا
تحریر: حسنین حیدر

رسول اللہﷺ کی ذات دینِ الہیٰ لے کر مبعوث ہوٸی اور آپﷺ نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کیلٸے ایک سیٹ اپ تشکیل دیا، ایک نظام تشکیل دیا، طریقہ کار وضع کیا۔ یہ نظام کوٸی نیا نہیں تھا بلکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام بھی الہیٰ تعلیمات لے کر آٸے، لیکن ہر زمانے میں مختلف تقاضوں کے تحت، معاشروں کی ڈیمانڈ کے مطابق احکامات یا نظام ہوتا، کیونکہ "ان دین عند اللہ الاسلام" کہ "خدا کے نزدیک دین فقط اسلام ہے۔" خدا کے نزدیک دین فقط اسلام ہے تو باقی ادیان کیا حیثیت رکھتے ہیں۔؟ باقی تمام ادیان اسلام سے انحراف کا نام ہے۔ اسلام حجتِ خدا ہے۔ جب لوگوں نے اسلام سے روگردانی کی، جب الہیٰ اصول و ضوابط سے رخ موڑا تو کوٸی آگ کو پوجنے لگ گیا تو کوٸی آفتاب و قمر کو! کسی نے عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہا تو کسی نے انہیں خدا تک مان لیا۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ نوبت یہاں تک کیوں پہنچی؟ اس کیلٸے جنابِ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کا مشاہدہ یا ان پر تجزیہ ضروری ہے۔ البتہ بندے کی ناقص العقل تحقیق میں انکے اصل جانشیں کی بجاٸے کچھ ایسے لوگ آٸے، جو درِ پردہ باطل تھے، مگر تھے حواری، مشہور نام سینٹ پال کا ہے۔

غدیر اور اسلام:
اسلام کی تکمیل کی مہر غدیر ہے۔ غدیر کیا ہے؟ جب رسولِ اکرمﷺ معاشرے کی تشکیل کے مراحل سے گزر کر، ایک ریاست کا قیام عمل میں لاتے ہیں، اسلامی حدود و قیود متعین فرماتے ہیں، وظیفہ رسالت ادا کرتے ہیں تو آپﷺ کو آگاہ کر دیا جاتا ہے کہ اب آپ کا فریضہ پورا ہوا۔ مگر ایک کام آپ کے ذمہ باقی ہے، جسے کہ ادا کرنا ہے، ورنہ حقِ رسالت گویا ادا ہی نہیں ہوا۔ المختصر، رسول اللہﷺ اعلانِ حج کراتے ہیں اور سوا لاکھ سے زاٸد مسلمان آپﷺ کی رہنماٸی میں حجِ بیت اللہ ادا کرتے ہیں۔ چونکہ رسالت تمام ہوچکی تھی، اب ریاستِ اسلامی کو چلانے کیلٸے ناٸبِ رسولﷺ کا ہونا ضروری تھا تو پس آپ (ص) حج کے مختلف مراحل میں امام علی علیہ السلام کی مدحت سراٸی کرتے ہوٸے لوگوں کو اپنے بعد کے رہنماء کی درست معرفت کرواتے نظر آٸے۔ حج کے بعد واپسی پر ایک مقام ایسا بھی آیا کہ جہاں سب نے جدا ہونا تھا، رسول اللہﷺ سب کو رکوایا، جو آگے پیچھے تھے، انہیں اس مقام پر جمع کروایا۔

اس موقع محسنِ انسانیتﷺ نے حق جتاتے ہوٸے فرمایا کہ کیا میں تمہارے نفسوں پر مقدم نہیں؟ سب نے یک زبان جواب دیا کہ آپ ہیں۔ آپ (ص) نے فرمایا کہ "من کنت مولا فھذا علی مولا" کہ "جس جس کا میں مولا ہوں، اس اس کا علی مولا۔" یعنی اب امت کی سالاری میرے بعد علی (ع) کے ہاتھ میں ہے۔ جیسا کہ فرمانِ نبوی (ص) ہے کہ "اے علی (ع) تجھے مجھ سے وہی نسبت ہے جو موسیٰ (ص) کو ہارون (ص) سے تھی مگر میرے بعد کوٸی نبی نہیں۔" بعض لوگ مولا کا معنی دوست کے مطلب میں کرتے ہیں۔ روایات میں درج ہے کہ دو حضرات بخ بخ کرتے مولا علی (ع) کی خدمت میں حاضر ہوٸے اور کہا کہ اب سے آپ ہمارے اور تمام مسلمین کے مولا ہیں۔ ایک نکتہ بخ بخ کا مطلب مبارک نہیں، عربی میں مبارک کیلٸے مبروک جیسے الفاظ راٸج ہیں، جبکہ بخ بخ کا معنی واہ واہ ہے۔ جملے کا سینس بتلا رہا کہ مولا کا اصحاب کے نزدیک کیا معنی تھا۔؟ آج سے ہمارے اور تمام مسلمین کے مولا یعنی دوست؟ کیا پہلے نہیں تھے۔؟

بعد از غدیر، سقیفہ:
غدیر میں اپنے تین روزہ قیام میں رسول اللہﷺ خیمہ نسب کرواتے ہیں اور تین دن تک امام علی علیہ السلام کو ساتھ بِٹھا کر اصحاب سے مولا علی علیہ السلام کی بیعت لیتے ہیں۔ غالباً تیسرے روز ابنِ فہری داخل ہوتا ہے اور تکرار کرتے ہوٸے گویا ہوتا ہے کہ آیا یہ خدا کا حکم ہے یا آپ اپنی طرف سے علی (ع) کو ہمارا حاکم و ولی بنا رہے۔؟ رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ یہ خدا کا حکم ہے۔ یہ کہتے ہوٸے باہر نکلتا ہے کہ اگر خدا کا حکم ہے تو مجھ پر خدا آسمان سے عذاب نازل فرماٸے۔ کچھ ہی دور ہوتا ہے کہ آسمان سے پتھر نازل ہوتا ہے اور ابنِ فہری وہیں ہلاک ہو جاتا ہے۔ ابنِ فہری کے متعلق ہمیں کیا عبرت یا کیا نکتہ میسر آتا ہے؟ ابنِ فہری کوٸی فردِ واحد نہیں! یہ ایک پوری تنظیم کی نماٸندگی کا نام ہے، جو خفیہ طور پر تیار ہوچکی تھی۔ جس کے دل میں بغضِ علی تھا۔ جن کے دلوں میں ذرا بھر بھی مودت نہ تھی۔ یوں یہ رسول اکرم (ص) سے پوچھنے اجرِ رسالت آٸے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 1006937
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش